شوگر کی بیماری میں تشویشناک اضافہ
فاسٹ فوڈ اور جسمانی ورزش نہ کرنا بڑی وجہ
سرینگر؍25نومبر/ سی این ایس/ وادی میں شوگر کی مہلک بیماری میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے ۔ شوگر کی بیماری کے شکار اب نوجوان ہورہے ہیں جس کی فاسٹ فوڑ، غیر وقتی کھانے پینے کی عادات اور جسمانی ورش نہ کرنا بڑی وجہ ہے ۔ ادھر ماہرین طب کا کہنا ہے اگر مذکورہ بیماری کے بارے میں اب بھی لوگ سنجیدہ نہ ہونگے تو عنقریب پوری وادی شوگر بیماری کی لپیٹ میں آجائے گی ۔ کرنٹ نیوز سروس کے مطابق کشمیروادی میں شوگر کی بیماری کے رجحان میں زبردست طریقے سے اضافہ ہورہا ہے اور اگر اس طرح کے رجحان پر روک تھام نہ ہوئی تو عنقریب شوگر کی مہلک بیماری پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لے گی ۔ اگر چہ شوگر کی مہلک بیماری گذشتہ کئی سال پہلے عمر رسیدہ لوگوں میں ہوتی تھی تاہم اب اس بیماری کے شکار نوجوان ہورہے جس کیلئے کئی طرح کے سماجی عوامل ذمہ دار ہیں۔ ماہرین طب کا ماننا ہے کہ فاسٹ فوڑ ، چکنائی والے غذا، مشروبات ، غیر معیاری آئیس کریم ، اور بے وقتی کھانا شوگر کی بیماری کیلئے ہی ذمہ دار ہے جبکہ جسمانی ورزش نہ کرنا بھی اس بیماری کی ایک وجہ ہے ۔ اس سلسلے میں وادی کے ایک سرکردہ معالج ڈاکٹرخورشید احمدنے سی این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کم جانکاری بھی شوگر کی بیماری پھیلنے کی ایک وجہ ہے کیونکہ اکثر لوگ نہ ہی بلڈ شوگر ٹیسٹ اور نا ہی وقت پر اپنا طبی جانچ کراتے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ بیمارے لگنے سے لوگ بے خبر ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر خورشید احمد نے سی این ایس کو بتایا کہ کشمیر وادی کے لوگوں نے زندگی گذارنے کے طریقوں میں جو بدلاو لایا ہے اس سے شوگر کی بیماری بڑھ رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہاں کے نوجوان لڑکے لڑکیاں ایسے کھانوں کا استعمال کررہے ہیں جو صحت کے لئے انتہائی نامفید ہیں۔ اس کیلئے انہوںنے بتایا کہ لوگ جن میں نوجوان اور بچے بھی ہیں زیادہ تر اوقات ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں جس سے چلنے پھرنے کا کافی کم وقت ان کو ملتا ہے اور اس وجہ سے جسم میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں جو شوگر بیماری لگنے کیلئے موافق بن جاتی ہے ۔ ڈاکٹر خورشید نے کہا کہ اگر لوگ خاصکر نوجوان نسل کم چکنائی اور معیاری غذاوئوں کا استعمال کریں اور ورزش کو معمول بنائیں تو اس بیماری کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ڈیپریشن بھی اس بیماری کی ایک وجہ سے جس کیلئے یہاںکے حالات اور ذہنی پریشانیاں شامل ہیں ۔ ڈاکٹرخورشید احمدنے بتایا کہ لوگوںکو زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کی عادت ڈالنی چاہیے اور گاڑیوں میں سفر کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ اگر ہم اپنی زندگی گذارنے کا صحیح طریقہ سے استعمال کریں تو اس سے ضرور فائدے ملیں گے بصورت دیگر صورتحال سنگین رُخ اختیار کرسکتی ہے اور پوری وادی شوگر کی بیماری کی زد میں آئے گی
Comments are closed.