جاسوسی کے الزام میں بھارت سے دو پاکستانی افسران ملک بدر؛پاکستان کا شدید احتجاج ، بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا

سرینگر/یکم جون: بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے دو افسران کو جاسوسی کی سرگرمیوں ملوث ہونے کے الزام میں 24گھنٹے کے اندر ملک چھوڑ دینے کے لئے کہا ہے۔ادھر معاملے پر پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو رات گئے دفتر خارجہ طلب کے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق بھارت میں جاسوسی کے الزام میں پاکستان کے دو افسران کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ۔ مرکزی وزارت خارجہ نے گذشتہ رات دیر گئے بتایا کہ نئی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کے دوافسران کو ہندستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے حراست میں لیا تھا۔اطلاعات کے مطابق دونوں عہدیداروں کو24گھنٹوں کے اندر بھارت سے نکل جانے کیلئے کہا گیا ہے۔ ادھر بھارت نے جاسوسی کا الزام لگا کر پاکستان کے 2 سفارت کار ملک بدر کردیے جس پر پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو رات گئے دفتر خارجہ طلب کے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔نئی دہلی میں پاکستان کے ناظم الامورکو وزارت خارجہ طلب کرکے ایک احتجاجی مراسلہ دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے دونوں سفارتکار بھارت کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، مراسلے میں پاکستانی ناظم الامورسے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستانی مشن کا کوئی اہلکاراپنے منصب کے منافی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوپاکستان نے اس بھارتی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی میں سفارتی مشن کے دونوں اہلکاروں کو پہلے حراست میں لیا گیا، انہیں جھوٹے اور بے بنیاد الزامات تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ پاکستانی ہائی کمیشن کی مداخلت پر انہیں رہا تو کردیا لیکن ناپسندیدہ شخصیات قراردیکر 24 گھنٹے میں ملک سے نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

Comments are closed.