’بحیثیت امریکی صدرمیں نے نریندرمودی کومذہبی رواداری کادرس دیاتھا‘:باراک اوبامہ
سری نگر؍ باراک اوبامہ نے’’بھارت سرکار کومسلمانوں کاپوراخیال رکھنے کامشورہ ‘‘دیتے ہوئے یہ انکشاف کیاکہ بحیثیت امریکی صدرانہوں نے وزیراعظم مودی کومذہبی رواداری کادرس دیاتھا۔اس دوران سابق امریکی صدر نے پاکستان کوامریکہ کاایک اہم پارٹنرقراردیتے ہوئے یہ بھی واضح کردیاکہ اسلام آباد اسامہ بن لادن کی موجودگی سے لاعلم تھا۔مانیٹرینگ ڈیسک کے مطابق موقرانگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے زیراہتمام نئی دہلی میں جاری15 ویں لیڈر شپ سمٹ کے دوسرے روز امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ہندوستان کو اپنی مسلم آبادی کی قدر کرنی چاہئے اور ان کا پورا خیال رکھنا چاہئے جو خود کو ملک سے وابستہ ہندوستانی مانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال2015 میں بطور صدر ہندوستان کے آخری دورے پر بھی انہوں نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ بند کمرے میں ہوئی میٹنگ میں مذہبی رواداری کی ضرورت اور کسی بھی مذہب کو ماننے کے حق پر زور دیا تھا۔سال 2009 سے 2017 تک امریکہ کے صدر رہے اوباما نے اپنے دورہ کے آخری دن بھی اسی طرح کا تبصرہ کیا تھا۔ ہندوستان سے جڑے ایک سوال کے جواب میں اوباما نے ملک کی بڑی مسلم آبادی کا ذکر کیا ، جو کامیاب ، جڑا ہوا اور خود کو ہندوستانی مانتی ہے۔سابق امریکی صدر نے کہا کہ بدقسمی سے کچھ دیگر ممالک کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان سے دہشت گردی کے فروغ سے وابستہ ایک سوال کے جواب میں اوباما نے کہا کہ ہمیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ پاکستان کو اوسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں کچھ بھی معلوم تھا ، لیکن ہم نے اس معاملہ پر یقینی طو رپر غور کیا تھا۔سابق امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کے دوران پاکستان اسامہ بن لادن کی موجودگی سے لاعلم تھا اور میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے۔سابق امریکی صدر براک اوباما سے صحافی نے سوال پوچھا کہ کیا اسامہ بن لادن کی موجودگی سے لاعلم ہونا پاکستان کی نااہلی تھی یا القاعدہ سربراہ کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا۔ اوباما نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسامہ بن لادن کی موجودگی سے لاعلم تھا۔اوباما نے صحافیوں سے کہا کہ آپ اپنے الفاظ سے مجھے خطرے میں ڈالنا بند کریں اور میڈیا مجھے لفظوں کے جال میں نہ پھنسائے، امریکا کے پاس اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ پاکستان کی حکومت اسامہ بن لادن کی موجودگی سے واقف تھی، جبکہ آپریشن سے قبل امریکا نے اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے اور تمام معلومات اکٹھی کرنے کے لیے جامع کوششیں کی تھیں۔اوباما نے مزید کہا کہ پاکستان کئی معاملات میں امریکا کا پارٹنر ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہاں بعض ایسے عناصر بھی ہیں جو ہمارے اچھے پارٹنر نہیں ہیں۔ اوباما نے ان عناصر کی مزید وضاحت کرنے سے انکار کردیا۔
Comments are closed.