صحافیو ں کو آن لائن دھمکی دینے کا معاملہ :کئی صحافیوں کی رپائشگاہوں کے علاوہ 12مقامات پر چھاپے

سرینگر /19نومبر /
جموں کشمیر پولیس نے صحافیو ں کو آن لائن دھمکی دینے کے معاملے میں تحقیقات تیز کرتے ہوئے سرینگر ، کولگام اور اننت ناگ میں کچھ صحافیوں کی رہائشگاہوں کے ساتھ ساتھ 12مقامات پر چھاپے ڈالیں اور تلاشیاں لی ۔ ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ مشتبہ افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے بھی طلب کر لیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کے کچھ صحافیوں کو آن لائن دھمکی ملنے کے معاملے پر جموں کشمیر پولیس نے وادی بھر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے جن میں کئی صحافیوں کی رہائش گاہیں بھی شامل ہیں۔پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ایک ملی ٹنٹ تنظیم کی طرف سے صحافیوں کو دی گئی حالیہ دھمکی کے تناظر میںسرینگر پولیس نے کشمیر بھر میں مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپے ڈالیں اور تلاشیاں لی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر نمبر 82/2022جو کہ پولیس اسٹیشن شیر گڑھی میں صحافیو ں کو دھمکی دینے کے معاملے میں درج ے کی تحقیقات کیلئے پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی گئی جس کے بعدایس پی ساو¿تھ سٹی سری نگر لکشیا شرما کی نگرانی میں سرینگر، اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں سجاد گل، مختار بابا، لشکر طیبہ کے سرگرم عسکریت پسندوں اور دیگر مشتبہ افراد جیسے مفروروں کے گھروں سمیت وادی بھر میں 12 مقامات پر بیک وقت تلاشی لی گئی ۔ بیان میں لکھا گیا کہ جہاں چھاپے ڈالیں گئے ان میں سرینگر کے نگین علاقے میں محمد رفیع، اننت ناگ میں خالد گل، لال بازار میں راشد مقبول، عیدگاہ میں مومن گلزار، کولگام میں باسط ڈار، رعناواری میں سجاد کرالیاری، صورہ میں گوہر گیلانی، اننت ناگ میں قاضی شبلی ایچ ایم ٹی سرینگر میں سجاد شیخ عرف سجاد گل، نوگام میں مختار بابا، راولپورہ میں وسیم خالد اور خانیار سری نگر میں عادل پنڈت کے رہائشی مکان شامل ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ تلاشی کے دوران، تمام قانونی ضابطوں کی پیشہ ورانہ طور پر پیروی کی گئی اور تلاشی کے نتیجے میں کچھ مشتبہ افراد کو جانچ اور پوچھ گچھ کیلئے لایا گیا ہے۔ متعلقہ سرچ ٹیموں کے ذریعے ضبط کیے گئے مواد میں موبائل، لیپ ٹاپ، میموری کارڈ، پین ڈرائیوز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز، دستاویزات، بینک کے کاغذات، ربڑ سٹیمپ، پاسپورٹ، دیگر مشتبہ کاغذات، نقدی، سعودی کرنسی وغیرہ شامل ہیں۔بیان میں لکھا ہے کہ فوری طور پر کیس کی تفتیش زوروں پر ہے اور عام لوگوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ اس کیس سے متعلق کوئی بھی معلومات ہوتو سرینگر پولیس کے نوٹس میں لائیں۔

Comments are closed.