میانما رقتل عام  مسلم ممالک کا امتحان، طیب اُردو گان کو سلام 

تحریر
ناظم نذیر
تیغ قاتل پر لہو کی تازگی کب تک
چلے گی مفلسوں کی گردنوں پر چھری کب تک
خالق کائنات ومالک دوجہاں نے آدم کی تخلیق عمل میں لاکر دنیائے انسانیت کو مزًین اور پُررونق بنادیا اور تمام مخلوقات پرانسان کو فضیلت  دیکر اس کو اشرف المخلوقات کے عظیم لقب سے نوازا اورانسان کو خود مختاری عطا کی ۔ تمام مخلوقات کو اس کے تابع بنادیا اور قرۃ الارض کو اس کے عیش و آرام کیلئے قیام گاہ بنادیا لیکن حضرت آدم ؑ سے لیکر قیامت کے صبح تک انسانوں کو زندگی گذارنے کیلئے پیغمبروں کے ذریعے ضابطہ حیات پہنچادیا اور جن لوگوں نے اللہ رب العزت کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر زندگی گذاری وہ کامیاب ہوئے اوروہ انعام و اکرام سے نوازے گئے۔جبکہ ان لوگوں پر اللہ کا غضب نازل ہواجنہوں نے ضابطہ حیات سے انحراف کرکے اپنا مصنوعی قانون ترتیب دیا جس میں تفاوت اور انتشار کو شامل رکھا گیا ۔جس کے نتیجے میں اس پُر وقار اور پُررونق دنیا کی حالت تبدیل ہوئی اورانسان میں حیوانیت کے طور طریقے پیوست ہوئے اور انسان انسان سے ٹکراگئے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ کے پیغام کو پھیلانے اور اس کو حقیقی معنوں میں دنیائے انسانیت پر نافذ کرنے کیلئے نبی اکرم ؐ نے تمام تکالیف اور اذیتیں برداشت کئے اور جنگ و احزاب میں رسول ؐ نے بہ نفس نفیس حصہ لیکر مشرکین کے ساتھ لڑائی لڑی اور اسلام کا بول بالا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے سورۃ الکافرون میں واضح کیا کہ ’’ آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو!نہ میں عبادت کرتا ہوں اُس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کررہاہوں ۔تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے‘‘ اس آیت کریم سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی مذہب کے ساتھ کوئی بھی شخص دوسرے پر نا حق نہ ظلم کرسکتا ہے اور نہ قتل کر سکتا ہے۔
الغرض اسلام اللہ کا دین ہے اور دنیائے انسانیت میں رہنے والے انسانوں کیلئے یہ مذہب عظیم ہے اور اس پر عمل کرنے والے مسلمان ہیں جو مذہب اسلام سے دور ہیں وہ کافر کہلائے جاتے ہیں اور یہ دین حق غیر مسلموں کو بھی تحفظ فراہم کرتا گویا مسلمان کے پاس غیر بھی حفوظ ہیں۔ لیکن عصر حاضر میں غیر مسلم ممالک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ان پر ظلم وتشدد ڈھائے جانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جاتی ہے اور یہ کسی المیہ سے کم نہیں ہے کہ اکثریتی مسلم ممالک مسلمانوں پر ہورہے ظلم وتشدد پر خاموش تماشائی بیٹھے ہیں ۔
برما جس کو آج میانمار کے نام سے جانا جاتا ہے جو سوتھ ایسٹ ایشاء کا غریب ترین ملک ہے اور اس ملک میں صدیوں سے مسلمان رہائش پذیر ہیں اور زمانہ قدیم میں دنیا کے مختلف ممالک بشمول بنگلادیشی ،چینی ،عربی مسلمان تجارت کی غرض سے آتے جاتے تھے اور میانمار کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے ۔تب سے آج تک اسی ملک میں رہائش پذیر ہیں اگر ان کی آبادی کا تناسب صرف 4فیصدی ہے اور اقلیتی فرقہ مانا جاتا ہے لیکن موجودہ حکومت نے اس ملک میں رہنے والے بالخصوص روہینگیائی مسلمانوں پر جو ظلم وستم اور قتل وغارت کا بازار گرم کیا ہوا ہے اسے انسانیت شرمسار ہورہی ہے ۔بدھ دھرم سے تعلق رکھنے والے حکمران مسلمانوں کوماربھگانے پر تلے ہوئے ہیں حالانکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ حکمران جس عظیم انسان ’’مہاتما بدھ ‘‘کے پیرو کار اپنے آپ کو گردانتے ہیں اس کی تعلیمات انسانوں کو تحفظ ،وقار اور عزت فراہم کرنا ہے اتنا ہی نہیں بلکہ وہ جانوروں اور جاناواروں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کا درس دے رہے تھے لیکن افسوس صد افسوس برما میں بدھ مذہب کے پیروکار فوجی حکمرانوں کی ایماء پرمسلمانوں کو اس طرح تہہ تیغ کررہے ہیں جس سے انسانیت کے رونگھٹے کھڑا ہوجاتے ہیںاور انٹرنیٹ کی سوشل ویب سائٹس بشمول وٹس اپ ،ٹیوٹر ،فیس بُک اور مسینجر پر روہنگیائی مسلمانوں کا قتل عام وائرل ہورہا ہے اور اس انٹرنیٹ کے زمانے میں ہرملک اور ہرشہر وگام میں یہ ویڈیو دیکھے جاتے ہیں تو درد دل رکھنے والے انسان خون کے آنسو بہا رہے ہیں کیونکہ ان مسلمانوں کو اس طرح ناکردہ گناہوں کی پاداش میں قتل کیا جارہا ہے جو سلوک موذی اوروحشی جانوروں کے ساتھ بھی ممکن نہیں ہے ۔ظلم وبربریت کی حد تو یہ ہے کہ ہزاروں مسلمانوں کو زندہ جلادیا گیا ،ماں کے گود سے بچے کوچھین کر اس کو تہہ تیغ کیا جارہا ہے اور ماں کو قتل کرکے شیر خوار بچوں کو انکی چھاتیوں کے ساتھ تھمادیا جاتا ہے اور ان معصوموں کی چیخ وپکار سے زمین و آسمان لرز اٹھتا ہے لیکن افسوس مسلم ممالک کے فرمانروا اور حکمران ٹس سے مس بھی نہیں ہوجاتے ہیں اورانتہا درجے کی بزدلی کا مظاہرہ کرکے اس بیہمانہ قتل و غارت گری کے خلاف ایک لفظ بیان کرنے کی زحمت گورا نہیں کرتے ہیں بلکہ دنیاوی ناز ونخروں اورعیش وعشرت میں رہ کرانسانیت کو ہی بھول گئے ہیں ۔
لہو میں رنگ دیا قاتل نے سر سے پائوں تک
میرے منصف کو یہ بھی خود کشی معلوم ہوتی ہے
اور ان مسلمان حکمرانوں کی یہ خاموشی انسانیت پر سیاہ دھبہ ہے ۔چند ایسے ممالک جن کا وجود ہی دین اسلام پر ہے لیکن رونگیائی مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر بھی چپ سادھ لیتے ہیں حالانکہ ان غریب مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنا مسلمان حکمرانوں اور فرمانرائوں کی غیرت اور مسلمانیت کو چلینج ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاریخ انسانیت میں ظالم حکمرانوں کے ظلم وبربریت  اور قتل و غارت کے سیاہ ابواب کنند ہیں اور ان کے ظلم کا انجام بھی واضح اور عیاں ہے ،فراعون نے خدائی دعویٰ کرکے انسانیت کا خون کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور بچوں کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی قتل کرنے کا حکم صادر کیا لیکن پھر بھی موسی ٰ پید ا ہو ا اوراسی کے گھر میں پرورش پا کر اس کے ظلم کو ختم کرنے کا وسیلہ ثابت ہوا ۔جو فراعون کے تابعدار اور فرمانبردار تھے وہ موسٰی ؑ کے خدائی معجزات دیکھ کر اسی کے ہوگئے اور خدائی کا دعویٰ کرنے والا فراعون اور اسکا لشکردریا برد ہوگیا اور رہتی دنیا تک فراعون کی لاش کو انسانوں کیلئے بطور عبرت حفوظ رکھا ۔قوم لوت ،ثمود کی نافرمانی اور خدا پرستوں کے ساتھ ظلم و بربریت کاا نجام تاریخ میں عیاں وبیاں ہے کہ ان قوموں پر اللہ رب ذولجلال نے غضب نازل کیا اور وہ صفحہ ہستی سے نیست نابود ہوگئے اور اللہ نے ان کے بدلے دوسرے قوموں کو معرض وجود میں لایا اور قوم نوح نے اپنے پیغمبر نوح علیہ االسلام کو جھٹلایا اور اس کے مانے والوں پر ظلم وستم ڈھائے اور بِاذِِنِ اللہ پوری قوم پر اللہ کاغضب نازل ہوااور غرق آب ہوئے ۔عین اسی طرح برما کے حکمرانوںکا انجام بھی یہی ہوگا اوریہ قول اس پر صادر آتا ہے کہ’’ ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ‘‘اور ہمیں اس بات پر یقین محکم ہے کہ جس طرح برما کے فوج حکمرانوں کی ایماء پر ان مجبور ومعصوم عن الخطا ء مسلمانوں کو تہہ تیغ کررہے ہیں ان پر اللہ کا غضب نازل ہوگا اور ان کیلئے پھر کوئی رستہ گار یا دستگیر نہیں ہوگا کیونکہ جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس سے نجات نہیں دلاسکتی اور اس وقت وہ مسلمان حکمران بھی عش عش کر اپنی خاموشی اور بزدلی پر پچھتائیں گے البتہ ان حالات کے بیچ ترکی کے صدر رجب طیب اردو گان نے  برما کے مسلمانوں کے ساتھ جس یکجہتی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے اور سوشل میڈیا پر جب صدر موصوف کی ہمدردی اور درددلی کی نمائش کی گئی تو وہ واقعی دیگر ممالک کے حکمرانوں بالخصوص مسلمان حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔بہرحال برما کے مسلمانوں پر ہورہے ظلم وستم کی داستان کو بیان کرنے سے درد دل رکھنے والے انسانوں کے رونگھٹے کھڑا ہوجاتے ہیں ۔
موت ہے وہ زندگی جس میں نہ ہوانقلاب
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

تحریر
ناظم نذیر
9622434289

Comments are closed.