سری نگر ،: وادی کشمیر میں بدھ کے روز بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ کے موقع پر مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر پولنگ والے علاقوں میں ہڑتال کی گئی جس کے دوران ایسے علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم پولنگ والے علاقوں میں تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر حکومتی احکامات پر بند رہے۔ انتظامیہ کے دعوے کہ وادی میں کہیں کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، کے برخلاف سری نگر کے پائین شہر میں بدھ کو ایک بار پھر سیکورٹی قدغنیں عائد کی گئی تھیں ۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے بدھ کی صبح پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے پائین شہر کے مختلف حصوں بالخصوص نوہٹہ میں رابطہ سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کیا ہوا پایا۔ نامہ نگار کے مطابق پائین شہر میں سبھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند تھے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل تھی۔ پائین شہر کی سڑکوں پر سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ وادی میں بدھ کو دوسرے مرحلے کے تحت سری نگر میونسپل کارپوریشن کے 19 بلدیاتی حلقوں، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے 16 بلدیاتی حلقوں اور شمالی کشمیر کے تین اضلاع میں 14 بلدیاتی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ان سبھی اضلاع کے پولنگ والے علاقوں میں بدھ کوو مکمل ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال اور دوسرے مرحلے کی پولنگ کے دوران تشدد کے خدشے کے پیش نظر وادی بھر میں ریل خدمات معطل رکھی گئیں۔ اس کے علاوہ پولنگ والے اضلاع میں تیز رفتار والی فور جی اور تھری جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو منقطع رکھا گیا۔ کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسند قائدین کو کسی بھی الیکشن مخالف ریلی یا جلوس کو منظم کرنے یا کسی بھی ایسے پروگرام کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے تھانہ یا خانہ نظربند کرکے رکھا ہے۔ بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین مسٹر گیلانی کو گذشتہ قریب آٹھ برس سے مسلسل اپنے گھر میں نظربند رکھا گیا ہے۔ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو 7 اکتوبر کی صبح اپنی رہائش گاہ پر نظربند کیا گیا ۔ یاسین ملک کو 2 اکتوبر کو اپنے گھر سے گرفتار کرکے پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں بند رکھا گیا۔ مزاحمتی قیادت نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پربھی متعلقہ مقامات اور علاقہ جات میں مکمل بائیکاٹ اور احتجاجی ہڑتال کرکے بقول ان کے اس نام نہاد مشق سے عملاً دور رہ کر اسے کلی طور پر مسترد کرنے کی اپیل دہرائی تھی ۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ جن علاقوں میں احتجاجی ہڑتال کی جائے ان میں سرنگر میں سولنہ، آلوچی باغ، ایس ڈی کالونی بتہ مالو، زیارت بتہ مالو، شہید گنج، کرن نگر، چھتہ بل، قمرواری، بمنہ ایسٹ، بمنہ ویسٹ، نندریشی کالونی، پارمپورہ، زینہ کوٹ، لاوے پورہ، مجہ گنڈ، ٹنکی پورہ، حبہ کدل، بربرشاہ، فتح کدل اور منور آبادشامل ہیں۔ اس کے علاوہ لنگیٹ، سمبل، کنزر، وترگام، چرارشریف، بیروہ، ماگام، یاری پورہ، فرصل، اننت ناگ اور بجبہاڑہ میں بھی ہڑتال کی جائے۔ مزاحمتی قائدین نے بیان کے مطابق عوام سے یہ بات زور دیکر کہی کہ خون سے سینچی ہوئی ہماری حق خودارادیت کی تحریک اور بےش بہا جانی و مالی قربانیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہےں کہ قیادت اور عوام بھر پور اتحاد اور یکجہتی کامظاہرہ کرکے حکومت ہند کی جانب سے حق خودارادیت کی تحریک کے خلاف رچائی جارہی سازشوں سے نہ صرف چوکنا رہیں بلکہ اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے یکسوئی اور استقامت کا مظاہرہ کریں۔ جموں وکشمیر میں چار مرحلوں پر مشتمل بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بدھ کو 263 بلدیاتی حلقوں پر پولنگ ہوئی۔ ریاست میں اس سے قبل سنہ 2005 میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تھے۔ ان میں بیلٹ پیپر کا استعمال کرکے ووٹ ڈالے گئے تھے۔ سنہ 2005 میں بننے والے بلدیاتی اداروں کی مدت سنہ 2010 میں ختم ہوئی تھی۔ ریاست کی دو بڑی علاقائی جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی 8 اکتوبر سے شروع ہونے والے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کررہی ہیں۔ دونوں جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی سرکار پہلے دفعہ 35 اے پر اپنا موقف واضح کرے اور پھر وہ کسی انتخابی عمل کا حصہ بنیں گی۔ قومی سطح کی دو جماعتوں سی پی آئی ایم اور بی ایس پی نے بھی ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ یو اےن آئی
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.