مذاکرات کو اپنی حکومت کا بنیادی فلسفہ قرار دیا:محبوبہ مفتی
جموں /2 0فروری وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے آج سیاحت، ماحولیات ، ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور ان سے منسلک شعبوں میں ریاست میں کراس ایل او سی اشتراک کی وکالت کرتے ہوئے مختلف طبقہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ریاست میں ایک خوشگوار تبدیلی لانے کے لئے مل جل کر کام کریں ۔
وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ماتحت محکموں کے مطالباتِ زر پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ریاست کی خوشحالی ممکن ہوسکے ۔انہوںنے ایوان کو سال 2005ءکے زلزلے کی یاد دلائی جس دوران کس طرح کے اشتراک کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ بچاﺅکارروائیوں کو ایک مو¿ثر ڈھنگ سے عمل میںلایا جاسکے۔
محبوبہ مفتی نے ریاست میں ایل او سی پر مزید راستوں کو کھولنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ارکان قانون سازیہ کے ایک گروپ نے ان کے ساتھ ملاقات کی اور ایل او سی کے اس پار شارداہ پیڈکا دور ہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ انہیں یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ حال ہی میں ایک میڈیا روپورٹ کہا کہ وہان ایک عدالت نے اس زیارت گاہ کی مناسب دیکھ ریکھ یقینی بنناے کی ہدایت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کئی ایک بار کہا ہے کہ جموں وکشمیر کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور یہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے ۔انہوںنے کہاکہ ان وسائل کو موثر ڈھنگ سے بروئے کار لانا جانا چاہیے تاکہ ریاست اور ملک ا س سے استفادہ کر سکیں۔
وزیرا علیٰ نے مذاکرات کو اپنی حکومت کا کلیدی فلسفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پہلو کی طرف خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور اس ضمن میں ایک مذاکرات کار بھی تعینات کیا گیا ہے ۔محبوبہ مفتی نے امید ظاہر کی کہ ریاست میں تمام طبقہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ یکجا ہو کر دینشور شرما کی طرف سے شروع کئے گئے مذاکراتی عمل شامل ہوجائیں گے تاکہ ریاست میں تشدد اور غیریقینیت کے دورکا خاتمہ ہوسکے ۔
ہیلنگ ٹچ پالیسی کو بڑھاوا دینے کی اُن کی کاوشوں کا ذکرکرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے ایسے 9700نوجوانوں کے کیس واپس لینے کا قدم اُٹھایا جن کے خلاف 2008ءسے پتھر بازی کے کیس التوا میں تھے ۔تاہم انہوں نے ان نوجوانوں اور ان کے والدین سے اپیل کی کہ وہ دوبارہ اپنی پڑھائی اور کام کاج میں جڑ کر معافی کی اس سکیم سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ اس قدم کے حوالے سے مثبت فیڈ بیک ملنے پر حکومت اس طرح مزید نوجوانوں کے معاملات کا بھی جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے مرکزی اور ریاستی سرکاروں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے ۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ اُن کی حکومت چاہتی ہے کہ افسپا جیسے قوانین واپس لئے جائیں اور اس کے لئے ایک ساز گار ماحول قائم کیا جائے ۔انہوںنے اس بات کے لئے افسوس کا اظہار کیا کہ تشدد بڑھتے ہی حفاظتی عملے کی موجودگی بھی بڑ ھ جاتی ہے ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ امن کو موقعہ دیں تاکہ زمینی سطح پر ایک خوشگوار تبدیلی رونماہوسکے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ سیاسی سطح پر لوگوں تک پہنچنے اور انہیں مسائل کے اس دور سے نکالنے کی ضرورت ہے ۔ کہا کہ اس حوالے سے مین سٹریم سیاسی پارٹیوں کو ایک اہم رول ادا کرنا ہوگا۔
شوپیاں میں پیش آئے حالیہ حادثہ پر بولتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فوج کا اپنا ایک کردار ہے لیکن جب کوئی غلط کام ہوتا ہے تو کام اپنا کام کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیرا نگر میں کمسن بچی کی موت کی تحقیقات کرنے کے لئے حکومت نے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات کو جلد نتیجہ تک پہنچانے کے لئے معاملہ کرائم برانچ کے سُپرد کیا گیا ہے۔
ترقیاتی منظر نامے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں ترقیاتی پروجیکٹوں کو ہاتھ میں لیتے وقت ایک موثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی برسوں سے التواءمیں پڑے ہوئے پروجیکٹوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے حکومت نے فائنانشل کلوزر اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ200 کروڑ روپے کی مالیت کی واٹر سپلائی سکیموں کا منصوبہ نبارڈ کو پیش کیا جارہا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ترقیاتی پروجیکٹوں کی تکمیل کے سلسلے میں رقومات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کام کی شروعات کے ساتھ ہی ان کی تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں نوجوانوں کو بغیر تنخواہ کے کام پر لگایا جاتا تھا مگر ہم نے اس مشق پر قدغن لگائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں پانچ میڈیکل کالجوں کی تعمیر پر کام جاری ہے اور ان کالجوں کو جلد کارگر بنانے کے لئے اسامیوں کو معرض وجود میں لایا گیا ہے۔
عوامی رسائی پروگرام کے دوران مقامی ممبرقانون سازیہ کو اعتماد میں نہ لینے پرحزب اختلاف کے کچھ ممبران کے الزامات کو رد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے پروگرام کے دوران لوگوں کی فلاح کے لئے بغیر کسی سیاسی وابستگی کے فنڈز واگذار کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی رسائی کے پروگراموں کے دوران لوگوں نے عوامی اہمیت کے حامل کاموں بشمول نہروں کی صفائی،نالوں پرحفاظتی باندھوں کی تعمیر شامل ہیں، اُجاگر کئے تھے جس کے لئے فنڈز دستیاب رکھے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مختلف سکیموں کے تحت کالج عمارتوں کی تعمیر کی جارہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ اُن کی حکومت کی سب سے اہم کامیابی پولیس اور سول انتظامیہ میں اسامیوں کی بھرتیاں میرٹ کی بنیادوں پرشفاف طریقے سے عمل میں لائی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکموں میں سٹیگنیشن کو ختم کرنے کے لئے کیڈر رویو کئے جارہے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ کے تسلی بخش جواب کے بعد ممبران نے اپنی تحاریک تخفیف واپس لے لیں۔
بعد میں ایوان نے وزیر اعلیٰ کے ماتحت محکموں کے لئے سال2018-19 کے لئے9449.19 کروڑ روپے کے مطالبات زر صوتی ووٹ سے پاس کئے۔
اس سے قبل مطالبات زر پر جاری بحث میں عمر عبداللہ، سکھ نندن کمار، نوانگ ریگزن جورا، حکیم محمد یٰسین، محمد یوسف بٹ، ست پال شرما، چوہدری قمر حُسین، بشیر احمد ڈار، نیلم کمار لنگے، ایم وائی تاریگامی، جاوید حسن بیگ، جیون لال اور شاہ محمد تانترے نے حصہ لیا۔
Comments are closed.