گورنر نے لوگوں کو یومِ جمہوریہ کے موقعہ پر مبارکباد دی ، گورنر کئے پیغام کا مکمل متن

جموں:گورنر ستیہ پال ملک نے جموں کشمیر کے عوام کو 70 ویں یومِ جمہوریہ کے موقعہ پر مبارکباد اور نیک خواہشات دی ہیں ۔
یومِ جمہوریہ کے سلسلے میں گورنر کئے پیغام کا مکمل متن
بھائیو اور بہنو !
70 ویں یومِ جمہوریہ کے اس پُر مسرت موقعہ پر میں جموں کشمیر کے عوام کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں ۔ اس دن کے موقعہ پر ہم اُن اہم شخصیات کو یاد کرتے ہیں اور انہیں زبردست خراجِ عقیدت ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری آزادی کو یقینی بنانے کیلئے قابلِ فخر کام انجام دیا اور ہمیں ایک ایسا آئین دیا جس کے تحت ہمیں مساوات ، انصاف اور آزادی کے حقوق حاصل ہیں ۔
اس خصوصی دن کے موقعہ پر میں اپنے آرمڈ فورسز اور جموں کشمیر پولیس کے تمام ارکان کو مبارکباد دیتا ہوں جو قوم کی یکجہتی اور سالمیت کو برقرار رکھنے کیلئے انتھک کوششیں کرتے ہیں ۔
ہمارا ہمسایہ ملک لگاتار دہشت گردوں کی مدد کر کے ریاست میں امن اور اخوت کے ماحول میں خلل ڈالتا ہے ۔ لائین آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کی متواتر کوششیں ہوتی رہی ہیں علاوہ ازیں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے لگاتار واقعات کی وجہ سے سرحدوں کے نزدیک رہایش پذیر لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ حکومت نے سرحدی آبادی کے مسائل کو کم کرنے کیلئے کئی اوقدامات اٹھائے ہیں ۔
انتہائی مشکل جغرافیائی اور موسمی چیلنجوں کے باوجود بھی ہماری فوج اور سلامتی دستے سرحدوں پر چوکسی برقرار رکھتے ہوئے اپنے حدود کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ہماری فوج اور پولیس کے دستوں نے ایک سال میں موثر کاروائیاں عمل میں لا کر سب سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ۔
ہمارے جوان ریاست میں مشکل صورتحالوں میں اپنے فرایض انجام دے رہت ہیں ہم اُن بہادر فوجی اور پولیس جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے جموں کشمیر میں امن اور اخوت کو برقرار رکھنے کیلئے عظیم قربانیاں پیش کیں ۔ پوری قوم ان کی مرحونِ منت ہے ۔ ان شہیدوں کے کنبوں کے ساتھ ہماری پوری ہمدردی ہے اور ہم اُن کے حوق میں دعا گو ہیں ۔ ہماری ہمدردیاں اُن عام شہریوں کے کنبوں کے ساتھ بھی ہیں جو تشدد کے دوران مارے گئے ۔
1947 میں آزادی کے بعد ہم نے آئین میں وضح کئے گئے اصولوں کو پورا کرنے کے تعلق سے نمایاں پیش رفت حاصل کی ۔ جمہوریت کی جڑیں مستحکم ہونے ، پارلیمانی طرز کی حکومت کی کامیابی اور جمہوری عمل و اداروں کے تئیں قانون اور لوگوں کا اعتماد آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی حصولیابیاں ہیں جنہوں نے کئی لوگوں کے شق و شبہات نہ صرف غلط ثابت کیا بلکہ کئی ایک کو حیران بھی کر دیا ۔ اس حصولیابی کا منفرد پہلو اس حقیقت میں مضمر ہے کہ آزادی کے بعد جمہوری طریقے پر مسلسل حکومتیں تبدیل ہوئیں ۔
جمہوری عمل کی جڑیں مضبوط کرنے اور حکمرانی کے معیار میں بہتری لانا حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے ریاست میں حال ہی میں منعقدہ پنچائتی اور میونسپل انتخابات میں لوگوں کی بڑھ چڑھ کر شرکت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ لوگ امن اور ترقی کے متمنی ہیں ۔ مختلف چیلنجوں کے باوجود بھی یہ انتخابات ایک پُر امن ماحول میں منعقد کرائے گئے اور اس سلسلے میں ہم عوامی شراکت داری کے شکر گذار ہیں۔ میں تمام سول اور پولیس انتظامیہ کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے ریاست بھر میں پنچائیتوں اور میونسپل انتخابات کے کامیاب اور پُر امن انعقاد کیلئے بے لوث کام کیا ۔
رشوت خوری ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے ساتھ ہم سب کو مل کر ایک منظم طریقے پر نمٹنا ہو گا ۔ اس بدعت کا مقابلہ تب ہی موثر طریقے پر کیا جا سکتا ہے جب اس کی روکتھام کو یقینی بنانے کیلئے ایک ادارہ جاتی فریم ورک موجود ہو ریاست میں اپنی نوعیت کا پہلا اینٹی کورپشن بیورو قایم کیا گیا ۔ اینٹی کورپشن بیورو کا قیام مشن گُڈ گورننس اور ڈیولپمنٹ میں سے ایک اہم کڑی ہے ۔
جموں کشمیر ویجی لینس کمیشن ایکٹ میں بھی ترمیم لائی گئی ہے تا کہ اسے مزید فعال اور اثر دار بنایا جا سکے ۔ ہم نے پرووینشن آف کورپشن ایکٹ میں بھی ترمیم لائی ہے تا کہ اسے مزید اثر دار بنایا جا سکے ۔
عام شہریوں کی شکایات کے نمٹارے کو بھی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے اور اس تعلق سے سٹیٹ گریوونس سیل اور ضلع گریوونس سیلوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ میرے مشیر اور چیف سیکرٹری متواتر طور عوام کے ساتھ رابطہ کر کے اُمن کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں ۔ ملازمین کی نوکریوں سے جُڑے مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک سروس گریوونس سیل بھی وجود میں لائی گئی ہے ۔
ریاستی حکومت نے پولیس اہلکاروں کی بہبودی کیلئے بھی اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں مختلف سطحوں پر ترقیوں سے نوازنے ، ایس پی اوز کے مشاہرے میں اضافہ کرنا ، تشدد اور ملی ٹینسی سے جُڑے واقعات میں جانبحق ہونے والے جموں کشمیر پولیس اہلکاروں ، ایس پی اوز ، مرکزی آرمڈ فورسز اور فوج کے اہلکاروں کے لواحقین میں ایکس گریشیا ریلیف بڑھانا اور ہارڈ شپ الاؤنس میں اضافہ کرنا جیسے معاملات شامل ہیں۔ سرکاری ملازمین کی نوکریوں سے جُڑے معاملات اور ترقی کو یقینی بنانے کی طرف بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔
جموں کشمیر پنچائت راج ایکٹ 1989 میں بھی ترامیم کی گئی ہیں تا کہ پنچائیتوں کو مزید اختیارات تفویض کئے جا سکیں ۔ ان ترامیم کی بدولت پنچائیتوں کو ٹیکزیشن کے مزید اختیارات حاصل ہوں گے تا کہ وہ اپنے آپ کیلئے مناسب وسائل جُٹا سکیں ۔
21 محکموں کے اختیارات اور کام کاج بھی پنچائیتوں کو سونپا گیا ہے ۔ 2300 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈ سالانہ پنچائیتوں کو منتقل کئے جائیں گے اس کے علاوہ 1200 کروڑ روپے شہری بلدیاتی اداروں کو دئیے جائیں گے تا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو بڑھاوا دے سکیں ۔
ریاست میں ترقیاتی تفاوت کو دور کرنے کیلئے ریاست میں 80 ہزار کروڑ روپے لاگت والا وزیر اعظم ترقیاتی پیکج زیر عمل ہے ۔ اس پیکج میں مختلف سیکٹروں کیلئے مرکزی حکومت کا تعاون دستیاب ہو رہا ہے تا کہ جموں کشمیر کو امن ، ترقی اور خوشحالی کی ڈگر پر گامزن کرایا جا سکے ۔
ریاست میں رقومات کی کمی کی وجہ سے کئی بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ تشن تکمیل ہیں اور ان میں سے کئی ایک پروجیکٹ پانچ برسوں سے زیادہ عرصے سے التوا میں پڑے ہوئے ہیں ۔ ان پروجیکٹوں کی عدم تکمیل کی وجہ سے لوگوں کو بنیادی ڈھانچے کی سہولیات وقت پر میسر نہیں ہو رہی ہیں ۔ مجموعی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے حکومت نے جموں اینڈ کشمیر انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن تشکیل دی اور اسے ترقیاتی عمل کو یقینی بنانے کیلئے آٹھ ہزار کروڑ روپے کا قرضہ جُٹانے کے اختیارات دئیے ۔ اب تک کلیدی سیکٹروں میں 1644 التوا میں پروجیکٹوں کیلئے 3631 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو منظوری دی گئی اور ان پروجیکٹوں کو اگلے 18 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا اور ان کی بدولت ریاست میں ترقیاتی ضروریات کو دوام حاصل ہو گا ۔
بین ریاستی رابطے کے سیکٹر میں ایک بڑی حصولیابی یہ ہے کہ کیریاں ۔ گنڈیال کٹھوعہ میں 1210 میٹر پری سٹریسڈ پُل کو مکمل کیا گیا ۔ سرینگر اور جموں رنگ روڈز کیلئے اراضی نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا لمٹیڈ کو سونپی گئی ۔ ان پروجیکٹوں پر کام شروع کیا جا چکا ہے ۔
حکومت نے سنجیدہ کاوشوں کے ذریعے سے ریاست میں بجلی کی سہولت سے محروم ہر گھر تک بجلی پہنچانے کا ہدف حاصل کیا اور پچھلے برس اکتوبر مہینے تک وزیر اعظم سہج بجلی ہر گھر یوجنا کے تحت مقررہ تاریخ سے پہلے ہی یہ نشانہ حاصل کیا گیا ۔ ہم تمام درج شدہ بجلی صارفین کو 24 گھنٹے بجلی دینے کے وعدہ بند ہیں ۔ ریاست میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھاوا دینے کیلئے 7 ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کے حوالے سے 90 فیصد کام الاٹ کیا جا چکا ہے ۔
جموں کشمیر میں پن بجلی پروجیکٹ کے کام وسائل موجود ہیں ۔ ریٹلی پن بجلی پاور پروجیکٹ جو پچھلے پانچ برسوں سے التوا میں تھا مرکزی حکومت کے اشتراک سے عمل آوری کیلئے منظور کیا گیا ہے ۔ 850 میگاواٹ بجلی صلاحیت والا یہ پروجیکٹ ریاست میں توانائی سیکٹر کو مزید آگے بڑھائے گا ۔ جوائینٹ وینچر کے ذریعے سے 624 میگاواٹ کیرو پن بجلی پروجیکٹ بھی 4708.60 کروڑ روپے کی لاگت سے عمل آوری کیلئے منظور کیا گیا ہے ۔ اس پروجیکٹ کی بدولت ایک طرف بجلی پیداواعر میں اضافہ ہو گا اور دوسری طرف روز گار کے مواقعے بھی پیدا ہوں گے ۔
لداخ خطے کو بھی قومی گرڈ کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور اس سلسلے میں 220 کے وی سرینگر ۔ کرگل ۔ لیہہ ترسیلی لائین مکمل کی جا چکی ہے ۔

یہ بات باعث اطمینان ہے کہ حکومت نے شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ کی عمل آوری کے لئے پنجاب کی حکومت کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں ، جو چالیس سال سے التوا میں پڑا تھا۔ اس پروجیکٹ کی عمل آوری سے سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں 32ہزار ہیکٹر اراضی کو آبپاشی کی سہولیت دستیاب ہوگی۔اس کے علاوہ ریاست کو اس پروجیکٹ سے 20فیصد بجلی حاصل ہوگی۔
اوجھ ملٹی پرپز پروجیکٹ کو 5850 کروڑ روپے کی لاگت سے عملانے کے لئے منظور ی دی گئی ہے ۔ اس پروجیکٹ سے کٹھوعہ ضلع میں 31 ہزار ہیکٹر اراضی کو آبپاشی ملے گی اور 186 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی ۔
حکومت تمام خطوں کے لوگوں کی امید وں کو پورا کر رہی ہے ۔لداخ میں یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے ایکٹ نوٹیفائی کیا گیا ہے تاکہ اس خطے کے لوگوں کی دیرینہ مانگ کو پورا کیا جاسکے۔ایکٹ میں مناسب ترمیم کی گئی ہے تاکہ لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کو مزید بااختیار بنایا جاسکے ۔ریاست بھر میں چالیس نئے ڈگری کالج قائم کئے جارہے ہیں ۔
ریاست سے باہر تعلیم حاصل کر رہے جموں وکشمیر کے طالب علموں کو سہولیت بہم رکھنے کی خاطر لیزان آفیسر نامزد کئے گئے ہیں۔
تدریسی عملے کے مسائل حل کرنے کے لئے حکومت نے فیصلہ لیا ہے کہ ان کو ایک ہی کیڈر میں ضم کیا جائے گا۔اس فیصلے سے معیار تعلیم میں بہتری آئے گی۔
ریاست میں ہر سکول میں بیت الخلاء ، پینے کے پانی ،جسمانی طور خاص بچوں کے لئے ریمپ اور فرنیچر سہولیات دستیاب رکھنے کے لئے ایک لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے ۔
حکومت ریاست میں مناسب طبی نگہداشت فراہم کرنے کے لئے وعدہ بند ہے۔ریاست میں 30لاکھ نفوس پرمشتمل 6لاکھ کنبوں کو آیوشمان بھارت سکیم کے دائرے میں لایا جارہا ہے ۔اس سکیم سے مستفید ہونے والے کنبے کو سالانہ پانچ لاکھ روپے کا انشورنس کور مہیا رہے گا۔ہم نے اب تک 12لاکھ مستحقین کو اس سکیم کے تحت درج کیا ہے ۔ملک میں آیوشمان بھارت گولڈ کارڈ تقسیم کرنے کے عمل میں جموں وکشمیر دوسرے نمبر پر ہے۔طبی شعبے میں ہماری کارکردگی کو ملکی سطح پر سراہا جارہا ہے۔
مرکزی حکومت نے اننت ناگ ، بارہمولہ ، ڈوڈہ ، کٹھوعہ اور راجوری میں میڈیکل کالجوں کی تعمیر کے لئے حال ہی میں 260 کروڑ روپے واگزار کئے ہیں اور اس طرح اس مقصد کے لئے اب تک واگزار کی گئی کل رقم 765کروڑ روپے ہوگئی ہیں۔ان میڈیکل کالجوں کے لئے 4300 طبی اور نیم طبی اسامیوں کی تقرری کے لئے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر عمل جاری ہے ۔ان میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس کا پہلا بیچ اس برس جون میں شروع ہوگا ۔ ان میڈیکل کالجوں کے قیام سے جہاں ریاست میں طبی خدمات کی فراہمی میں مزید استحکام آئے گا وہیں ایم بی بی ایس کے لئے دستیاب نشستوں میں 100 فیصد اضافہ ہوگا۔بانڈی پورہ ، گاندربل ، شوپیاں ، سانبہ اور ریاسی کے سب ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کا درجہ بڑھاکر انہیں ضلع ہسپتال کا درجہ دیا گیا ہے۔یہ بات باعث اطمینان ہے کہ کپواڑہ اور بارہمولہ اضلاع میں صحت ، تعلیم اور زراعت شعبوں کے تحت پچھلے پانچ مہینوں کے دوران ٹرانسفارمیشن ایسپائیریشنل ڈسٹرکٹ پروگرام کے تحت واضع پیش رفت ہوئی ہے ۔ان اضلاع کی رینکنگ میں جو بہتری آئی ہے وہ قابل سراہنا ہے ۔مجھے یہ بات کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر ستمبر 2018ء کے دوران کھلے میں رفع حاجت بشری سے پاک قرار دیا گیا۔ریاست میں دس لاکھ سے زائد بیت الخلاء تعمیر کئے گئے ہیں
ریاست میں خاص سیکٹروں میں کار خانہ داری کا ماحول پیدا کرنے کے لئے خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہیں ۔ریاست میں نئے کارخانہ داروں کی ترقی کے لئے جموں اینڈ کشمیر سٹارٹ اَپ پالیسی متعارف کی گئی ہے ۔اس پالیسی سے انٹرپرینوروں کو کافی مدد مل رہی ہے ۔
حکومت نے اپنی نوعیت کی پہلی ٹریڈ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی متعارف کی ہے ۔ اس پالیسی کا مقصد اگلے دس برسوں کے دوران تجارت کا حجم پانچ گنا بڑھانا ہے ۔ریاست جموں وکشمیر کو سرمایہ کاری کے لئے موزون بنانے کی خاطر ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔تجارت میں آسانی پیدا کرنے کے لئے جموں اینڈ کشمیر سنگل ونڈیوایکٹ 2018کو لاگو کیا گیا ہے ۔اس ایکٹ کو لاگو کرنے کا مقصد تاجروں کو مختلف سہولیات آسانی سے فراہم کرنا ہے ۔محکمہ صنعت و حرفت نے 23 نئی خدمات کو آن لائن دستیاب رکھا ہے ۔
باغبانی شعبہ ہماری ریاست کی اقتصادیات میں 35سے 40فیصد حصہ ادا کررہا ہے اور اس میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔تاہم فصل کٹائی میں ٹیکنالوجی کی کمزوری اور سٹوریج سہولیات کی کمی ایک مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کے لئے حکومت ضروری اقدامات کر رہی ہے ۔
اخروٹ کی تجارت کی وسیع گنجائش کو مد نظر رکھتے ہوئے پرائیویٹ سیکٹر میں والنٹ پروسسنگ یونٹ قائم کرنے کے لئے انٹرسٹ سب ونشن سکیم کو منظور ی دی گئی ہے ۔500 میٹرک ٹن گنجائش والے اس سکیم کے دائرے میں آسکتے ہیں۔اسی طرح پرائیویٹ سیکٹر میں ہائی ٹیک اخروٹ کی نرسیاں لگانے کو بھی منظوری دی گئی ہے۔
سیاحت ہماری ریاست کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔حکومت اس سیکٹر کو وسیع پیمانے پر ترقی دینے کے لئے پُر عزم ہے۔ہم نے سیاحتی شعبے کو فروغ دینے اور وادی کشمیر سے متعلق منفی تاثر کو دور کرنے کے لئے ایک جامع مہم چھیڑی ہے ۔ہماری مہم کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں جو اس بات سے ثابت ہورہا ہے کہ پچھلے چند ایک ماہ کے دوران پہلگام اور گلمرگ کے سبھی ہوٹل سیاحوں سے بھرے پڑے ہیں۔
ریاستی محکمہ سیاحت ریاست میں پلگرم ٹورازم کو فروغ دینے کے لئے ٹھوس کوششیں کررہا ہے ۔2017ء میں شری ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لئے جہاں 81.78 لاکھ یاتری آئے وہیں 2018ء کے دوران یہ تعداد 85.87 لاکھ رہی ۔ اسی طرح 2017ء میں شری امرناتھ جی یاترا کے لئے 2.60 لاکھ یاتری آئے جبکہ 2018ء میں یہ تعداد 2.85لاکھ تھی۔
لداخ خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے مرکزی سرکار نے مزید سیاحتی اور ٹریکنگ روڑ کھولنے کے لئے ہمارے منصوبے کو منظوری دی ہے ۔مرکزی حکومت نے ریاست میں پی ایم ڈی پی کے تحت سیاحتی ڈھانچوں کو فروغ دینے کے لئے 2000 کروڑ روپے کی اضافی سرمایہ کاری کو بھی منظوری دی ہے۔اس سرمایہ کاری سے ریاست میں سیاحوں کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
نومبر 2018ء میں غیر متوقع برفباری کی وجہ سے باغبانی شعبے کو جو نقصان پہنچا ا س سے ہم سب باخبر ہیں۔متاثرہ باغ مالکان کو دی جانے والی ریلیف کی رقم کو بڑھا کر 36000 روپے فی ہیکٹر کیا گیا ۔ہم نے قدرتی آفات کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے عمل میں آسانی پیدا کی ہے۔
خواتین و حضرات : ریاست جموں وکشمیر ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے ۔ہمارے نوجوان پُر امید ہے ۔وہ کامیابی اور اطمینان کی آس لگائے بیٹھے ہیں ۔
یہ بات قابل تشویش ہے کہ ہمارے کئی نوجوان جو پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں انتہا پسندی کے جھانسے میں آکر بندوق اُٹھارہے ہیں ۔ اس کی وجہ سے وادی کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ہمارا یقین ہے کہ تشدد اور ٹکراؤ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس پاگل پن کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہاکہ ہماری ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ ہم تشدد کے ان زخموں کو ہمیشہ کے لئے مٹادیں۔یہ ہماری مجموعی ذمہ داری ہے اور اس میں لوگوں کا تعاون لازمی ہے ۔
قوم کی تعمیر میں ہمارے نوجوانوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ امور نوجوان و کھیل کود نے ریاست میں کھیل ڈھانچے کو فروغ دینے پر خاص توجہ مرکوز کی ہے ۔ایم اے سٹیڈیم جموں کو 42.17 کروڑ روپے کی لاگت سے بین الاقوامی کرکٹ سٹیڈیم میں تبدیل کیا گیا ہے اور یہ سٹیڈیم اپریل 2019ء تک مکمل ہوگا۔ اب اس کرکٹ سٹیڈیم میں قومی اور بین الاقوامی کرکٹ میچ کھیلیں جاسکتے ہیں ۔بخشی سٹیڈیم سری نگر کو 44کروڑروپے کی لاگت سے فیفے کے قواعد کے مطابق بین الاقوامی فٹ بال سٹیڈیم بنایا گیا ہے ۔یہ سٹیڈیم جون 2019ء تک مکمل ہوگا۔ اس میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے فٹ بال میچ کھیلے جاسکتے ہیں ۔
اس موقعہ پر میں سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتوں ، سماجی، تمدنی ، مذہبی اور دیگر انجمنوں کے لیڈروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آکر خوشحال جموں وکشمیر کی تعمیر میں ہمارے ساتھ ہاتھ ملائیں تاکہ ہم اپنی ریاست کو دوسری ریاستوں کے لئے ایک رول ماڈل بناسکے۔ میں اپنی بات ختم کرنے سے پہلے ریاست جموں وکشمیر کے عوام اور میرے صلاح کاروں کی ٹیم ، چیف سیکرٹری کے علاوہ سول اور پولیس انتظامیہ کے افسران کو مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے ریاست میں انتظامیہ کی بہتری میں ایک اہم رول ادا کیا ہے ۔میں آپ سب کویقین دلاتا ہوں کہ یہ سلسلہ ریاست میں جمہوری حکومت کی تشکیل تک جاری رہے گا۔ میں آپ کو ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں کہ حکومت بہتر انتظامیہ کی فراہمی اور ترقی کے مشن پر گامز ن رہے گی۔ جے ہند

Comments are closed.