حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت نے کشمیریوں کی جد و جہد آزادی میں نئی روح پھونکی دی
افغان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے،بھارت کی یہ جارحیت خطے میں امن کیلئے خطرہ /پاکستان
سرینگر/23 نومبر / سی این آئی حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت نے کشمیریوں کی جد و جہد آزادی میں ایک میں نئی روح پھونکی ہے کی بات کرتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت بھی وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے، گزشتہ چند روز کے دوران بھارتی افواج نے غیرقانونی کارروائیوں اور آپریشنز کے نام پر 12 کشمیریوں کو ہلاک کر دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی یہ جارحیت خطے میں امن کے لئے خطرہ ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں پاکستانی ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا تھا کہ کشمیر میں نوجوان حریت پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت نے آزادی کی جدوجہد میں نئی روح پھونکی ہے لیکن دوسری جانب بھارت بھی وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے، گزشتہ چند روز کے دوران بھارتی افواج نے غیرقانونی کارروائیوں اور آپریشنز کے نام پر 12 بے گناہ نہتے کشمیریوں کو ہلاک کردیا، بھارت کی یہ جارحیت خطے میں امن کے لئے خطرہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خراب صورت حال کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہا ہے۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھی بھارتی افواج جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کررہی ہیں۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت افغان سرزمین کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے، پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کے بھارتی خفیہ ادارے را کے ساتھ روابط کے ثبوت موجود ہیں اس معاملے کو افغان حکام کے سامنے بھی اٹھایا گیا ہے۔ افغانستان کا 43 فیصد داعش اور دیگر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہورہا ہے، ٹی ٹی پی اور ملا فضل االلہ افغانستان سے ہی تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادو سے اس کی اہلیہ کی ملاقات کرانے کی پیشکش کی لیکن بھارت نے اہلیہ کے بجائے اس کی والدہ سے ملاقات کرانے کی درخواست کی ہے جس پر دفترخارجہ غور کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے میڈیکل ویزا کا حصول تقریباً ناممکن بنادینا قابل افسوس ہے، میڈیکل ویزا تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیا جانا چاہئے۔
Comments are closed.