پشاور میں زرعی ٹریننگ انسٹی چیوٹ پر خوفناک حملہ, 9افراد ہلاک، 37زخمی ، علاقہ میں ریڈ الرٹ ، حملہ آوروں کی تلاش جاری

پشاور ، یکم دسمبر (یو این آ)
 پاکستان میں پشاور کے زرعی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے ہاسٹل پر آج صبح برقع پوش مسلح افراد کے حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے اور 37 افراد زخمی ہو گئے ۔ حملے کے فوری بعد فوج، فرنٹیئر کورپس (ایف سی) اور پولس اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا۔مقامی اخبار ‘ایکسپریس ٹربیون’ نے بتایا کہ برقع میں تین حملہ آور رکشے سے زراعت انسٹی ٹیوٹ کے اندر آئے تھے ۔ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ کے احاطے میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے آٹھ طلبہ اور ایک ملازم کی موت ہو گئی۔ زخمیوں میں ایک پولس سب انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل بھی شامل ہے ۔ اس حملے میں ہلاک شدگان کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ سلامتی دستہ کی کارروائی ابھی جاری ہے اور متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے ۔ پولس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پشاور کی زرعی یونیورسٹی کے سامنے ڈائریکٹوریٹ جنرل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کی عمارت پر حملہ کیا تھا جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملے میں ملوث تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ ڈائریکٹریٹ میں کلیئرنس آپریشن بھی مکمل کرلیا گیا ہے ۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران دو فوجی جوان زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں سی ایم ایچ اسپتال پشاور منتقل کردیا گیا۔ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروںنے برقع پہن رکھا تھا اور وہ زرعی ڈائریکٹریٹ میں داخل ہوئے جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ برآمد ہونے والے ہتھیاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے ۔پولس حکام کے مطابق خیبر ٹیچنگ اسپتال میں 16 زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے 3 زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے ۔دوسری جانب حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اسپتال میں 6 لاشیں اور 18 زخمیوں کو لایا گیا ہے ۔حکام کے مطابق حملے میں یونیورسٹی کے چوکیدار اور طلبہ سمیت 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں ۔زرعی ڈائریکٹوریٹ پر حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سوات گروپ نے قبول کرلی ہے ۔وزارت داخلہ کے ایک افسر نے بتایا کہ سکیورٹی وجوہات سے کئی شہروں میں انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئی ہیں۔ آج پاکستان میں عید میلاد النبی ہونے کی وجہ سے شہر میں سکیورٹی چاق چوبند تھی، اس کے باوجود یہ حملہ ہو گیا۔ یو این آئی

Comments are closed.