منتخب نمائیندوں کو عوامی مسائل حل کرنے میں حکومت کا تعاون دینے کی اپیل
منتخب نمائیندوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی اہمیت کے حامل معاملات کو حکومت کے سامنے پیش کرنے اور اپنے حلقہ انتخاب سے متعلق مسائل اور ترجیحات یقینی بنانے کیلئے اپنا کلیدی رول ادا کریں ۔
اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ گورنر انتظامیہ منتخب نمائیندوں کے صلاح مشورے سے ریاست کے تینوں خطوں کی متوازی ترقی یقینی بنانے کیلئے مشترکہ لایحہ عمل ترتیب دیں ۔
اس سلسلے میں گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست کے تمام منتخب اُمیدواروں سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے آ کر ریاست کے طول و عرض میں رہنے والے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور اُن کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت کی کوششوں میں بھر پور تعاون دیں ۔ آج حکومت نے جے کے آئی ڈی ایف سی کو قایم کرنے کیلئے ایک بڑے اقدام کے طور پر فیصلے کو منظوری دی ۔ جے کے آئی ایف ڈی سی کے ذریعے حکومت نامکمل بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کیلئے 8 ہزار کروڑ روپے کی رقم خرچ کرے گی ۔ ان پروجیکٹوں میں سے چند سال قبل کچھ پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں اور اُن کے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔
اس لئے منتخب اُمیدواروں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ تمام نامکمل پروجیکٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے حلقہ انتخاب میں التوا میں پڑے کام حکومت کے گوش گذار کریں ۔ اس سلسلے میں منتخب نمائیندے متعلقہ ڈپٹی کمشنروں یا براہ راست منصوبہ بندی ، ترقی اور نگرانی محکمے کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں ۔
التوا میں پڑے تمام پروجیکٹوں کو 2019 تک مکمل کیا جائے گا
ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ آج گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں ریاست کے ترقیاتی منظر نامے کو آگے بڑھانے کیلئے 8 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کو منظوری دی گئی تا کہ التوا میں پڑے تمام پروجیکٹوں کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے ۔ اس مقصد کیلئے ایس اے سی نے نئی بنیادی ڈھانچہ کمپنی جموں اینڈ کشمیر انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن قایم کرنے کو منظوری دی ۔ اس کارپوریشن کو اختیار دیا گیا کہ وہ مختلف مالی اداروں سے 8 ہزار کروڑ روپے کے قرضے حاصل کرے تا کہ ان فنڈڈ پروجیکٹوں کو مکمل کیا جا سکے۔
گورنر کے مشیر بی بی ویاس ، کے وجے کمار اور خورشید احمد گنائی کے علاوہ چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم کے ساتھ ساتھ پرنسپل سیکرٹری گورنر امنگ نرولہ بھی میٹنگ میں موجود تھے ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ ان فنڈڈ پروجیکٹوں اور التوا میں پڑے پروجیکٹوں کی وجہ سے ترقیاتی عمل آگے نہیں بڑھ رہا ہے اور جو ترقیاتی پروجیکٹ تکمیل کے مختلف مرحلے میں ہیں اور جنہیں رقومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ادھورا چھوڑا گیا ہے اُن کیلئے رقومات فراہم کئے جائیں گے ۔ مزید کہا گیا کہ کچھ پروجیکٹ پانچ برسوں سے التوا میں پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ریاستی پلاننگ اور ترقی و مانیٹرنگ محکمے کے ایک سرسری جائیزے میں بتایا گیا کہ دس ہزار کروڑ روپے لاگت والے ادھورے پروجیکٹ مختلف مراحل پر پڑے ہوئے ہیں اور انہیں مکمل کرنے کیلئے ایک ہی مرتبہ 6 ہزار کروڑ روپے درکار ہوں گے ۔
ریاستی پلاننگ محکمے نے مزید بتایا ہے کہ چھ محکمے جن میں آر اینڈ بی ، پی ایچ ای ، سکولی تعلیم ، اعلیٰ تعلیم ، یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس ، صحت و طبی تعلیم اور محکمہ سیاحت شامل ہیں میں ان فنڈڈ کے کُل دو تہائی پروجیکٹ ہیں اور ان چھ محکموں میں لگ بھگ چار ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹ التوا میں ہیں ۔
ایس اے سی نے اس حقیقت کا نوٹس لیتے ہوئے کہ ان پروجیکٹوں کے مکمل ہونے میں معمول کے طریقے پر ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ لگے گا ۔ شہریوں کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا کہ ایک خصوصی سکیم وجود میں لائی جائے گی جس کی رو سے ایک ہی مرتبہ ترقیاتی پروجیکٹوں کیلئے 8 ہزار کروڑ روپے دستیاب کرائے جائیں گے تا کہ ان فنڈڈ پروجیکٹوں کے ساتھ ساتھ ترجیح بنیادوں پر نئے پروجیکٹوں کو بھی مکمل کیا جا سکے ۔
سکیم کو چالو کرنے اور پروجیکٹوں کی مختلف امور کو عملانے کے حوالے سے ایس اے سی نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کو منظوری دی جن میں فائنانس ، پلاننگ ، پی ڈبلیو ڈی اور پی ایچ ای کے انتظامی سیکرٹری اور متعلقہ محکمے کے سیکرٹری شامل ہوں گے ۔ اس موقعہ پر ہدایت دی گئی کہ اس سکیم کے تحت اس بات کو یقینی بنانے کیلئے سخت رہنما خطوط وضح کئے جائیں گے تا کہ اہم پروجیکٹ ہی ہاتھ میں لئے جائیں ۔ اس عمل میں انتظامی منظوری بھی شامل ہو گی اور پروجیکٹ کو شروع کرنے سے پہلے لازمی تکنیکی منظوری بھی ضروری ہو گی اور اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہو گی کہ پروجیکٹ کو شفاف طریقے پر ای ٹینڈرنگ کے ذریعے سے عملایا جا سکے ۔
ایس اے سی نے مزید احکامات دئیے کہ تمام پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جانا چاہئیے ۔ تاخیر ہونے کی صورت میں عمل آوری ایجنسی پر جرمانہ بھی عاید کیا جانا چاہئیے ۔
جے کے آئی ڈی ایف سی نامی نئی کمپنی کو 7 ستمبر تک رجسٹر کیا جائے گا اور التوا میں پڑے پروجیکٹوں پر ایک ہفتے کے اندر اندر کام شروع کیا جائے گا ۔
گورنر کی ہدایات یہ ہیں کہ پلوں ، سڑکوں ، آبپاشی سکیموں اور التوا میں پڑے دیگر پروجیکٹوں پر رقومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہئیے ۔ تمام محکموں سے کہا گیا ہے کہ تیز تر بنیادوں پر کام شروع کر کے مئی 2019 تک یہ پروجیکٹ مکمل کریں ۔
مستقبل میں صرف تحریری امتحان لیا جائے گا
گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقدہ ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ کے دوران آج جموں کشمیر ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفئیر گزٹیڈ سروس رکروٹمنٹ رولز 2013 میں ترمیم کو منظوری دی گئی اور کہا گیا کہ صحت و طبی تعلیم محکمے میں میڈیکل افسروں کے انتخاب کیلئے زبانی ٹیسٹ ختم کیا جائے گا ۔
ایس اے سی نے مزید ہدایت دی کہ صحت و طبی تعلیم محکمہ فوری طور سے میڈیکل افسروں کی سلیکشن کیلئے رہنما خطوط تیار کرے گا جس میں جموں کشمیر پبلک سروس کمیشن کی مشاورت سے تحریری امتحان کا تعین کرنا بھی شامل ہے ۔
صحت و طبی تعلیم محکمہ ایک اہم محکمہ ہے اور میڈیکل افسروں کو صحت شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت حاصل ہے اور اُن کی بھرتی میں تیزی لانے کیلئے زبانی ٹیسٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ فائدہ مند ثابت ہوگا اور اس عمل سے ریاست بالخصوص دور افتادہ علاقوں میں مریضوں کو بہتر طبی خدمات دستیاب ہوں گی ۔
اس وقت میڈیکل افسروں کی ایک ہزار آسامیاں خالی ہیں اور اگر انہیں تیزی سے پُر کیا جائے تو ریاست کے صحت خدمات شعبے میں کافی بہتری آئے گی ۔
ایس اے سی نے پی ڈی ڈی کی از سر نو تشکیل اور ان بنڈلنگ کو منظوری
ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ آج یہاں گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں جموں کشمیر سٹیٹ پاور ٹریڈنگ کمپنی لمٹیڈ کو چالو کرنے کو منظوری دی گئی اور پی ڈی ڈی ٹرانسفر سکیم رولز 2018 کے حوالے سے ایس آر او نوٹیفکیشن جاری کرنے کو منظوری دی گئی ۔
گورنر کے مشیر بی بی ویاس ، کے وجے کمار ، خورشید گنائی ، چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرا منیم اور گورنر کے پرنسپل سیکرٹری امنگ نرولہ بھی اس موقعہ پر موجود تھے ۔
واضح رہے کہ سنٹرل الیکٹرسٹی ایکٹ 2003 جموں کشمیر کو چھوڑ کر پورے ملک پر لاگو ہے اور اس میں بجلی سیکٹر کو ایک کمرشل انٹر پرائیز کے طور پر ترقی دینا لازمی ہے ۔ اس سلسلے میں بجلی کی پیداوار ترسیل اور تقسیم کاری کی ان بنڈلنگ کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔
جموں کشمیر الیکٹرسٹی ایکٹ 2010 ، سنٹرل الیکٹرسٹی ایکٹ 2003 کی طرز پر وجود میں لایا گیا اور اس حوالے سے جے کے ایس پی ڈی سی کو جموں کشمیر کی حکومت کی طرف سے ایک نوڈل ایجنسی کے طور پر منظور کیا گیا تا کہ ان بنڈلنگ کا کام 2012 تک ہی مکمل کیا جا سکے ۔
2012 میں کابینہ نے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو چار کمپنیوں میں تقسیم کرنے کو منظوری دی ۔ جن میں جموں کشمیر سٹیٹ پاور ٹرانسمیشن کمپنی لمٹیڈ ، جموں اینڈ کشمیر سٹیٹ پاور ٹریڈنگ کمپنی لمٹیڈ ، جموں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمٹیڈ اور کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمٹیڈ شامل ہیں ۔
اگرچہ ان کمپنیوں کو تشکیل دیا گیا تا ہم آج تک مختلف وجوہات کی بنا پر یہ کمپنیاں چالو نہیں ہو سکیں ۔
ٹریڈکو کو چالو کرنے کا کام دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا ۔ اس کو چالو کرنے کیلئے پی ڈی ڈی کی کمرشل اینڈ سروے شاپ کو بند کرنا ، ٹریڈکو کے دفتر کیلئے جگہ فراہم کرنا اور عملے کی منتقلی جیسے کام ہاتھ میں لینا شامل ہے ۔ یہ قدم بجلی محکمے کی ان بنڈلنگ کیلئے پہلا قدم ہے اور اس کی بدولت بجلی کی خریدداری کے حوالے سے واجبات کو کلئیر کرنے کی خاطر ایک نقشہ راہ تیار کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے بجلی کی قیمت خرید میں بھی کمی واقع ہو گی ۔ بجلی خریداری کے سیکٹر میں ہنر مند افرادی قوت کو شامل کرنے سے بجلی کے سپلائی قیمت میں بھی کمی آئے گی اور محکمے کو فوری طور سے مالی اور دیگر فوائد حاصل ہوں گے ۔
پی ڈی ڈی کے انتظامی سیکرٹری ٹریڈکو کے چئیر مین ہوں گے ۔
ریاست میں40 نئے ڈگری کالجوں کو کھولنے کی منظوری
ریاستی انتظامی کونسل کا اجلاس آج یہاں گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ریاست بھر میںمرحلہ وار طور پر40 نئے ڈگری کالجوں کے قیام کو منظوری دی گئی جن میں پہلے سے منظور شدہ 26 ڈگری کالج بھی شامل ہیں۔
ریاست کے دور دراز علاقوں میں نئے ڈگری کالج قائم کرنے اور سماج کے پچھڑے علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کالج سطح پر طُلاب کے اندراج میں اضافہ کرنے کے سلسلے میں ریاستی انتظامی کونسل نے خزانہ کے پرنسپل سیکرٹری کی صدارت میں کمیٹی کو تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جس میں منصوبہ بندی، ترقی اور نگرانی محکمہ کے پرنسپل سیکرٹری اعلیٰ تعلیم کے کمشنر سیکرٹری اور سکولی تعلیم کے سیکرٹری ممبر ہوں گے جو مرحلہ وار طریقے پر کالجوں کے قیام کے سلسلے میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کمپی ٹینٹ اتھارٹی سے منظور شدہ اور مرحلہ وار طریقے پر نئے کالجوں کے قیام اور انہیں چالو کرنے کی منظوری حاصل کرے گا۔ریاستی انتظامی کونسل نے محکمہ خزانہ و منصوبہ بندی کی منظوری سے دراس میں ڈگری کالج قائم کرنے کو بھی ہری جھنڈی دکھائی ہے۔کونسل نے کپواڑہ کے ولگام اور کشتواڑ میں پاڈر علاقوں میں ماڈل ڈگری کالج کھولنے کا خیر مقدم کیا جس کے لئے ریاستی منصوبے کے روسا 2.0 سے حاصل کی گئی منظوری کے لئے لازمی احکامات جاری کئے گئے۔
ریاستی انتظامی کونسل نے مزید فیصلہ لیا کہ سرینگر اور جموں میں2 انتظامی سٹاف کالجز قائم کئے جائیں گے اور ان کالجوں کی جگہ کا تعین متعلقہ کمیٹی کرے گی۔
850 میگاواٹ ریتلے پاور پروجیکٹ کےلئے الگ جے وی سی کو منظوری
ریاستی انتظامی کونسل کا اجلاس آج یہاں گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں 850 میگاواٹ ریتلے پاور پروجیکٹ کے لئے الگ جے وی سی کو منظوری دی گئی۔اس پروجیکٹ میں مشترکہ طور حکومت ہند( سینٹرل پی ایس یو) اور ریاست جموں وکشمیر( جے اینڈ کے ایس پی ڈی سی) بطور شراکت دارکام کریں گے اوران کا ہدف850 میگاواٹ ریتلے پن بجلی پروجیکٹ کا قیام اور اس کو شروع کرنے کی تاریخ سے سات برسوں کے اندر ریاستی حکومت کو منتقل کرنا ہوگا۔
ریاستی انتظامی کونسل نے مالکانہ بنیاد پر5 مثالی شراکت داری کی مہموں کو پیش کرنے کو بھی منظوری دی ہے جس میں15 سے25 فیصد بجلی مرکزی حکومت کی وزارت بجلی کو فراہم کی جائے گی تا کہ مثالی شراکت داری کے ہدف کو حاصل کیا جاسکے۔ان ماڈلوں کی جانچ یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ریاست جموں وکشمیر کے لئے موزوں رہیں گے جس میں اکثر ماڈلوں کے مالکانہ حقوق(51 سے90 فیصد تک) ریاست کے پاس رہیں گے۔
پن بجلی پروجیکٹ اور ریلیف و باز آباد کاری معاملات کے علاوہ شروعاتی سرمایہ کاری ابھی تک نجی سرمایہ کاروں کے لئے کشش کی باعث نہیں رہے ہیں۔اس کے علاوہ ملک کی بڑی سول تعمیراتی ایجنسیاں مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں اور اس طرح کی سرمایہ کاری کو ٹال رہی ہیں۔سرمایہ کاری میں نقصانات کے خطرات کے پیش نظر تعمیراتی ایجنسیاں ٹھیکہ داروں کے طور کام کرنے میں عافیت محسوس کر رہی ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کی رو سے مغربی دریاو¿ں پر پن بجلی پروجیکٹ قائم کرنے کے کام میں سرعت لانے کی اہمیت کے مد نظر ریاست جموں وکشمیر حکومت نے جے اینڈ کے ایس پی ڈی سی اور سینٹرل پی ایس یوز کے مابین شراکت داری کی بنیاد پر پروجیکٹ قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔اس سلسلے میں پکل ڈُول، کیرو اور کاور پن بجلی پروجیکٹ کے لئے پہلی شراکت داری قائم کی گئی۔
اس پروجیکٹ سے ریاست اور مجموعی طور ملک کی توانائی کی ضروریات پورا ہوں گی اور اس کے علاوہ ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ بے روز گاری پر بھی کافی حد تک قابو پایا جاسکے گا۔
850 میگا واٹ ریتلے پن بجلی پروجیکٹ کو کشتواڑ ضلع میں درب شالہ کے نزدیک دریائے چناب پر ریور پروجیکٹ کے طور قائم کرنے کا منصوبہ ہے اور یہ ڈول ہستی پن بجلی پروجیکٹ اور بغلیار پن بجلی پروجیکٹ کے درمیان
ہوگا۔ وادی چناب میں قائم کئے جارہے بڑے پروجیکٹوں میں سے یہ پروجیکٹ مناسب طور قائم کئے جانے کی اُمید ہے اور اس سے ترقیاتی عمل کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ پروجیکٹ پانچ برسوں کے اندر مکمل کیا جاسکتا ہے اور اس سے ریاست کو بڑے پیمانے پر فائدہ ملے گا۔
Comments are closed.