لیتہ پورہ پلوامہ حملہ ، این آئی نے خصوصی عدالت میں چارج شیٹ ڈائر کر دی
جیش محمد مسعود اظہر سمیت 19 افراد شامل ، 7گرفتار ، سات جنگجو جاں بحق ، چار ہنوز مفرور
سرینگر/25اگست: جنوبی ضلع پلوامہ لیتہ پورہ علاقے میں مارچ 2019میں سی آر پی ایف کاوانی پر فدائین حملے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے عسکری تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر سمیت 19 افراد کے خلاف خصوصی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ سی این آئی کے مطابق لیتہ پورہ پلوامہ میں سی آر پی ایف کانوانی پر گزشتہ سال ہوئی حملے سے متعلق این آئی اے نے منگل کو جموں کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ پیش کر دی ہے اور اس چارج شیٹ میں جیش محمد سربراہ اظہر مسعود سمیت 19ملزمان کا نام پیش کیا گیا ہے ۔ این آئی اے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس کیس کو عسکریت پسندوں اور ان کے ہمدردوں کی گرفتاری کے بعد الیکٹرانک شواہد اور بیانات کو اکٹھا کرکے حل کیا گیا ۔ 13ہزار پانچ سو صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں ایسے افراد کے نام بتائے گئے ہیں جنہوں نے خود کش بمبار عادل ڈار کو پنا ہ دیا تھا جبکہ حملہ کرنے میں ان کی مدد کی تھی۔ اس کیس کی تحقیقات کی سربراہی این آئی اے کے جوائنٹ ڈائریکٹر انیل شکلا نے کی تھی ۔حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں این آئی اے نے اب تک سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔اظہر کے علاوہ ان چارج شیٹ میں سات عسکریت پسند بھی شامل ہیں جو مختلف جھڑپوں میں مارے گئے تھے اور چار مفرور ، جن میں سے دو ابھی بھی جموں و کشمیر میں روپوش ہیں ان میں سے ایک مقامی اور دوسرا پاکستانی شہری ہے۔چارج شیٹ میں مسعود اظہر کے دو رشتہ داروں – عبد الدعوف اور عمار علوی کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایجنسی
Comments are closed.