یوم اساتذہ: کشمیری اساتذہ نے یوم سیاہ کے بطور منایا،سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ

احتجاجی ریلی نکالی ،پولیس نے بولا دھاوا ، رنگین پانی کی بوچھاڑ کی ،ایس ایس اے اساتذہ کی بھوک ہڑتال بھی جاری

شوکت ساحل
سرینگر:یوں تو دنیا کا کوئی مقام ایسا نہیں جہاں استاد, ٹیچر یا معلم کی اہمیت اجاگر نہ ہو اور عزت نہ کی جاتی ہو، انسانی زندگی میں ہر دن کی اہمیت ہے لیکن معاشرہ میں سال کے جن ایام کو خصوصی درجہ دیا گیا ہے ان میں ایک "یوم اساتذہ” (Teacher’s Day) ہے جو 5 ستمبر کو ہر سال ملک میں منایا جاتا ہے اور اس موقع پر اسکول و کالجس میں مختلف پروگرامس ترتیب دئیے جاتے ہیں ، جلسوں کے ذریعہ استاد کی اہمیت اور عزت کو پروان چڑھانے کی باتیں ہوتی ہیں.تاہم جموں وکشمیرمیں اساتذہ نے یہ دن یوم سیاہ کے بطور منایا.

جموں وکمشیر کے رہبر تعلیم اساتذہ نے اپنے دیرینہ مطالبات پورا نہ کئے جانے پر بطور احتجاج ’یوم اساتذہ ‘کو یوم سیاہ کے طور منایا جبکہ اس دوران انہوں نے طے شدہ پروگرام کے تحت ایس کے آئی سی سی گھیراﺅ کرنے کی کوشش کی ،جسے پولیس نے ناکام بنادیا ۔پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو تتربتر کرنے کےلئے رنگین پانی کی بوچھاڑ کی ۔

ادھر ایس ایس اے اساتذہ نے بھی اپنے مطالبات کو پرتاپ پارک سرینگر میں غیر معینہ عرصے کی بھوک ہڑتال جاری رکھی ۔ جموں وکشمیر میں رہبر تعلیم اساتذہ نے اپنے دیرینہ مطالبات پورا نہ کئے جانے پر بطور احتجاج ’یوم اساتذہ ‘کو یوم سیاہ کے طور منایا۔طے شدہ پروگرام کے تحت بدھ کے روزیعنی 5ستمبر کو سرکاری ونجی سطح پر اساتذہ کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقاریب میں شرکت نہ کرتے ہوئے اساتذہ نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا ۔

رہبر تعلیم اساتذہ کی ایک خاصی تعداد طے شدہ پروگرام کے تحت میونسپل پارک سرینگر میں جمع ہوئی ،جہاں انہوں نے اپنے مطالبات کو لیکر احتجاجی دھرنا ۔ جموںو کشمیر سے تعلق رکھنے والے 40ہزار سے زائد اساتذ ہ ساتویں تنخواہ کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں جوتاحال سرکار کی جانب سے منظور نہیں کیا گیا ہے۔رہبر تعلیم اساتذہ نے اپنے مطالبات کو لے کر مسلسل پانچ روز تک احتجاجی مظاہرے اور دھرنا دیا بھی دیا ہے۔فورم چیئرمین فاروق احمد تانترے کا کہنا ہے کہ وہ سرکار سے کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم ساتویں تنخواہ کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں جو پہلے ہی دیگر ریاستی ملازمین کو ملا ہے اور یہاں کوئی وجہ نہیںہے کہ سرکار ساتویں تنخواہ کمیشن کو روک لے۔

ایس ایس اے اور رمساکے تحت اساتذہ ، ہیڈ ٹیچرس اور ماسٹرس کے حق میں ساتویںپے کمیشن کا اطلاق کرنے، ان کی تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ منسلک کرنے کے حق میں ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی جموں اور سرینگر میں غیر معینہ عرصہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی چیئرمین عبدالقیوام وانی کا کہنا ہے کہ ریاستی سرکار اساتذہ کو احتجاج کرنے اور سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کر رہی ہے کیونکہ ساتویںپے کمیشن کا اطلاق اساتذہ کا قانونی ، آئینی اور جمہوری حق ہے جسکو ریاستی سرکار نے بلا وجہ روک کے رکھا ہے۔اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے اپنے مطالبات کو مبینہ طور پر نظر انداز کئے جانے کے خلاف بدھ کو یوم اساتذہ کو یوم سیاہ کے بطور منایا ۔

احتجاجی اساتذہ نے سیاہ کپڑے ملبوس کئے اور سروں وبازوں پر سیاہ پٹیاں باندھی تھیں ۔طے شدہ پروگرام کے پولو ویو میونسپل پارک سے اساتذہ نے ایس کے آئی سی سی کی جانب ایک ریلی نکالی ،جہاں سرکاری سطح پر یوم اساتذہ کے حوالے سے بڑی تقریب منعقد ہورہی تھی ۔تاہم یہاں پہلے سے تعینات پولیس کی بھاری جمعیت نے ان کا راستہ روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی ۔پولیس نے احتجاجی اساتذہ کو تتربتر کرنے کےلئے ہلکا لاٹھی چارج کیا اور رنگین پانی کی دھار کا استعمال بھی کیا ۔پولیس کارروائی کے نتیجے میں احتجاجی ریلی میں افراتفری پھیل گئی ،جسکی وجہ سے کئی افراد مضروب ہوئے ۔ادھر پرتاپ پارک سرینگر میں خیمہ زن ایس ایس اے اساتذہ نے غیر معینہ عرصے کی بھوک ہڑتال جاری رکھی ۔ان کی یہ بھوک ہڑتال تیسرے روز میں داخل ہوگئی ۔انہوں نے بھی یوم اساتذہ کو یوم سیاہ کے بطور منایا ۔

Comments are closed.