صدر اسپتا ل میں فائرنگ ،دو پولیس اہلکار ازجان ،جنگجو قیدی فرار ،ہائی الرٹ
سرینگر:اپنی نوعیت کی سنسنی خیز اورڈرامائی کارروائی کے دوران جنگجوﺅں نے صدر اسپتال سرینگر لائے گئے قیدیوں کی محافظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرکے ہتھکڑیوں میں جکڑے اپنے ایک پاکستانی کمانڈر کو چھڑا لیا اورخود بھی ایک اہلکار کی سروس رائفل اڑا نے کے بعد موٹر سائیکل پرفرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اس شوٹ آﺅٹ میں پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل سمیت2اہلکارہلاک ہوئے جس کے بعد شہر میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے مفرور جنگجوﺅں کی وسیع پیمانے پر تلاش شروع کردی گئی۔
سرینگر کے سری مہاراجا ہری سنگھ (ایس ایم ایچ ایس) اسپتال میں منگل کی صبح اُس وقت افراتفری پھیل گئی جب اسپتال کے شعبہ او پی ڈی کے باہر فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا ۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی پولیس کی ایک گاڑی اسپتال کے احاطے میں نمودار ہوئی اور اس میں موجود قیدی گاڑی سے نیچے اُترنے لگے تو اچانک گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں۔فائرنگ کے ساتھ ہی اسپتال کے اندر اور باہر موجود مریضوں، تیمارداروں اور دیگر لوگوں میں اتھل پتھل مچ گئی اور وہ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔
قیدیوں کی تعداد قریب نصف درجن تھی اور ان میں ایک پاکستانی جنگجوبھی شامل تھا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ دو مسلح جنگجو پہلے سے ہی اسپتال میں موجود تھے اور انہیں غالباً اس بات کی ٹھوس اطلاع تھی کہ قیدیوں کو اسپتال لایا جارہا ہے، جب قیدی گاڑی سے نیچے اُترے اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ان کےلئے ٹکٹ حاصل کرنے کی تیاریاں ہی کررہے تھے کہ فلمی انداز میں اچانک دوجنگجو نمودار ہوئے اورپولیس اہلکاروں کونزدیک سے گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دونوں اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کے ایک آفیسر نے کے ایم ا ین کو بتایا کہ یہ حملہ منظم منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا گیا اور حملہ کرنے والے جنگجو صرف اسی مقصد سے اسپتال کے باہر تاک میں بیٹھے ہوئے تھے ۔عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ اگر چہ مختصر مدت کےلئے جاری رہی، تاہم اس موقعے پر اسپتال میں چیخ و پکار اور بھاگم بھاگ کا ماحول بپا ہوا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ اسی افراتفری کے دوران قیدیوں میں شامل نوید جٹ عرف ابو حنظلہ عرف منوعرف چھوٹوولد محمد حنیف جٹ ساکن ساہیوالا ملتان پاکستان نامی جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔اس کے ہاتھ دو کلو گرام وزنی آہنی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور وہ ہتھکڑی سمیت بھاگ گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ اس قدرپھرتی کے ساتھ کیا گیا کہ حملہ کرنے والے جنگجو پلک جھپکتے ہی اپنے نظر بند ساتھی سمیت جائے واردات سے غائب ہوگئے۔ ابتدائی طور پر یہ بتایا گیا کہ ابو حنظلہ نے بھی اسکارٹ میں شامل ایک اہلکار کی سروس رائفل چھین کر فائرنگ کی ، تاہم بعد میں پولیس نے اس اطلاع کو غلط قرار دیا ۔دوسری جانب زخمی پولیس اہلکاروں کوفوری طور اسی اسپتال میں داخل کرایا گیا ، تاہم ان میں شامل ایک ہیڈکانسٹیبل زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔اس کا نام مشتاق احمد بتایا گیا ہے اور وہ کرناہ کپوارہ کا رہنے والا ہے۔دوسرا اہلکار بھی کچھ گھنٹوں تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا۔ اس کی شناخت کانسٹیبل بابر احمد ساکن شانگس اننت ناگ کے بطور ہوئی ہے۔ابو حنظلہ کے بارے میں پولیس نے کے ا یم ا ین کو بتایا کہ اس کا تعلق لشکر طیبہ نامی جنگجو تنظیم کے وسیم گروپ کے ساتھ ہے اور اسے پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے سال2014میں جنوبی ضلع کولگام کے یاری پورہ علاقے سے گرفتار کیا تھا جب سے وہ سینٹرل جیل سرینگر میں نظر بند تھا۔وہ2012سے جنوبی کشمیر میں سرگرم اورگرفتاری کے وقت وہ لشکر طیبہ کا ڈپٹی چیف تھا۔پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ جنگجو سال2015میں جاں بحق ہوئے لشکر کمانڈر ابو قاسم اور گزشتہ برس مارے گئے اسی تنظیم کے کمانڈر ابو دوجانہ کا قریبی ساتھی تھا۔
پولیس کے مطابق ابو حنظلہ سال2014کے انتخابات کے دوران ناگہ بل شوپیان میں ایک سکول ٹیچر اور اس سے قبل2013میں پلوامہ میں پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹرکی ہلاکت کے علاوہ بونہ گام شوپیان میں فورسز پر کئے گئے حملے اور فورسز اہلکاروں سے ہتھیار چھیننے کے کئی واقعات میں ملوث تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ واردات کے بعد ایک پولیس اہلکار کی سروس کارب ائن رائفل بھی غائب ہے۔
حملے کے کچھ ہی منٹ بعد پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد صدر اسپتال پہنچی اور اسپتال کے آس پاس کے علاقوں کی ناکہ بندی کرکے جنگجوﺅں کی تلاش شروع کی۔تاہم ڈی آئی جی وسطی کشمیر غلام حسن بٹ نے صدر اسپتال کے باہر نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران اس بات کی وضاحت کی کہ کسی قیدی نے پولیس اہلکار سے رائفل نہیں چھینی بلکہ یہ حملہ باہر سے آئے جنگجوﺅں نے کیا ۔انہوں نے کہا کہ قریب سات قیدیوں کو علاج و معالجہ کےلئے جیل سے اسپتال لایا گیا تھا اورحملہ آوروں نے ان کی محافظت پر مامور پولیس پارٹی پر حملہ کیا۔ڈی آئی جی نے اس حملے میں دو اہلکاروں کے ہلاک اور ایک غیر مقامی جنگجو کے فرار ہونے کی تصدیق بھی کی۔انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ جنگجو حملہ کرنے کے بعد موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ مفرور جنگجو اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
یہ حملہ سیکورٹی ایجنسیوں کےلئے اس اعتبار سے حیران کن ہے کہ سرینگر میں جنگجوﺅں کی سرگرمیوں کو نہ ہونے کے برابر قرار دیا جارہا ہے ، تاہم پولیس کا یہ دعویٰ ہے کہ جنگجو کسی اور علاقے سے آکر سرینگر میں کوئی کارروائی انجام دیتے ہیں۔حملے کے بعد پورے شہر میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام پولیس اسٹیشنوں کے نام ہنگامی بنیادوں پر ایڈوائزری جاری کی گئی۔پولیس اور سیکورٹی فورسز کو چوکس رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں، تاکہ جنگجوﺅں کو شہر کے باہر فرار ہونے کا موقعہ نہ ملے۔اس مقصد کےلئے شہر میں داخل ہونے والی تمام سڑکوں کے ساتھ ساتھ اندرون شہر سڑکوں اور چوراہوں پر ناکے بٹھائے گئے جہاں گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی کارروائی کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔
Comments are closed.