دفعہ 35 اے سے چھیڑ چھاڑ تباہ کن : محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ دفعہ 35 اے سے چھیڑ چھاڑ بھارت کے جموں وکشمیر کے ساتھ رشتے سے چھیڑ چھاڑ کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کے لوگ بھی دفعہ 35 اے کی حمایت میں سامنے آرہے ہیں۔ محترمہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار جموں خطہ کے ضلع راجوری میں ایک پارٹی جلسے کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا ’دو تین معاملوں پر ہمارا بی جے پی کے ساتھ بہت بڑا تنازعہ پیدا ہوا۔ ان میں دفعہ 35 اے ایک ہے۔ میں نے وزیر اعظم مودی جی سے کہا تھا کہ اگر آپ دفعہ 35 اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریں گے تو ہم آپ کے ساتھ الائنس توڑ دیں گے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا مطلب جموں وکشمیر کے رشتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے برابر ہے‘۔ انہوں نے کہا ’جموں میں کافی لوگ دفعہ 35 اے کی حمایت میں سامنے آرہے ہیں۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر گگن بھگت (بی جے پی ایم ایل اے) بھی ہیں۔ مجھے بڑی خوشی ہورہی ہے کہ جموں میں چھوٹے چھوٹے بچے، جوان ، بڑے اور سول سوسائٹی گروپ ممبران اس پر بحث و مباحثے کررہے ہیں کہ دفعہ 35 اے کے کتنے فوائد ہیں اوراگر یہ ہٹ جاتا ہے تو جموں وکشمیر کا کتنا نقصان ہوگا‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حالات کو پٹری پر لانے کے لئے سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کی پالیسی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا’جموں وکشمیر کے بگڑتے حالات کو سدھارنے کے لئے واجپائی جی کی پالیسی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کیا تھا اور جموں وکشمیر کے لوگوں خاص طور پر علیحدگی پسند رہنماو¿ں کے ساتھ ڈائیلاگ شروع کیا تھا۔ اس کڑی کو دوبارہ جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ جموں وکشمیر میں جو ہمیں روز بندوق چلانی پڑتی ہے، پیلٹ گن چلانے پڑتے ہیں، کریک ڈاون کرنے پڑتے ہیں، اور یہ جو افراتفری کا ماحول ہے ، اس کو ختم کیا جائے‘۔
مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل وقت کی پکار:محبوبہ مفتی
پی ڈی پی صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاست جموں وکشمیر کے خصوصی پوزیشن کے تحفظ کو پارٹی کی اولین ترجیحی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ دورانِ حکومت پی ڈی پی نے کبھی بھی اپنے بنیادی ایجنڈہ کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ محبوبہ مفتی جوکہ صوبہ جموں کے تفصیلی دورہ پر ہیں، نے سرحدی ضلع پونچھ میں پارٹی ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا’جموں وکشمیر ریاست کا ہرشخص اس حقیقت سے واقف ہے کہ پی ڈی پی نے روزِ اول سے جموں وکشمیر کے دیر پاحل کے لئے مذاکرات اور مفاہمتی عمل شروع کرنے کی بات کی ہے ۔ پارٹی دفعہ370کے تحفظ کے لئے صف اول میں ہے‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ سال 2014کے انتخابات کے بعد بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کے وقت جوکہ ایجنڈا آف الائنس بنایاگیا، اس میں واضح طور لکھا ہے کہ دفعہ370اور ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے گی اور حکومت ہند بشمول حریت تمام حصہ داروں کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرے گی۔پی ڈی پی سربراہ نے کہا’جب پی ڈی پی حکومت کا حصہ نہ بھی تھی، تب بھی پارٹی نے ریاست کے خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی اجازت نہ دی اور عدالت عظمیٰ میں دفعہ35-Aکا دفاع کرنے کے لئے ملک کے سرکردہ وکلاءکی خدمات حاصل کی گئیں‘۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی ریاست کے اند ر واحد جماعت ہے جس نے دوغلی پالیسی نہیں اپنائی چاہئے وہ اقتدار میں ہو یا اقتدار کے باہر، حکومت کے اندر بھی پارٹی کا وہی موقف تھاجوآج ہے، ہم نے ہمیشہ مذاکرات اور مفاہمتی عمل کی بات کی اور چاہا کہ ہندوستان اور پاکستان ایک ساتھ میز پر آکر مسئلہ کشمیر کو حل کریں ، سیاسی حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یک روزہ کنونشن سے ایم ایل اے شاہ محمد تانترے، انجم فاضلی، ایم ایل سی سریندر کمار چوہدری، یشپال شرما، سنیئرلیڈران شمیم ڈار، سید اقبال کاظمی، شمیم گنائی، ایڈووکیٹ محمد معروف خان، امتیاز حسین بانڈے، ندیم رفیق حسین خان، شہزاد خان، تنویر ڈار، چوہدری جاوید احمد، مرتضیٰ احمد خان، دیپک ہانڈا ، محمد رشید قریشی اور زاہدہ وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔
نیشنل کانفرنس پنچایتوں کو سیاست کا شکار بنانے سے باز کریں:پنچایت کانفرنس
جموں وکشمیر میں سابقہ سرپنچوں وپنچوں کی نمائندہ تنظیم آل جموں وکشمیر پنچایت کانفرنس نے نیشنل کانفرنس صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی طرف سے دیئے گئے بیان پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ وہ ووٹ بنک سیاست کے لئے پنچایتی راج اداروں کو سیاست کا شکار نہ بنائیں۔ ایک بیان میں پنچایت کانفرنس صدرانیل شرما نے کہاکہ نیشنل کانفرنس صدر کا بیان پنچایتی اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات کی آڑ میں حکومت ہند کو بلیک میل کرنے اور عدالت عظمیٰ پر دباو¿ بنانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس صدر کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پنچایتی غیر سیاسی ادارے ہیں اور انہیں اپنے ووٹ بنک سیاست کے لئے اس ادارہ پر سیاست کرنے سے باز رہنا چاہئے۔ انیل شرما نے کہاکہ دفعہ35-Aکا معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے، این سی صدر کو عدالت پر دباو¿ بنانے کے لئے پنچایتوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پنچایت اور لوکل باڈیز کے انتخابات میں کسی بھی قیمت پر تاخیر نہیں ہونی چاہئے، این سی صدر کو سمجھنا چاہئے کہ جموں وکشمیر میں تمام مشکلات زمینی سطح پر ہیں، جن کا تعلق مقامی سطح پر انتظامی اداروں کی عدم موجودگی سے ہے۔ پنچایتوں کی عدم موجودگی سے لوگوں میں اعلیحدہ پن کا احساس ہے۔ پنچایتی انتخابات سے لوگوں کا انتظامیہ پر اعتماد بحال ہوگا۔ علاوہ ازیں مرکز سے 1000کروڑ روپے کی گرانٹس ملے جس میں700کروڑ پنچایتوں اور 300کروڑ لوکل باڈیز کے لئے، جس کو مرکزی سرکار نے اداروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے روک رکھاہے۔
بھاجپا نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو کھلا چیلنج کیا
بی جے پی نے نیشنل کانفرنس کی طرف سے دفعہ 35Aکے تصفیہ تک پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ جماعت ریاست میں ہمیشہ جمہوری اداروں کے بحالی کے حق میں نہیں رہی ہے اسی لیے انہوں نے آج بھی پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات میں شمولیت نہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔اگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ آنے والے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے موڈ میں نہیں ہے تو انہیں یہ بھی اعلان کرنا چاہیے کہ وہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات سے بھی دست برداری اختیار کریں گے۔اویناش رائے کھنہ نے بتایا کہ جہاں تک بھارتیہ جنتا پارٹی کا تعلق ہے تو ہم ریاست میں امن و امان کی بحالی کے علاوہ ریاست کی جملہ ترقی کے لیے لوگوں کو ہر وقت اپنا تعاون پیش کرنے میں ہر وقت تیار ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے نیشنل کانفرنس کی طرف سے ریاست میں منعقد ہونے والے پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایاکہ این سی ہمیشہ سے ہی ریاست میں جمہوری اداروں کی بحالی کے حق میں نہیں تھی اسی لیے انہوں نے زمینی سطح پر جمہوریت کو مضبوطی فراہم کرنے والے پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات سے پہلو تہی اختیار کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ بی جے پی نے بتایا کہ اگر این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ حقیقی طورپر پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات میں شرکت نہیں کریں گے تو انہیں اس بات کا بھی اعلان کرنا چاہیے کہ وہ آنے والے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں بھی حصہ نہیں لیں گے۔بی جے پی کے نائب صدر اور کشمیر امور کے انچارج اویناش رائے کھنہ نے کشمیر نیوز سروس کے ساتھ نئی دہلی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو جمہوریت پر خلوص دل کے ساتھ یقین ہے انہیں چاہیے کہ وہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔انہوں نے بتایا کہ این سی جب ماضی میں کانگریس کے ساتھ حکومت میں شامل تھی تو انہوں نے ریاست میں ان انتخابات کو منعقد ہونے نہیں دیا۔اصل میں این سی ریاست میں زمینی سطح پر جمہوری اداروں کو مضبوطی فراہم نہیں کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جو بھی عمل جمہوری اداروں کو زمینی سطح پر مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، سیاسی جماعتوں کو ایسے عمل کو کھلے دل سے حمایت اور اس میں شرکت کرنی چاہیے۔اگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ آنے والے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے موڈ میں نہیں ہے تو انہیں یہ بھی اعلان کرنا چاہیے کہ وہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات سے بھی دست برداری اختیار کریں گے۔اویناش رائے کھنہ نے بتایا کہ جہاں تک بھارتیہ جنتا پارٹی کا تعلق ہے تو ہم ریاست میں امن و امان کی بحالی کے علاوہ ریاست کی جملہ ترقی کے لیے لوگوں کو ہر وقت اپنا تعاون پیش کرنے میں ہر وقت تیار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کسی بھی انتخابی عمل کے لیے مکمل طور پر تیار ہے چاہے وہ پنچایتی ہوں، بلدیاتی ہوں، پارلیمانی ہوں یا اسمبلی انتخابات ہوں۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی انتخابات کے حوالے سے پوری طرح تیار ہے اور ہم نے اس سلسلے میں باضابطہ مہم کا آغاز بھی کردیا ہے۔ بی جے پی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مکمل طور پر تیار ہے اور ہم ریاست کے کونے کونے سے ان انتخابات میں حصہ لیں گے۔انہوں نے بتایا کہ22اگست کو پلوامہ میں مارے گئے پارٹی کے جواں سال لیڈر شبیر احمد بٹ کی ہلاکت سے پارٹی کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں بلکہ ہمارے اندر مزید جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے۔ ہم چاہتے ہیں ریاست میں امن و آمان قائم ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں ترقی کے نئے دروازے وا ہوجائیں۔یاد رہے سابق مخلوط حکومت کے دوران پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پنچایت الیکشن کوفروری 2018میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ناساز گار حالات کی وجہ سے مذکورہ انتخابات کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست جموںوکشمیر میں سال 2011میں پنچایت الیکشن منعقد ہوئے تھے تاہم وادی میں نامساعد حالات کی وجہ سے 7سال سے زائد عرصے کے دوران یہ انتخابات منعقد نہ ہوسکے۔
این سی کے بیان پر پی ڈی پی ووٹ حاصل نہیں کرے گی: رفیع میر
پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ رفیع میر نے بتایا کہ پارٹی این سی کی طرف سے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اختیار کئے گئے مو¿قف کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھائے گی۔ انہوں نے بتایا دفعہ 35Aاور انخابات کو جوڑنے سے ریاستی حکومت نے ہی کنفیوژن پید اکردیا ہے جس کو دور کرنے کے لیے گورنر کو کل جماعتی اجلاس طلب کرنا چاہیے۔ نیشنل کانفرنس کی طرف سے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات سے دوری بنائے رکھنے پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ڈی پی نے بتایا کہ پارٹی این سی کے مو¿قف کا ناجائز فائدہ نہیں سمیٹے گی۔ پارٹی ترجمان اعلیٰ رفیع میر نے کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے این سی کی طرف سے اپنائے گئے موقف کا پارٹی ناجائز فائدہ نہیں اُٹھائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وادی میں حالات انتہائی گھمبیر ہے اور آئے روز فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں جس کے بعد یہاں امن و قانون کی صورتحال کو گہرا دھچکا لگ جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ سیکورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنر کو چاہیے کہ وہ یہاں کل جماعتی اجلاس طلب کرکے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابات کو منعقد کرنے یا نہ کرنے پر سنجید گی کے ساتھ صلاح مشورہ کریں۔ رفیع میر نے بتایا ریاستی حکومت نے دفعہ 35Aکو الیکشن تک مو¿خر کرنے سے یہاں حالات میں مزید غیر یقینیت پید اکی۔ انہوں نے سوالیہ اندا زمیں کہا کہ اگر نئی دہلی پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات تک دفعہ 35Aکی شنوائی کو مو¿خر کرتی ہے تو کیا اس کا یہ مطلب کیا جائے کہ انتخابات کے بعد یہاں پھر سے قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت محبوبہ مفتی وادی میں موجود نہیں ہے اور جونہی وہ واپس آئیں گی تو ان کے ساتھ صلاح مشورہ کرکے ہی مزید لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
این سی کا فیصلہ خوش آئندہ:سیول سوسائٹی کارڈی نیشن کمیٹی
جموں کشمیر سیول سوسائٹی کارڈی نیشن کمیٹی نے نیشنل کانفرنس کی طرف سے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی سراہنا کرتے ہوئے اسے خوش آئندہ قدم قرار دیا ہے۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے ساتھ بات کرتے ہوئے جموں کشمیر سیول سوسائٹی کارڈی نیشن کمیٹی کے لیڈر اور عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر مظفر شاہ نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس کی طرف سے لیا گیا فیصلہ قابل سراہنا ہے۔ انہوں نے بتایا پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات سے دوری بنائے رکھنے کا فیصلہ خوش آئندہ ہے۔ مظفر شاہ نے بتایا کہ دفعہ 35Aکے دفاع کے حوالے سے سبھی سیاسی و غیر سیاسی حلقے متحد ہیں اور اس کے خلاف کسی بھی سازش کا متحدہ طور پر مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دفعہ 35Aکے دفاع کے حوالے سے سبھی جماعتوں کا ایک ہی مو¿قف ہیں اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے خلاف دائر عرضیوں کو ہمیشہ کے لیے برخواست کیا جانا چاہیے۔
این سی کا بیان سمجھ سے بالا تر: غلام احمد میر
ریاستی کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے این سی کی طرف سے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی بات سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک طرف ڈاکٹر فاروق عبداللہ لوگوں کو ترقی کو یقینی بنانے کے لیے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کرتے ہیں اور دوسری طرف خود الیکشن پراسس سے کنارہ کش رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ریاستی کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے نیشنل کانفرنس کی طرف سے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی لن ترانیاں سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ڈاکٹر فاروق عبداللہ لوگوں کو ترقی کو یقینی بنانے کے لیے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کرتے ہیں اور دوسری طرف خود الیکشن پراسس سے کنارہ کش رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ غلا م احمد میر نے بتایا یہ بڑی حیرانگی کی بات ہے کہ ایک طرف پارٹی کا صدر عوام سے جمہوریت کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کرتا ہے تو دوسری طرف خود جمہوری عمل سے دور رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فاروق عبداللہ کے مراسم گورنر کے ساتھ بہت اچھے ہیں۔ وہ گورنر کو ائرپورٹ پر خوش آمدید بھی کہنے گئے تھے اور آئے روز ان کی باتوں کی حمایت بھی کرتے رہتے ہیں ۔ غلام احمد میر نے بتایا کہ عین ممکن ہے گورنر نے بھی زمینی سطح پر ناموافق حالات کو بھانپتے ہوئے الیکشن پراسس کو مو¿خر کرنے کا من بنالیا ہو اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ان کے حرکات و سکنات کو بھانپا ہو اور اس لیے اب وہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے دفعہ 35Aکے تحفظ پر شور شرابا کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ این سی لیڈران نے پارٹی صدر کو زمینی سطح کے حالات سے واقف کراتے ہوئے کہا ہو کہ این سی کی ٹکٹ پر کوئی بھی فرد اپنی جان کے ساتھ کھیلنے کو تیار نہیں ، اسی لیے ڈاکٹر فاروق نے دفعہ 35Aکا کارڈ کھیلتے ہوئے ریاستی عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا ڈرامہ رچا ہو۔
35A کوالتواءمیں ڈالناکافی نہیں:عمرعبداللہ
عمرعبداللہ نے اپنے والدڈاکٹرفاروق کے الیکشن بائیکاٹ اعلان کی تائیدکرتے ہوئے واضح کردیاکہ اب گیندمرکزی حکومت کے پالے میں ہے کہ وہ کیافیصلہ لیتی ہے ۔کے این این کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدراورسابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے پارٹی کورگروپ کے الیکشن بائیکاٹ فیصلے کی تائیدکرتے ہوئے سماجی رابطہ گاہ ٹویٹرپرلکھے اپنے ایک ٹویٹ میں تحریرکیاکہ اب یہ مرکزی سرکارپرمنحصرہے کہ وہ دفعہ35Aکے معاملے پراپنی پوزیشن یااسٹینڈواضح کرے۔انہوں نے کہاکہ پنچایتی اورمیونسپل انتخابا ت کی آڑمیں دفعہ35Aکیس کی سماعت کوالتواءمیں ڈالناکافی نہیں ۔
بشکریہ ،یو این آئی ،کے این ایس ،کے این این
Comments are closed.