کشمیر ی عوام نے دہائیوں تک بہت نقصان اٹھایا ہے اور اب انہیں ہمدردی اور مدد کی ضرورت
ملک میں گھناو¿نے جرائم کے مقدمات کی سماعت کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا انتظام کیا گیا /کرن رججو
سرینگر /17نومبر /
کشمیر ی عوام نے دہائیوں تک بہت نقصان اٹھایا ہے اور اب انہیں ہمدردی اور مدد کی ضرورت ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے مرکزی وزیر قانون کرن رججو نے کہا کہ جموں کشمیر کی تصویر اب بدل چکی ہے اور اب کچھ لوگ نہیں بلکہ سارا عوام حکومت کی جانب سے رائج کردہ اسکیموں سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ اسی دوران انہوں نے ایک مرتبہ پھر کشمیر پر تحریر کردہ مضمون کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ”کشمیر پر میرا مضمون میرے اپنے الفاظ نہیں ہیں، یہ پنڈت نہرو اور اس وقت کے تمام حکومتی تبادلوں کا پارلیمانی ریکارڈ ہے“۔ سی این آئی کے مطابق مرکز ی وزیر قانون کرن رجیجو نے جمعرات کو اننت ناگ کا دورہ کیا جس دوران انہوں نے وہاں میڈیا سے بات کی ۔ اس موقعہ پر انہوں نے بتایا کہ کشمیر کے لوگوں نے بہت نقصان اٹھایا ہے اور اب انہیں ہمدردی اور مدد کی ضرورت ہے۔ رجیجو نے مسئلہ کشمیر پر ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو پر تازہ حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کے حملے کے بعد اقوام متحدہ کو غلط دفعہ کے تحت منتقل کیا، اس طرح اسے جارح کی بجائے تنازعہ کا فریق بنایا۔ رججو نے یہ بھی کہا کہ نہرو نے اقوام متحدہ کی طرف سے مقرر کردہ استصواب رائے کے ”افسانے“کو قائم رہنے دیا اور آئین کی تقسیم کرنے والی دفعہ 370 کو تشکیل دیا ۔ اپنے مضمون کا دفاع کرتے ہوئے کرن رججو نے کہا ”کشمیر پر میرا مضمون میرے اپنے الفاظ نہیں ہیں، یہ پنڈت نہرو اور اس وقت کے تمام حکومتی تبادلوں کا پارلیمانی ریکارڈ ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سچ کو 70 سال سے زیادہ عرصے تک دبایا اور چھپایا گیا، میں اسے لوگوں کے سامنے لایا کیونکہ ہم تاریخ کو نہیں بدل سکتے“۔کرن رججو نے کہا کہ تاریخ کو اس کی حقیقی شکل میں پیش کیا جائے نہ کہ کسی کی رائے کے طور پر۔ لہٰذا میں نے کشمیر کی تاریخ کو آشکار کیا جسے دبا دیا گیا تھا، کیونکہ کشمیر کے لوگوں نے بہت ظلم اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ اس کی مرمت کی جائے، وہ محبت چاہتے ہیں۔ مرکزی وزیر قانون نے مزید کہا کہ یہ ان کی حکومت ہے جس نے ملک میں گھناو¿نے جرائم کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا انتظام کیا ہے۔ رجیجو نے کہا”ہم نے ملک میں گھناو¿نے جرائم – عصمت دری، بچوں کے قتل اور خواتین کے خلاف جرائم کی سماعت کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا انتظام کیا ہے۔ ہم نے POCSO ایکٹ کے تحت فاسٹ ٹریک عدالتوں اور فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کا روڈ میپ بنایا۔ ہم 2018 میں فوجداری ترمیمی بل لائے تھے۔قانون کے مضبوط ہونے کی ضرورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر نے کہا”کوئی بھی جرم ہوتا ہے، جو بھی مجرم ہو، قانون کو ان کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے۔ عدالتیں ہیں، کام کریں گی۔ عدالتوں کو مضبوط کرنا حکومت کا فرض ہے۔ تمام عدالتیں متحد ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک کا قانون مضبوط ہو“۔
Comments are closed.