ہریانہ میں جموں وکشمیر کے 2 طالب علموں کا زدوکوب، 3 ملزمان سلاخوں کے پیچھے
سری نگر، : ریاست ہریانہ میں جموں وکشمیر کے ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے دو طالب علموں کو زدوکوب کرنے کے معاملے میں تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ واقعہ کی نسبت پولیس تھانہ مہندر گڑھ میں معاملہ بھی درج ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ سینٹرل یونیورسٹی ہریانہ کے دو طالب علموں آفتاب احمد اور امجد علی ساکنان ضلع راجوری کو جمعہ کے روز شرپسندوں کے ایک گروپ نے بلا کسی وجہ شدید زدوکوب کیا۔ زدوکوب کا نشانہ بنائے گئے ایک طالب علم کا کہنا ہے ’جمعہ کو ہم نماز کی ادائیگی کے لئے مہندر گڑھ مارکیٹ گئے۔ جب ہم نے ایک چوک میں اپنا موٹر سائیکل کھڑا کیا تو قریب 15 سے 20 افراد نے ہمیں بلا کسی وجہ پیٹنا شروع کردیا‘۔ آفتاب اور امجد سینٹرل یونیورسٹی ہریانہ سے جغرافیہ میں پوسٹ گریجویشن کررہے ہیں۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا ’ہم یونیورسٹی سے مہندر گڑھ کے لئے نکلے تھے۔ وہاں ہم نے نماز ادا کی۔ اور بھی کچھ کام تھے جو ہم نے نپٹائے۔ وہ لوگ شاہد ہمارا پہلے سے پیچھا کررہے تھے لیکن ہمیں اس کا شک نہیں ہوا۔ وہاں ایک چوک میں جب ہم نے اپنی بائیک کھڑی کی تو لڑکوں کا ایک گروپ آیا اور ہمیں مارنا شروع کردیا۔ ان کی تعداد 15 سے 20 تھی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ہمیں کیوں مار رہے ہو، لیکن انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ ہم نے کئی منٹوں تک مسلسل مارتے رہے۔ وہاں موجود لوگوں نے بھی ہمیں نہیں بچایا‘۔ جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے واقعہ پر اپنی شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ’مہندر گڑھ ہریانہ میں دو کشمیری طالب علموں کو پیٹنے کی خبروں نے مجھے حیران و پریشان کردیا ہے۔ میں متعلقہ انتظامیہ پر زور دیتی ہوں کہ وہ معاملے کی تحقیقات اور ملوثین کے خلاف سخت کاروائی کرے‘۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال نے محترمہ مفتی کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا ’ملزمان کو سزا ملے گی۔ طرفین کے مابین توتو میں میں موٹر سائیکل کے ٹکرانے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) موقع پر ہیں‘۔ محترمہ مفتی نے منوہر لال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’فوری کاروائی کرنے کے لئے آپ کی شکر گذار ہوں‘۔ ذرائع نے بتایا کہ ہریانہ پولیس نے زدوکوب کے واقعہ میں ملوث سات افراد کی شناخت کی ہے جن میں سے تین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ کی نسبت پولیس تھانہ مہندر گڑ میں درج کی گئی ایف آئی آر میں آئی پی سی کی 148 ، 149، 341 اور 323 دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ہریانہ کے پولیس سربراہ بی ایس سندھو نے بتایا کہ مارپیٹ میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ باقی چار کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے بتایا ’ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کی ایک ویڈیو کلپ کے ذریعے ملزمان کی شناخت کرنے میں مدد ملی۔ سبھی ملزم مقامی ہیں۔ تین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ باقی چار مفرور ہیں۔ ہمیں انہیں بھی جلد گرفتار کریں گے‘۔ تاہم پولیس سربراہ کے مطابق دونوں گروپوں کے درمیان توتو میں میں ہوئی تھی۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واقعہ پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا ’یہ ایک خوفناک واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ واقعہ وزیر اعظم نریندر مودی کی لال قلعہ سے تقریر (جس میں انہوں نے کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کی تھی) کی روح کے خلاف ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہریانہ میں انتظامیہ اس تشدد کے خلاف فوری کاروائی کرے گا‘۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’یہ جو پرپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ کشمیری دہشت گرد اور سنگباز ہوتے ہیں، کی وجہ سے کشمیری نوجوان قومی دھارے سے مزید دور ہوتے چلے جائیں گے‘۔ اس دوران جموں وکشمیر پولیس اور اس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے واقعہ کے حوالے سے سلسلہ وار ٹویٹس کئے۔ پولیس سربراہ نے کہا ’ میں ہریانہ کے ڈی جی پی کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ہریانہ پولیس نے واقعہ کا نوٹس لیا ہے‘۔ ریاستی پولیس نے ایک ٹویٹ میں کہا ’ہریانہ پولیس نے واقعہ کانوٹس لیا ہے۔ پولیس اسٹیشن مہندر گڑھ میں ایف آئی آر نمبر 53 مورخہ 2 فروری 2018 زیر دفعات 148، 149، 341 اور 323 درج کی گئی ہے‘۔
Comments are closed.