مزاحمتی قیادت کی اپیل پر نماز جمعہ کے بعد احتجاج وادی میں حقوق انسانی کی پامالیوں پر عالمی اداروں سے مداخلت کی اپیل
سرینگر /26مئی
سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کی اپیل پر نماز جمعہ کے بعد مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اخباری بیان کے مطابق سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ سرینگر کے مائسمہ علاقے میں منعقد ہوا، جس میں آزادی پسند قائدین نور محمد کلوال، راجہ معراج الدین، شوکت احمد بخشی، الطاف احمد شاہ، شیخ عبدالرشید، سید امتیاز حیدر، سراج الدین میر، رمیز راجہ، محمد یٰسین بٹ، عمر عادل ڈار، محمد صدیق شاہ، اشفاق احمد خان، پروفیسر جاوید احمد، شکیل بٹ، عبدل احد بٹ، خورشید احمد پرے اور سجاد احمد گنائی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے شوکت احمد بخشی نے کہا کہ مسٹر گگوئی کی حوصلہ افزائی کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور انسانی قدروں کی سنگین خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف بھی ہے۔ یہ فاروق احمد ڈار نامی اس نوجوان کے وقار اور عزتِ نفس کی توہین کرنے کے برابر ہے، جس کو فوجی افسر نے جیپ سے باندھ کر گاؤں گاؤں گھمایا اور مارا پیٹا بھی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی میجر اس معاملے میں سراسر جھوٹ بول رہا ہے کہ فاروق احمد ڈار پتھراؤ کرنے والوں کا رنگ لیڈر (Ring Leader)تھا اور اس کو جیپ سے باندھ کر میں نے انسانی زندگیوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی الیکٹرانک میڈیا بھی ایک شرمناک رول ادا کررہا ہے اور وہ میجر گگوئی کے سفید جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس موقعے پر راجہ معراج الدین نے کہا کہ عالمی برادری بھارتی فوج کے جنگی جرائم کا نوٹس نہیں لیتی اور میجر گگوئی کو انعام سے نوازنے پر چُپ سادھ لیتی ہے تو جموں کشمیر میں نہتے شہریوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات اور انہیں انسانی ڈھال بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوجائے گا اور اخلاقی طور اس کی ذمہ دار عالمی برادری بھی قرار پائے گی اور اس کی اعتباریت کو نقصان پہنچے گا۔ راجہ معراج الدین نے اپنی تقریر میں اس واقعے کو ریاستی دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیریوں کے تئیں بھارت کی پالیسی کا آئینہ دار ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو صرف جموں کشمیر کی سرزمین سے مطلب ہے اور اس پر اپنا جبری قبضہ برقرار رکھنے کے لیے انہیں تمام کشمیریوں کو بھی قتل کرنا پڑے تو وہ دریغ نہیں کریں گے۔ جب سے جن سنگھی لوگ دلی کے تخت پر بیٹھے ہیں، اس ملک کا جمہوری دعویٰ خاک میں ملادیا گیا ہے اور یہ ایک ہندو راشٹر بننے کے راستے پر گامزن ہوگیا ہے۔ انہوں نے البتہ خبردار کیا کہ کشمیری قوم بھارت کے جابرانہ اقدام سے مرعوب نہیں ہوں گے اور مظالم کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اس سے پہلے حریت لیڈر شیخ عبدالرشید نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ بھارت کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کو اپنی ملٹری طاقت سے دبانے کی کوشش کررہا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے اپنی فوج کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ جیسا کہ بھارتی حکمرانوں کے تازہ بیانات سے بھی ثابت ہوا ہے۔ ایک نہتے شہری کو جیپ سے باندھنے کا واقعہ اس فوجی افسر کا ذاتی فعل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک منصوبہ بند پالیسی ہے، جس کو دلی والوں نے ہری جھنڈی دکھائی ہے۔ اس موقعے پر مقررین نے نوجوانوں اور خاص کر طالبعلموں کے خلاف جاری کریک ڈاؤں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور تمام نظربندوں کی فوری رہائی پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ متعدد طالب علموں کے خلاف کئی کئی تھانوں میں ایف آئی آر درج کرائے گئے ہیں۔ وہ ایک تھانے سے چھوٹ جاتے ہیں اور ان کی ضمانت ہوجاتی ہے، تو دوسرے تھانے والے ان کو گرفتار کرتے ہیں۔ آزادی پسند قائدین نے خبردار کیا کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو حریت کانفرنس اپنے بچوں کو ریاستی دہشت گردی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑے گی اور اس کے خلاف ایک منظم پروگرام مشتہر کیا جائے گا۔ حریت لیڈروں نے عالمی عدالتِ انصاف (ICJ)سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کی مجموعی صورتحال اور نہتے شہری کو جیپ سے باندھنے کے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لے اور مذکورہ فوجی افسر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ اس موقعے پر لوگوں نے آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کئے اور عہد کیا کہ بھارت کے جبری قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد ہر قیمت پر اور ہر صورت میں جاری وساری رہے گی۔
Comments are closed.