جنوبی کشمیر:گھاٹ کھڈونی کولگام میں اُس وقت 1990جیسے مناظر دیکھنے کو ملے جب جنگجو مخالف آپریشن کے دوران لوگوں کو گھروں سے باہر نکال کر ایک جگہ پر جمع کیا گیا ۔سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں گاﺅں میں افرا تفری کا ماحول پھیل گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ دن میں پانچ مرتبہ رہائشی مکانوں کی تلاشی لی گئی جس دوران مالہ و اسباب کو تہس نہس کیا گیا۔ پہاڑی ضلع شوپیاں کے ڈی کے پورہ گاﺅں میں بھی جنگجو مخالف آپریشن کے دوران تشدد بھڑک اُٹھا۔ کولگام اور شوپیاں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی گئی کئی افراد زخمی ۔ دریں اثنا سہ پہر کے بعد سیکورٹی فورسز نے کرانکشون کالونی سوپور میں تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران پورے گاﺅں کو سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی گئی ۔ گھاٹ کھڈونی کولگام میں سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی ۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکال کر ایک جگہ پر جمع کرکے شناختی پریڈ کرائی ۔ نمائندے کے مطابق جنگجو مخالف آپریشن شروع کرنے کی خبر پھیلتے ہی آرونی اور اُس کے ملحقہ علاقوں کے نوجوان گھاٹ کھڈونی کولگام پہنچنے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراو کرنا شروع کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے جبکہ ہوائی فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کو اسپتال منتقل کرناپڑا۔ سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں آپریشن میں رخنہ پڑا۔مقامی لوگوں کے مطابق سیکورٹی فورسز نے صبح آٹھ بجے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران دن بھر پانچ مرتبہ رہائشی مکانوں کی تلاشی لی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ سہ پہر پانچ بجے تک جنگجو مخالف آپریشن جاری تھا جس دوران مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ دن بھر جھڑپوں میں 15کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر ڈی کے پورہ شوپیاں گاﺅں کو سیکورٹی فورسز نے جونہی محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا اس دوران لوگ گھروں سے باہر آئے اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پہلے سے تعینات فورسز اہلکاروں نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور پتھراو کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ یہاں پر بھی ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں آس پاس علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے گاﺅں میں کئی گھنٹوں تک تلاشی لی ۔ دفاعی ذرائع نے جنوبی اضلاع کولگام اور شوپیاں میں جنگجو مخالف آپریشن شروع کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج نے تلاشی آپریشن شروع کیا تاہم اس دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ دریں اثنا سہ پہر چار بجے کے قریب سیکورٹی فورسز نے کرانکشون کالونی سوپور کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے لوگوں سے تلقین کی کہ وہ گھروںمیں ہی رہے۔ ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں کی نقل وحرکت کی اطلاع ملنے کے بعد فوج ، سی آرپی ایف اور ٹاسک فورس نے گاﺅں کو پوری طرح سے سیل کرکے فرار ہونے کے راستوں پر پہرے بٹھا دئے۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک کرانکشون کالونی سوپور میں گھر گھر تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ جاری تھا۔
دمہال ہانجی پورہ کولگام میں سیکورٹی فورسز نے کئی افراد کی ہڈی پسلی ایک کردی
دمہال ہانجی پورہ کولگام میں اُس وقت تشدد بھڑک اُٹھا جب سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مقامی جنگجو کے گھر والوں کے ساتھ تعزیت پُرسی کیلئے آئے ہوئے لوگوں کو روک کر اُن پر ڈنڈے برسائے جس کے خلاف لوگوں نے احتجاجی مظاہرئے کئے ۔ مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق آرونی کولگام میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جاں بحق چار جنگجوﺅں کے گھر والوں کے ساتھ تعزیت پُرسی کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ دمہال ہانجی پورہ کولگام میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب سیکورٹی فورسز نے کئی افراد کو روک کر اُن کی ہڈی پسلی ایک کردی جس کے خلاف نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرئے کئے اور پتھراو کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ خشت باری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے سیکورٹی فورسز نے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں دمہال ہانجی پورہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں خوف وہرا س کا ماحول پھیل گیا۔ نمائندے نے مقامی لوگوںکا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ آوورہ مشی پورہ کولگام کے رہنے والے جنگجو کے لواحقین کے ساتھ تعزیت پُرسی کیلئے لوگ جا رہے تھے کہ پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز نے کئی افراد کو روک کر اُن پر ڈنڈے برسائے جس کے خلاف نوجوان مشتعل ہوئے اور پتھراو کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹیر گیس شلنگ سے تین نوجوانوں کو چوٹیں آئیں ہیں۔ یو پی آئی
Comments are closed.