ہم ابھی کووڈ19سے ابھی آزاد نہیں ہوئے: ڈاک

وائرس کی نئی لہرمزید خطرناک اور بھیانک رُخ اختیار کرسکتی ہے

لوگ احتیاطی تدابیر کو نہ چھوڑیں ، بلکہ اس حوالے سے محتاط رہیں

سرینگر/24جون: ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے متنبہ کیا ہے کہ ہم ابھی بھی کوروناوائرس کے چنگل میں ہیں اور ابھی ہم نے اس سے نجات حاصل نہیں کی ہے اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ سرکاری احکامات اور ہیلتھ شعبہ کی ایڈوئزری پر عمل کرنا نہ چھوڑیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثاارلحسن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لوگ ہیلتھ ایڈوزئری پر عمل کرنا نہ چھوڑیں کیوں کہ کورورناوائرس ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کوروناوائرس کے چنگل میں ابھی بھی ہم پھنسے ہوئے ہیں اسلئے ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت پر عمل کرنا ناگزیر ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ لوگوں کو چاہئے کہ اپنی حفاظت کیلئے ضرورری اقدامات پر عمل پیرا رہیں انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر لوگ احتیاط نہ برتیں اور لاپرواہی کریں گو آنے والے میں وادی کشمیر کی حالت بدترین ہوجائے گی جس پر پھر قابو پانا محال بن جائے گا۔ ڈاکٹر نثاالحسن نے کہا کہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ یہاں پر اب وائرس ختم ہوچکا ہے اور ہم معمولات کی زندگی بحال کرسکتے ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ ہم آج بھی اس مہلک وائرس کی لپیٹ میں ہیں اور اس کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔انہوںنے اس بات پر تشویش کااظہار کیا ہے کہ گزشتہ دس دنوں کے دوران قریب 1500نئے کیس سامن آئے ہیں جبکہ قریب ایک سو سے زیادہ نئے معاملات روزانہ درج ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متواتر طور پر اپنے ہاتھ دھولیں ۔ ماسک کا استعمال کریں اور سماجی دوری کا خیال رکھیںبصورت دیگر یہ وائرس مزید بھیانک شکل اختیارکرسکتا ہے ۔اس دوران ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ بندشوں میں نرمی کے ساتھ ہی ہمیں اس بات کیلئے بھی اب تیار رہنا ہوگا کہ لوگ وائرس کی نئی لہر کیلئے تیار رہیںجو موجودہ صورتحال سے کافی مختلف ہوسکتی ہے ۔

Comments are closed.