میں حق خودارادیت کی تحریک کے مفاد کیلئے حریت میں شامل ہونے کو تیار ہوں:انجینئر رشید

سرینگر// مین اسٹریم کے سیاستدانوں سے بزرگ لیڈرسید علی شاہ گیلانی کی اپیل پر مثبت ردمل کا اظہار کرتے ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کے صدر اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے کہا ہے کہ وہ حق خود ارادیت کی تحریک کے وسیع تر مفاد میں حریت میں شامل ہونے کیلئے تیار ہیں۔یو پی آئی کے مطابق سرینگر میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا’’یہ وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کا نہیں ہے بلکہ ایک ہوکر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کام کرنے اور نئی دلی کو جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو بدلنے کی کوششوں سے روکنے کا وقت ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ گیلانی صاحب کی جانب سے مین اسٹریم پارٹیوں کو مزاحمتی خیمے میں آنے کی اپیل کرنا اپنے آپ میں اہم ہے اور سبھی مخلص لوگوں کو اسکا خیر مقدم کرنا چاہیئے اور اسکا مثبت جواب دینا چاہیئے۔انجینئر رشید نے مزید کہا’’گزشتہ آٹھ سال کے دوران میں کئی بار گیلانی صاحب سے ملتا رہاہوں اور انہیں اپنی طرفسے حمایت کی پیشکش بھی کرچکا ہوں جسکا وہ کوئی تین سال قبل ایک بیان میں اعتراف بھی کرچکے ہیں۔حال ہی مزاحمتی لیڈر میرواعظ مولوی عمر فاروق صاحب نے بھی کہا ہے کہ انجینئر رشید عوام کی خواہشات و جذبات کے مطابق کام کر رہے ہیں اورمزاحمتی قیادت ہی کی طرح حق خود ارادیت کے مطالبے کے وکیل ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ہے کہ سید گیلانی نے مخلصانہ اپیل کی ہے جسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے اور ہر سنجیدہ طبقے کو اسکا مثبت رد عمل ظاہر کرنا چاہیئے۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ چونکہ نئی دلی جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن پر ڈھاکہ ڈالکر کشمیریوں کو مزید فاعی پوزیشن اختیار کرنے کی طرف دھکیلنے کی سازشوں میں لگی ہے لہٰذا کشمیریوں کو حالات کو سمجھتے ہوئے ایک ہوکر مظبوط اور کار آمد حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ گیلانی صاحب،میرواعظ اور یٰسین ملک کے علاوہ دیگر مزاحمتی قائدین سے ملاقات کا وقت مانگ کر سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ گیلانی صاحب کی پیشکش پر بات کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ ملاقاتوں کے دوران وہ سید علی شاہ گیلانی کی پیشکش اور اس حوالے سے اپنانے جانے والے طریقہ کار اور دیگر متعلقہ امورات پر گوروخوض کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حق خود ارادیت کے کاز کو انکے اسمبلی سے مستعفی ہونے سے بھی کوئی فائدہ پہنچتا ہو تو وہ اس طرح کی تجویز کو بھی زیر غور لانے پر آمادہ ہیں۔انجینئر رشید نے کہا کہ بزرگ لیڈر کے ساتھ ملکر وہ دیکھنا چاہیں گے کہ اگر انکے پاس کوئی موثر ،قابل عمل اور نتیجہ خیز روڑ میپ ہے تو انہیں اسے اپنانے میں کوئی اعتراض نہیں بلکہ خوشی ہوگی۔اس موقعہ پر انہوں نے سبھی سیاستدانوں ،باالخصوص عمر عبداللہ،سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے وسیع تر مفاد میں ابھی سید علی شاہ گیلانی یا کسی بھی لیڈر پر ذاتی حملہ کرنے سے احتراز کیا جانا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ ریاست ایک سنگین اور نازک صورتحال سے دوچار ہے لہٰذا ابھی سبھی کو انتہائی احتیاط اور سوچ سمجھ سے کام لینا ہوگا اور ذاتی پسند و ناپسند کو چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔

Comments are closed.