سرحد پار سے درانداز ی کے 551 واقعات پیش،75جنگجو ازجان :مرکزی حکومت
سرینگر:مرکزی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میںگزشتہ برس کے دوران سرحد پار سے درانداز ی کے 551 واقعات پیش آئے جس دوران75جنگجوﺅں کو ہلاک کردیا گیا۔وزارت داخلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ریاست میں گزشتہ تین سال کے عرصے میں تشدد کی وارداتوں کے نتیجے میں201فورسز اہلکار اور72عام شہری بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مانیٹرنگ کے مطابق امورداخلہ کے مرکزی وزیر مملکت کرن ریجی جو نے منگل کولوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میںجموں کشمیر میںسرحد پارسے جنگجوﺅں کی دراندازی کے بارے میں اعدادوشمار ایوان کے سامنے رکھے اور اس طرح کے واقعات پر قابو پانے کےلئے اٹھائے جارہے اقدامات کی جانکاری فراہم کی ۔
وزیر موصوف نے انکشاف کیا کہ سال2017میں ریاست میں سرحد پار سے مجموعی طوردراندازی کی551کوششیں کی گئی جس دوران75 جنگجوﺅں کو ہلاک کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سال2016میں دراندازی کی454کوششوں کے دوران45جنگجو مارے گئے۔کرن ریجی جو کے مطابق سال2015میں دراندازی کے223واقعات پیش آئے جن میں64جنگجوﺅں کو ہلاک کردیا گیا۔اسی طرح2014کے دوران اس طرح کی222 کوششوں کے دوران 52جنگجوﺅں کو ہلاک کیا گیا۔
وزیر موصوف نے ایوان کو اس بات سے آگاہ کیا کہ دراندازی پر قابو پانے کےلئے ہم رُخی اپروچ اختیار کیا گیا ہے جس کے تحت لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحدوں کی کڑی نگرانی عمل میں لائی جارہی ہے اور ایسے علاقوں میں فورسز کی خصوصی تعیناتی کی گئی ہے جہاں سے جنگجوﺅں کی دراندازی کا خطرہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ضمن میں کنٹرول لائن اور سرحدپر تار بندی کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں جبکہ دراندازی پر نظر رکھنے کے لئے جدید تکنیک کے استعمال کے ساتھ ساتھ فورسز کو ہر طرح کے ضروری اسلحہ اور آلات سے لیس کردیا گیا ہے۔
کرن ریجی جو نے کہا کہ ان واقعات پر قابو پانے کے لئے انٹیلی جنس اطلاعات جمع کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے جبکہ اندرون ریاست جنگجوﺅں کے خلاف موثر کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ کے ایم ا ین مانیٹرنگ کے مطابق لوک سبھا میںہی ایک اور سوال کے تحریری جواب میں ایک اورمرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ ہنس راج گنگا رام اہیر نے جموں کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں گزشتہ تین برسوں کے دوران تشدد اور ہلاکتوں سے متعلق اعدادوشمار پیش کئے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ2015اور2017کے درمیان جموں کشمیر کے اندر تشدد کی وارداتوں میں72عام شہری اور سیکورٹی فورسز کے201اہلکارمارے گئے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کے دوران ریاست میں مجموعی طور تشدد کی342وارداتیں پیش آئیں جن میں80فورسز اہلکار ہلاک ہوئے ۔ سال 2017 میں فورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان133جھڑپیں ہوئیں جبکہ97جنگجوﺅں کو گرفتار کیا گیا۔وزیر موصوف نے بتایا کہ رواں برس کے دوران اب تک ریاست میں پیش آئے تشدد کے28واقعات میں سیکورٹی فورسز کے4اہلکار اور8جنگجو ہلاک ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ سال2016کے دوران 322پرتشدد واقعات میں 150جنگجو اور فورسز کے82اہلکار ہلاک ہوئے ۔اس برس کے دوران 101مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں اور79جنگجوﺅں کو حراست میں لیا گیا۔
Comments are closed.