اردو زبان زندہ ہے ،زوال پذیرہونے کا وہم ذہنوں سے نکال دیا جائے /ڈاکٹر اصغر سامون
جموں وکشمیر اردو کونسل کے زیراہتمام مضمون نویسی مقابلہ میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے تقریب منعقد
سرینگر /26ستمبر /کے پی ایس : عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاون کے بیچ جموں وکشمیر اردو کونسل نے اردو کی ترویج او ر زبان کی اہمیت کو پرکھنے کیلئے زیرتعلیم بچوں کا آن لائن مضمون مقابلہ کا اہتما م کیا تھا جس میںامتیازی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو توصیفی اسناد اور اعزات سے نوازنے کیلئے سرینگر کے معروف ہوٹل شاہنشاہ پیلس میں ایس او پیز کو اپناتے ہوئے ایک پُر وقار تقریب اہتمام کیا تھا۔تقریب میں روزنامہ سرینگر ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف کارٹونسٹ بشیر احمد بشیر نے صدارت کی جبکہ پرنسپل سیکریٹری اسکول ایجوکیشن و سِکل ڈیولپمنٹ ڈاکٹر اصغر حسن ساموں نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی ۔ان کے علاوہ ایوان صدارت میں بر صغیر کے معروف افسانہ نگار اور فکشن رائٹرس گلڈ کے سرپرست وحشی سعید ،کونسل کے صدر جاوید اقبال اور پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے چیرمین جی این وار موجودتھے ۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور تلاوت کا فریضہ ڈاکٹر مشتاق احمدگنائی نے انجام دیا جبکہ نوجوان نعت خوان زبیر احمد نے نعت بحضور سرور کائنات پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔نظامت کے فرائض کونسل کے جنرل سیکریٹری جاوید ماٹجی نے انجام دیے ۔کونسل کے صدرڈاکٹر جاویداقبال نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور اردو کونسل کے تعارف کے ساتھ اردو زبان کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ اس موقعہ پر اردو زبان کے ماہر اور کشمیر یونیورسٹی اور سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے سابق سربراہ شعبہ اردو پروفیسر نذیر احمد ملک نے کلیدی خطبہ پیش کیا انہوں نے اردو زبان کو تاریخی پس منظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو یہاں صدیوں سے رائج ہے ۔انہوں نے اردو زبان کے حوالے سے موجودہ صورتحا ل پر روشنی ڈالتے ہوئے جموں کشمیر کے لئے پانچ زبانوں کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور نئی تعلیمی پالیسی میں اردو کے مقام کے بارے میں بھی بات کی۔۔ اس موقعہ پر ڈاکٹر اصغر سامون نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے اردو کی اہمیت کو اجا گر کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ وہم آپ لوگ ذہنوں سے نکا ل دیجئے کہ اردو ختم ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اردو بین الاقوامی سطح پر بولی جاتی ہے اور اس کوبلامذہب وملت دنیا کے بڑے دانشوروں ،شاعروں اور مفکروں نے اپنایا ہے ۔انہوں نے امیر خسرو،میر تقی میر ،غالب ،مومن ،اقبال اور دیگر کئی شعراء کے اشعار کو پڑھ کر اس بات کو واضح کیا کہ اردو مرنے والی زبان نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی زبان اپنی جگہ مقدم ہے اور ہمیں چاہئے ہم اپنے بچوں کو آل راونڈر بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکول انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو ودیگر زبانوں کو فروغ دینے میں رول ادا کرسکتے ہیں ۔اس موقعہ پر بشیر احمد بشیر نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ہم اردو سے جڑے ہیں اس کی ترقی وترویج کیلئے متحرک ہونے اور منظم ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اردو زبان میں رونماہوئی کمزرویوں کو دور کیا جاسکے ۔اس کے بعد تقسیم اسناد ونعامات پرنسپل سیکریٹر ی ڈاکٹر اصغر سامون کے ہمراہ ایوان صدارت میں موجود افراد کے ہاتھوں کیا گیا۔ اس موقعہ پر جی این وار نے پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کی جانب سے امتیازی پوزیشن حاصل ؒ کرنے والوں کے حق میں دس ہزار روپے کا نقدی انعام پیش کیا ۔ واضح رہے کہ آن لائن تحریری اردو مقابلہ کے لئے کشمیر اور جموں صوبوں کے آٹھویں جماعت سے بارہویں تک کے سرکاری اور پرایوئٹ اسکولوں کے بچوں اور دینی مدارس میں زیر تعلیم بچے شامل ہوئے۔ ہایفہ سجاد ساکن راول پورہ سرینگر (میلنسن گرلز اسکول، سرینگر) نے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے جبکہ حاجن بانڈی پورہ کی رضیہ سلطان (زوون اسلامک اسکول حاجن) نے دوسری پوزیشن اور گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول سیر ہمدان کی طالبہ مہرو مظفر ساکن سیر ہمدان نے تیسری پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ یہ تینوں پوزیشنیں حاصل کرنے والے بچوں کو اردو کونسل کی طرف سے نقد انعامات کے علاوہ اسناد، مومینٹو اور کتابوں کے سیٹ مہمانِ خصوصی کے ہاتھوں دئے گئے ۔ تقسیمِ ایوارڈ سے قبل اردو کونسل کے ضلع بانڈی پورہ کے کوارڈینیٹر شہباز ہاکباری نے اس مقابلہ جاتی پروگرام کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس وسیع پروگرام کا مقصد اسکولی بچوں، ان کے والدین، اساتذہ اور اسکول منتظمین کو اردو زبان کے ساتھ وابستگی بڑھانا اور موجودہ صورتحال میں جبکہ بچے مہینوں سے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں انہیں دستیاب محدود وسائل کی مدد سے کسی علمی و تعلیمی سرگرمی کے ساتھ وابستہ کرانا تھا ۔ چنانچہ اردو کونسل کو ای میل کے ذریعے جو 19مضامین موصول ہوئے ان میں سے 55 سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں اور بچیوں نے لکھے تھے جبکہ باقی ماندہ شرکاء طلبا کا تعلق نجی اسکولوں سے ہے اس کے علاوہ دینی مدارس کے کچھ طلبا بھی شامل مقابلہ ہوئے۔ مقابلے کے لئے وادی کشمیر کے سبھی اضلاع کے علاوہ جموں، راجوری، ڈوڈہ اور رام بن سے بھی مضامین موصول ہوئے۔ ۔پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشنوں کے علاوہ جن بچوں کو اعزازی (کنسولیشن) انعامات بصورتِ نقدی، اسناد و کتب دئے گئے ان میں میر اسرار ، سرینگر (اقبال میمورئل انسٹیچوٹ)، ضحا پرویز اسلام آباد (ریڈینٹ پبلک اسکول)،ابرار نبی راتھر اور میر صہیب اللہ گاندربل (ہل ٹاپ اسکول)، شافعیہ لطیف رام بن (گورنمنٹ ہائر اسکینڈری ا سکول قصابان جموں)، راشد منان باغِ اسلام بارہمولہ (گورنمنٹ ہائر اسکینڈری اسکول بارہمولہ)، امریزہ عاشق کے۔ پی۔روڑ اسلام آباد (ریڈینٹ پبلک اسکول)، کرامت کامران ددرہامہ گاندربل(ہل ٹاپ اسکول)، مسکان شبیر بیجبہاڑہ (گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول بیجبہاڑہ) اور سیدہ سیرت گیلانی اوڑی(نورالعلوم اسکول بونیار) شامل ہیں۔ یاد رہے کہ کامیاب بچوں کے لئے اقبالیات پر مبنی کتابوں کے یہ سیٹ کشمیر یونیورسٹی کے اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی کی طرف سے انسٹی ٹیوٹ کے کوارڈینیٹر ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی نے پیش کئے ا اس کے علاوہ انہوں نے تحریری مقابلہ کے لئے بنائی گئی پروگرام کمیٹی کے ممبران کو بھی سخت اور سنگین حالات میں اس سارے پروگرام کا کامیاب انعقاد ممکن بنانے کے لئے کتابوں کے اعزازی سیٹ پیش کئے۔ کامیاب بچوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ تقریب پر بچوں کے تحریری مضامین کی جانچ کرنے والے اساتذہ شفیع شاکر، محمد یاسین قادری اور سہیل سالم کو بھی اعزازی اسناد دی گیئں ۔ جبکہ تقریب پر سہیل سالم کی کتاب کشمیر کی خواتین افسانہ نگار بھی اجرا کی گئی ۔ شکرانہ کی تحریک سید جاوید کرمانی نے پیش کی۔،تقریب پر اور لوگوں کے علاوہ اردو کونسل کے اراکین، کامیاب بچوں کے والدین اور ان کے اساتذہ صاحبان، محکمہ تعلیم کے اعلی افسران دانشور، ادیب، صحافی اور دیگر لوگ موجود تھے۔ یاد رہے کہ اس تقریب پر صرف تیرہ پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کو انعامات وغیرہ دئے گئے جبکہ باقہ ماندہ بچوں کو اپنے اپنے اضلاع میں متعلقہ چیف ایجوکیشن افسران کے ہاتھوں یہ اسناد الگ الگ تقاریب پر دی جا رہی ہیں جس کے لئے انہیں انفرادی طور مطلع کیا جائے گا۔۔ جموں کشمیر اردو کونسل نے اس سال جون میں بچوں سے اس تحریری مقابلے میں شرکت کے لئے مضامین طلب کئے تھے۔ بچوں سے کہا گیا تھا کہ وہ تین سو سے ساڑھے تین سو الفاظ پر مشتمل مضمون ” اردو زبان۔۔۔ہماری ضرورت” کے عنوان سے تحریر کریں اور اسے ای میل کے ذریعے کونسل کو ارسال کریں۔ مقررہ وقت کے دوران کونسل کو کل ملاکر 196 مضامین موصول ہوئے۔ چنانچہ موصول شدہ مضامین کی مکمل جانچ اور درجہ بندی کے بعدتحریری مقابلہ میں 60 فیصد اور اس سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے شرکاء کو اساتذہ کی اسی پینل کے سامنے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے زبانی مقابلہ کے ایک اور مرحلے سے گزارا گیا تاکہ ان کی طرف سے ارسال کردہ مضامین کے مشمولات کے بارے میں ان کی جانکاری کا پتہ لگایا جاسکے جس کے بعد تحریری اور زبانی مقابلوں میں حاصل شدہ نمبرات کو ملاکر حتمی پوزیشنوں کا تعین کیا گیا۔تقریب میں سلیم سالم کی کتاب جموں کشمیر کی خواتین افسانہ نگار،کی رسم رونمائی بھی انجام دی گئی۔
Comments are closed.