سرینگر عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے اپنے والد مرحوم شیخ محمد عبداللہ کو اُن کی 36ویں برسی پر اُنہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی وطن پرستی کے جذباتی حقائق اور حق وانصاف کے حصول کے لئے قربانیاں تواریخ میں قلمبندہیں۔ اگر مرحوم نے ہندوستان کے ساتھ سمجھوتہ کی حدآئین ہند میں شامل کرنے کے لئے اور خصوصی پوزیشن کے دفعات کا تحفظ کرنے کی ضمانت حاصل نہ کی ہوتی تو آج ریاست جموں و کشمیر کا اپنا انفرادی وجود نہیں ہوتا۔ اگر چہ شیخ محمد عبداللہ کے انتقال کے فوری بعد آئینی اور قانونی تنزلی وجود میں لائی گئی لیکن اس کے باوجود بیداری کا شعور مستحکم ہے۔ کبھی کبھی جذباتی جوش میں انسان غیر شعوری طور پر حقیقتوں کو فراموش کرتا ہے۔آخر کار فتح سچائی کی ہوتی ہے۔
انہوںنے کہا کہ یاداشت کے نہاں خانوں میں کیا کیا محفوظ ہے کوئی نہیں جانتا لیکن پانچوں حواس اپنے تجربات عقل کو منتقل کرتے رہتے ہیں اور شیر کشمیر نے ریاستی عوام کے حقوق اور ریاست کے تشخص کے تحفظ کی خاطر جو قربانیاں دی ہیں۔ اس کی گہری چھاپ عوام کے ذہنوں پر کبھی مٹ نہیں سکتی ہے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.