شراب تمام برائیوںکی جڑ
تحریر
شگفتہ خالدی
قرآن میںاللہ تعا لیٰ فرماتا ہے اے نبی نبی ﷺ یہ تم سے شراب اور جوئے کی نسبت دریافت کرتے ہیں ،کہہ دو کہ ان میں نقصان بہت بڑے ہیںاور فائدے سے زیادہ نقصانات کہیں زیادہ ہیں۔ سورہ ۃالبقرۃ اسی سورہ کے ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو تم وہ چیزیں جو زمین میں تمہارے لئے حلال اور پاک ہیں کھائو اور شیطان کے قدموں پر مت چلو در حقیقت وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ سورۃ البقرۃ۔
قرآن ہمیں اللہ کی نشانیوں میں غور و تدبر کی بار بار ترغیب دیتا ہے ۔یعنی سائنسی تحقیقات کی جانب توجہ دلاتا ہے ۔غیر متعصب اہل مغرب کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انہیں جو کچھ سائنسی تحقیقات کے میدان میں ملا ہے وہ مسلمانوں کی تحقیقات کا صدقہ ہے ۔بہر حال کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سائنسی تحقیقات سے ہمیں کوئی بیر ہے بلکہ یہ حکمت وہ خزانے ہیں جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے جہاں ملے اسے حاصل کرے‘‘۔اس یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان سائنس کا مخالف ہو ہی نہیں سکتا ہاں چند سائنسی نظریات کا مخالف ہو سکتا ہے ۔اور یہی باتیں سائنسی ترقی کا سبب بنتی ہیں ۔اگر کسی سائنس داں کی باتیں یا ان کی تحقیق کو دوسرا سائنسداں اسی طرح من و عن مان لیتا تو آج جس دنیا میں ہم سانس لے رہے ہیں جس کو صنعتی انقلاب کے بعد اطلاعاتی انقلاب کا دور کہا جارہا ہے تو کیا یہ ممکن ہو پاتا ۔ہر گز نہیں بلکہ یہ اسی اختلاف کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے نئی تحقیق کی بنیاد رکھی گئی۔جب کہیں زلزلہ یا سونامی یا اس طرح کی دوسری عظیم تباہی پھیلانے والی آفت سماوی و ارضی آتی ہے۔قرآن ان واقعات اور ان کے باقیات سے عبرت لینے کے لئے کہتا ہے ۔قرآنی واقعات کا تجزیہ کرنے سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ جب اللہ نے باغی قوموں کی پکڑ کی اور ان پر اپنا عذاب نازل کیا تو آخر وقت میں ان کے دل میں ندامت کا احساس جاگتا تھا ۔لیکن چونکہ آخری وقت میں توبہ قابل قبول نہیں اس لئے وہ ندامت ان کے کچھ کام نہیں آیا ۔لیکن اسی تناظر میں آج کے حالات و واقعات کا تجزیہ کیجئے تو آج کا انسان تو بہت زیادہ شریر اور باغی ہے ۔لیکن اللہ کی رحمت ہے کہ پھر بھی یا تو پکڑ نہیں ہوتی یا کافی ڈھیل دی جاتی ہے ۔یاآپ ﷺ کی اس دعا کا اثر ہے جس میں آپ ﷺ نے اجتماعی ہلاکت سے اپنے امت کو محفظ رکھنے کی دعا مانگی تھی۔2014 کے سیلاب جس نے کشمیر کو بالکل دنیا سے الگ تھلگ کرکے رکھ دیا تھا ۔جتنا بھیانک اور تباہی پھیلانے والا وہ سیلاب تھا اس مناسبت سے تباہی نہیں مچی اس کو اللہ کی مہربانی یا اس کی رحمت نہیں تو اور کیا کہیں گے ۔ یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ کیا یہاں حکومت نے اس بات پر غور کیا ؟کہ جموں و کشمیر میں شراب خوری،بدکاری،رشوت خوری،قتل و غارت گری،منشیات کا استعمال اور دیگر برائیوں نے یہاں کے نوجوان طبقہ کو گیر لیا ہے۔ جموں و کشمیر میں صاف ستھرے ماحول کو کس طری پٹری پر لایا جائے اس کی حکومت کو کوئی فکر نہیں ۔ گجرات ،بہار و دہلی حکومتوں نے شراب،گھٹکا وغیرہ پر پابندی لگادی جموں و کشمیر حکومت نے بہارسرکار سے یہ سبق بھی نہیں سیکھ لیا اور نہ ہی اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے میں کوئی بیان دیتی ہیں، جو ایک قابل افسوس بات ہے۔ اسلام نے ہر طرح کے نشہ کو حرام قرار دیا ہے ۔اسلامی نظام حکومت میں اس کے استعمال کرنے والوں پر حد جاری کی جاتی ہے ۔کئی اسلامی ممالک میں اس کے کاروباریوں کیلئے سزائے موت مقرر ہے نوجوانوں میں نشہ کی لعنت میں اضافہ کی جہاں کئی وجوہات ہو سکتی ہیں وہیں ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ بیروزگاری اور اس کے سبب ذہنی تنائو سے چھٹکارا پانے کیلئے عام طور پر نوجوان نشہ میں پناہ ڈھونڈتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ نوجوان نشہ کو اپنی پناہ گاہ کیوں بناتے ہیں؟ تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کے دور میں والدین کے پاس بھی اپنی اولاد کیلئے وقت کی قلت ہو گئی ہے ۔عام طور پر وہی نوجوان نشہ کی لت کا شکار ہو تا ہے جو والدین کی عدم توجہی کا شکار ہوتا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ والدین بچوں پر پوری توجہدیں اور ان کی نگرانی مشفقانہ اور دوستانہ انداز میں کریں ۔وادی میں ایک چونکادینے والی حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ یہاں نوجوان لڑکے ہی نہیں نوجوان لڑکیاں اور خواتین بھی اس کا شکار ہو رہی ہیں اس لیے یہاں حکومت کو خواب خرگوش سے ہوشیار کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ جب گناہوں اور ظلم و ستم کا گراف بڑھ جاتا ہے تو اُس وقت اللہ کی لاٹھی آواز نہیں کرتی (سورہ الزلزال)اس سورہ میں قیامت کے اس عظیم زلزلے کا ذکر ہے جس میں موجودہ دنیا اور کائنات کی جگہ کوئی دوسری دنیا ہی وجود میں آئے گی ۔اوپر لکھا گیا کہ پہلے کی بنسبت آج کا انسان زیادہ شریر ہو گیا ہے کہ وہ عذاب دیکھ کر بھی اللہ کی طرف رجوع نہیں ہوتا ۔جبکہ پہلے کے لوگ عذاب دیکھ کر اللہ پر ایمان لے آتے تھے ۔لیکن آج کا انسان تو گناہوں کا دامن نہیں چھوڑتا ۔کسی پر ظلم کرنا نہیں چھوڑتا اور نہ شرآب ،منشیات ہی چھوڑتا اور نہ ہی شرک اور قبر پرستی سے توبہ کرتا ہے ۔بلکہ یہ ساری تباہیاں دیکھتا اور اس سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔لیکن ہاں اتنا ضرور ہو ا ہے کہ اس میں کمی آئی ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے ۔تاکہ ہم بھی اس قوم کی طرح انجام سے حفوظ رہ سکیں جس پر اللہ کا غضب نازل ہوا جس کی جانب سورہ فاتحہ کی آخری آیت میں اشارہ کیا گیا ہے ،جس میں اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے کہ اے اللہ مجھے اُن کا راستہ مت دکھا دے جن پر تیرا غضب ہو اور نہ ہی گمراہی کا راستہ ۔ایک اطلاع کے مطابق وادی کشمیر میں ہر گزرتے دن ،مہینے اور سال کے ساتھ ساتھ وادی میں منشیات کے انسان کش دھندے اور جسموں و اذہان کو لاغر و ناتاواں بنانے والی نشہ آور منشیات کا استعمال خطرناک رُخ اختیار کرتا جارہا ہے ۔اور اس کا شکار یہاں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہورہی ہیں۔حکومت کی لاپروائی سے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے مستقبل کو مخدوش بنا دیا گیا ۔اب شرآب کے علاوہ نشہ آور انجکشن اور بوتلیں بھی یہاں کے نوجوانوں تک پہنچا دی جاتی ہے نوجوان اب ان نشہ آور چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے چوری بھی کرتے ہیں ۔ آخر حکومت کی خاموشی اور اس پر کسی سنجیدگی کی کمی ہمیں تو یہی سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ حکومت اس لعنت کو خاموش رہ کر حمایت دے رہی ہے۔حکومت اگر واقعی اس معاملے میں سنجیدہ ہے تو عملی طور آگے آکر اس بدعت کا قلع قمع کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے،کیونکہ آیندہ نسلوں کو جس قدر ان نا پاک نشہ آور چیزوں سے باز رکھنے میں کا میاب ہوں گے ہماری ہمہ جہت ترقی بھی اس سے راست طور پر وابستہ ہوگی۔شاید کہ اُتر جاے تیرے دل میں میری بات۔
Comments are closed.