پرائیویٹ ٹیوشن مراکز پر سرکاری اساتذہ کی خدمات پر پابندی عائد

سرینگر18نومبر/
سرکار نے سرکاری اساتذہ کے ذریعے پرائیویٹ ٹویشن پر مکمل طورپر پابندی عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر کہیں پر بھی کوئی سکول ٹیچر، پروفیسر ،لیکچرار کسی بھی پرائیویٹ ٹیوشن مراکز پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا تو اسکے خلاف ضابطے کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی ۔ اس ضمن میں پرنسپل سیکریٹری برائے سکولی تعلیم آلوک کمارنے کہا ہے کہ سرکاری اساتذہ کی جانب سے پرائیویٹ ٹیوشن مراکز چلانے کی شکایات موصول ہونے کے بعد یہ اقدام اُٹھایا گیا ہے۔ سی این آئی کے مطابق حکومت نے جمعہ کو محکمہ سکول ایجوکیشن کی ٹیچنگ فیکلٹی کے ذریعہ پرائیویٹ ٹیوشن سمیت کسی بھی سرگرمی یا اسائنمنٹ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے پرنسپل سیکریٹری آلوک کمار نے کہا ہے کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی ٹیچنگ فیکلٹی کے کچھ ممبران پرائیویٹ اداروں میں کوچنگ اسائنمنٹس لے رہے ہیں۔ جموں و کشمیر گورنمنٹ ایمپلائز (کنڈکٹ) رولز 1971 کے رول 10 کے ساتھ ساتھ آر ٹی ای ایکٹ 2009 کے باب (IV) سیکشن 28 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسکول کے اوقات کے دوران بھی مراکز کوچنگ لے رہے ہیں۔کمار نے ایک سرکلر میں حکم دیا، "کوئی ٹیچنگ فیکلٹی نجی تعلیمی ادارے یا کوچنگ سنٹر میں پڑھانے سمیت کوئی بھی سرگرمی یا اسائنمنٹ نہیں کرے گا، جب تک کہ وہ مجاز اتھارٹی سے پیشگی منظوری حاصل نہ کرے۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی، ضابطہ اخلاق کے مطابق، مجرم افسروں/ اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائیگی ۔ انہوںنے کہا کہ پرائیوٹ سکولوں کے اساتذہ کو جو تنخواہیںمل رہی ہیں وہ صرف سرکاری تعلیمی اداروں میں اپنی خدمات انجام دینے کےلئے دی جارہی ہے اور اگر پرائیویٹ سیکٹر کی بات کریںتو پرائیویٹ سیکٹر کے اساتذہ سرکاری اساتذہ کے دس فیصدی تنخواہ نہیںلے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سرکار نے اس سے پہلے بھی پرائیویٹ ٹیوشن مراکز میں سرکاری اساتذہ کی خدمات پر پابندی عائد کی تھی تاہم سرکاری اساتذہ پرائیویٹ پریکٹس بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Comments are closed.