بانڈی پورہ : وادی کشمیر میں اپنی نوعیت کے آٹھویں واقعے میں نامعلوم افراد نے شمالی ضلع بانڈی پورہ میں پنچایت گھر کو نذر آتش کیا .
پنچایتی انتخابات کے اعلان سے لیکر اب تک 8 پنچایتی گھروں کو نذرآتش کیا.تفصیلات کے مطابق متریگام ٹکری بانڈی پورہ نے پیر کی شب نامعلوم افراد نے پنچایت گھر کو نذرآتش کیا.
آگ کی اس واردات میں پنچایت گھر کی عمارت جزوی طور پر خاکستر ہوئی . فائراینڈ ایمرجنسی عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا.
وادی کشمیر میں پنچایت گھروں کو نامعلوم افراد کی جانب سے نذرآتش کرنے کا 8 واں واقعہ ہے جبکہ یہ شمالی کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے .
زیادہ ر پنچایت گھر جنوبی کشمیر میں نذر آتش کئے گئے جبکہ وسطی ضلع بڈگام میں بھی پنچایت گھر نذر آتش کئے گئے.پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تمام واقعات کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی .
مزاحمتی قیادت اور عسکری تنظیموں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پنچایتی انتخابات سے دور رہیں جبکہ ریاست کی 2 بڑی مین اسٹریم پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کررکھا ہے.اس کے علاوہ سی پی آئی ایم ،پی ڈی ایف اور ڈی پی این نے بھی انتخابات کا بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے.
کشمیر کی غیر یقینی اور نامساعد حالات کے سبب ان انتخابات کو کئی مرتبہ موخر کیا گیا جبکہ گورنر انتظامیہ نے یہ انتخابات ماہ اکتوبر اور نومبر میں 4 اور 9 مراحل میں کرانے کا اعلان کیا ہے .پہلے بلدیاتی انتخابات اور بعد میں پنچایتی انتخابات منعقد ہونگے.
جنوبی ضلع شوپیان میں تین ایس پی اوز کو بندوق برداروں نے اغوا کیا اور بعد میں اُنکی گولیوں سے چھلنی نعشیں میوہ باغ سے برآمد ہوئیں.
اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایس پی اوز کی جانب سے استعفیٰ کی کئی ویڈیو وائرل ہوئیں .پیر کے روز پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ اور 15 ویں کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ نے ہندوارہ میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا.
Comments are closed.