وزیر اعظم مودی نے اروناچل پردیش میں پہلے گرین فیلڈ ہوائی اڈے ’دونی پولو ہوائی اڈہ ‘ کا افتتاح کیا
وزیر اعظم مودی نے اروناچل پردیش میں پہلے گرین فیلڈ ہوائی اڈے ’دونی پولو ہوائی اڈہ ‘ کا افتتاح کیا
سرینگر /19نومبر /
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایٹانگر میں دونی پولو ہوائی اڈے کا افتتاح کیا اور 600 میگا واٹ کے حامل کامینگ پن بجلی اسٹیشن کو قوم کے نام وقف کیا۔ اس ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد فروری 2019 میں خود وزیر اعظم کے ذریعہ رکھا گیا تھا۔ وبائی مرض کی وجہ سے درمیان میں پیدا ہوئیں چنوتیوں کے باوجود، ایک چھوٹی سی مدت میں ہی ہوائی اڈے کا کام مکمل کر لیا گیا۔سی این آئی کے مطابق اس موقعہ پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اروناچل کے اکثر کیے گئے اپنے دوروں کو یاد کیا اور بڑے پیمانے پر منعقد کیے جا رہے آج کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ریاست کی ترقی کے لیے اروناچل پردیش کے عوام کی عہدبندگی کی ستائش کی۔انہوں نے اروناچل کے عوام کی خوش مزاجی اور نظم و ضبط کی پابندی سے متعلق ان کی عادات کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے کام کاج کے تبدیل شدہ رواج کا ذکر کیا ، جس کے تحت وہ ایک پروجیکٹ کے سنگ بنیاد رکھنے اور اس کے آغاز کی روایت قائم کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ہوائی اڈے کا افتتاح ان ناقدین کو زبردست جواب ہے جنہوں نے اس ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد رکھے جانے کو ایک سیاسی شعبدہ بازی قرار دینے کی کوشش کی تھی۔ وزیر اعظم نے سیاسی ماہرین سے اپنا طرز فکر تبدیل کرنے اور ریاست کے ترقیاتی کاموں کو سیاسی فوائد کی عینک سے دیکھنا بند کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اپنی بات پر زور انداز میں پیش کرنے کے لیے اس حقیقت کا ذکر کیا کہ یہ ریاست نہ تو انتخابات کے عمل سے گزر رہی ہے اور نہ ہی ریاست میں مستقبل میں کوئی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔ حکومت کی ترجیح ریاست کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں اپنے دن کا آغاز ابھرتے ہوئے سورج کی ریاست سے کر رہا ہوں اور میں اپنے دن کا اختتام دمن میں کروں گا جہاں سورج غروب ہوتا ہے اور درمیان میں، میں کاشی میں رہوں گا۔“وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد کے دور میں، شمال مشرقی خطے نے بے حسی اور بے توجہی کا رویہ برداشت کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی جی کی حکومت کے دوران اس خطے پر توجہ مرکوز کی گئی اور شمال مشرق کے لیے ایک علیحدہ وزارت تشکیل دی گئی۔ بعد ازاں، یہ رفتار کہیں کھو گئی۔ لیکن 2014 کے بعد ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ ”اس سے پہلے، دوردراز واقع سرحدی مواضعات کو آخری گاﺅں سمجھا جاتا تھا۔ ہماری حکومت نے ان سرحدی علاقوں کے مواضعات کو ملک کا اولین گاﺅں تسلیم کرکے کام کیا۔ خواہ سیاحت ہو یا تجارت، ٹیلی مواصلات ہو یا کپڑے کی صنعت، شمال مشرق کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ ‘
Comments are closed.