,محبوبہ مفتی متواتر چھٹی مرتبہ پی ڈی پی صدر منتخب
پارٹی اپنے بنیادی ایجنڈا پر کاربند کہا پائیدار امن اور تصفیہ طلب مسائل کا حل مذاکرات میں مضمر
سرینگر/02دسمبر/ایجنسیز/
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ’’ریکارڈچھٹی مرتبہ بلامقابلہ پی ڈی پی صدرمنتخب‘‘ہونے کے بعدیہ واضح کردیاکہ کشمیرکے اندراورحدمتارکہ پرپائیدارامن کیلئے مذاکرات واحدراستہ ہے۔محبوبہ مفتی نے ترقی ،جامعیت اورمفاہمت کانعرہ بلندکرتے ہوئے کہاکہ امن وامان کے ماحول میں ہی سبھی مقاصدحاصل کئے جاسکتے ہیں۔اسے پہلے 58سالہ محبوبہ مفتی کوسال2003کے بعدمتواترچھٹی مرتبہ حکمرا ن جماعت پیوپلزڈیموکریٹک پارٹی کاصدرمنتخب کیاگیا۔نمائندے کے مطابق ریاست کی اولین خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کومتواترچھٹی مرتبہ حکمران جماعت پی ڈی پی کاصدرمنتخب کیاگیا۔معلوم ہواکہ صدارتی انتخاب میں ووٹ کااستعمال رکھنے والے 300 ووٹروں بشمول سینئرلیڈروں ،ممبران پارلیمنٹ ،ممبران قانون سازیہ ،پارٹی کے ریاستی ،صوبائی ،زونل اورضلعی عہدیداروں نے 58سالہ محبوبہ مفتی کوبلامقابلہ پارٹی کاصدر منتخب کیاگیاکیونکہ موصوفہ کے مقابلے میں کسی بھی اُمیدوارنے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے ۔سنیچرکی صبح جب پی ڈی پی صدرکاانتخاب عمل میں لانے کی الیکشن کارروائی شروع ہوئی توحکمرا ن جماعت سے وابستہ بیشترسینئروجونیئرلیڈر،ممبران پارلیمنٹ ،پارٹی سے وابستہ ممبران قانون سازیہ اورووٹ دینے کاحق رکھنے والے سبھی عہدیدارپارٹی کے جموں میں قائم دفترمیں موجودتھے جبکہ بڑی تعدادمیں یہاں پارٹی کارکن اورحامی بھی جمع ہوئے تھے ۔ریٹرننگ آفیسرکی حیثیت سے پارٹی کے سینئرلیڈراورکابینہ وزیرعبدالرحمان ویری نے صدارتی انتخاب کااعلان کیاجبکہ اس موقعہ پرسبھی الیکشن مبصرین بھی موجودتھے ۔صدارتی انتخاب کے عمل میں شریک پی ڈی پی کے ایک سینئرلیڈرنے بتایاکہ پارٹی صدرکاانتخاب عمل میں لاناایک آئینی ضرورت تھی ۔انہوں نے کہاکہ محبوبہ مفتی کوبلامقابلہ اوربااتفاق رائے پھرصدرمنتخب کیاگیا۔پی ڈی پی لیڈرکے بقول پارٹی ہائی کمان میں شامل لیڈریہ مانتے ہیں کہ وزیراعلیٰ بن جانے کے بعدازحدمصروفیات کے باوجودمحبوبہ مفتی بحیثیت صدرپارٹی امورات کوتسلی بخش طورپرانجام دیتی رہی ہیں ،اسلئے پارٹی کمان موصوفہ کے ہاتھوں میں ہی رہنی چاہئے۔معلوم ہواکہ جب ریٹرننگ آفیسرکی حیثیت سے عبدالرحمان ویری نے محبوبہ مفتی کے بلامقابلہ اوربااتفاق رائے پارٹی صدرمنتخب ہوجانے کااعلان کیاتویہاں موجودسبھی لیڈروں اوراراکین نے تالیاں بجاکراس فیصلے کی تائیدکی جبکہ کئی سینئرلیڈران نے کھڑے ہوکرمحبوبہ مفتی کوریکارڈمتواترچھٹی مرتبہ بلامقابلہ پارٹی صدرمنتخب کئے جانے پرمبارکبادپیش کی ۔معلوم ہواکہ جمعہ کے روزجموں میں پی ڈی پی کی پالیسی سازکمیٹی یعنی سیاسی امورات سے متعلق کمیٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیاتھاکہ پارٹی صدراتی چنائومیں محبوبہ مفتی کے مقابلے میں کوئی اُمیدوارکھڑانہیں ہوگا۔اس میٹنگ میں خودمحبوبہ مفتی کے علاوہ سینئرلیڈرمظفرحسین بیگ،سرتاج مدنی ،محمددلاورمیر،رفیع احمدمیر،نظام الدین بٹ،قاضی محمدافضل ،پیزادہ منصورشاہ،محبوب اقبال ،ویدمہاجن اورکمیٹی کے دیگرسبھی ممبران بھی موجودتھے۔خیال رہے سال 1999میں پیوپلزڈیموکریٹک پارٹی کاقیام عمل میں لائے جانے کے بعداس نئی علاقائی جماعت نے سال 2002کے اسمبلی انتخابات میں 16اسمبلی حلقوں میں جیت درج کرنے کے بعدکانگریس کیساتھ ملی جلی سرکاربنائی اورپی ڈی پی کے بانی صدرمفتی محمدسعیدنے مخلوط سرکارکی کمان پہلے تین برسوں کیلئے سنبھالی اورمرحوم سال2002سے2005تک ریاست کے وزیراعلیٰ رہے ۔2003میں محبوبہ مفتی کوپہلی مرتبہ پی دی پی کاصدرمنتخب کیاگیا،اورتب سے موصوفہ پارٹی کمان سنبھالے ہوئے ہیں کیونکہ محبوبہ مفتی کواسکے بعدسال2006،2009،2012،2015میں بھی بلامقابلہ پارٹی صدرمنتخب کیاگیاتھا ۔اطلاعات کے مطابق 58سالہ محبوبہ مفتی نے ریاست کی سیاسیات میں اسوقت نئی تاریخ رقم کی جب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مفتی محمدسعیدکاانتقال ہوجانے کے بعد4اپریل2016کومحبوبہ مفتی نے ریاست کی اولین خاتون وزیراعلیٰ بننے کامنفرداعزازحاصل کیا۔اطلاعات کے مطابق متواترریکارڈپانچوں مرتبہ بلامقابلہ پی ڈی پی صدرمنتخب ہوجانے کے بعدوزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعلان کیاکہ پی ڈی پی اپنے ایجنڈے کی عمل آوری کے مشن پرکاربندہے اورکاربندرہے گی ۔انہوں نے پارٹی لیڈروں اورسینئراراکین کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی پی کاقیام مفاہمت اورمذاکرات کے اصولوں کی بنیادپرعمل میں لایاگیاہے ،اسلئے پارٹی لیڈروں ،ممبران پارلیمان ،ممبران قانون سازیہ اورریاستی کابینہ میں شامل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینئراورجونیئروزیروں پریہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے ایجنڈے کوآگے بڑھائیں ۔محبوبہ مفتی نے اس موقعہ پرترقی،جامعیت اورمفاہمت کانعرہ بلندکرتے ہوئے واضح کیاکہ امن وامان کے ماحول میں ہی یہ سبھی مقاصدحاصل کئے جاسکتے ہیں ۔وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیرکے اندراور حدمتارکہ پرپائیدارامن کیلئے مذاکرات کوواحدراستہ قراردیتے ہوئے کہاکہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی سبھی نوعیت کے مسائل کوحل کیاجاسکتاہے اورشکایات کاازالہ بھی ہوسکتاہے ۔
Comments are closed.