ویڈیو:تجارتی انجمنوں اور سیول سوسائٹی کی کال،تین بجے کے بعد لالچوک میں ہڑتال اور احتجاج

 

سرینگر: کشمیریوں کو بیرون ریاستوں میں ہراساں کرنے کے خلاف جمعہ کو تین بجے کے بعدتجارتی مرکز لاچوک اور اس کے گرد نواح میں ہڑتال کی گئی جس کے دوران دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل ہوئیں اور تاجروں اور سیول سوسائٹی نے احتجاج بھی کیا۔سی این ایس کے مطابقبیرون ریاستوں میں کشمیریوں پر حملوں،جلاؤ ،گھیراؤ اور انہیں تعلیمی اداروں و رہائشی مکانوں سے بے دخل کرنے کے خلاف تجارتی انجمنوں کی مشترکہ قیادت اور سیول سوسائٹی نے بعد از نماز جمعہ لالچوک میں احتجاجی مظاہروں اور3بجے کے بعد دکانوں کو مکمل بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر دن کے ٹھیک تین بجے کے بعد ہری سنگھ ہائی اسٹرئٹ سے لیکر پولو ویو بشمول سرائے بالا،مہاراج بازار، ککربازار،کورٹ روڑ،مائسمہ،آبی گزر،ریڈکراس روڑ،گاؤ کدل،ریگل چوک اور لولچوک کے گرد نواح میں لالچوک اور اس کے گر نواح علاقوں میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی آواجاہی جاری رہی۔ہڑتال کی وجہ سے شہر میں کاروباری سرگرمیاں تین بجے کے بعد ٹھپ رہیں اور عام زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ گئی ۔دکانداروں نے اپنی دکانوں کو بند کرکے لالچوک میں احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران تجارتی انجمنوں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹرئز ،کشمیر اکنامک الائنس اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے دھڑوں کے علاوہ جموں کشمیر کارڈی نیشن کمیٹی اور متحرک سیول سوسائٹی گروپ کشمیر سینٹر فار سوشیل اینڈ ڈیولپمنٹ اسڈئز نے زوردار نعرہ بازی کرتے ہوئے ان واقعات پر سخت افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ کشمیریوں کو بیرون وادی نشانہ بنانہ نا قابل قبول ہیں اور کشمیری عوام اس کے خلاف اپنی آواز ہر صورت میں بلند کریں گے

Comments are closed.