ترکانجن اوڑی واقعہ نے انسانیت کا سر شرمسار کیا:میرواعظ

سرینگر(پی آر):حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے ترکانجن اوڑی میں ایک نوسالہ معصوم و کمسن بچی کے سفاکانہ قتل اور اُس کے ساتھ ہوئی زیادتی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس گھناﺅنے جرم میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کے مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں میرواعظ نے کہا کہ جس بہیمانہ طریقے سے اس معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا اُس سے ہر ذی حس انسان کا سر شرم سے جک جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی کٹھوعہ کی معصوم آصفہ کے قاتل سزا کے منتظر ہی ہیں اور اس کے قتل کے زخم ہرے ہےں اور اب اس واقعے نے کشمیری سماج کو ایک بار پھر جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے اور ہمارے سماج کایہ انحطاط اور انسانی اقدار کی پامالی کا یہ رجحان پوری قوم کےلئے لمحہ فکریہ ہے اور یہ سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائیوں ، زیادتیوں ، بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحانات اور بے راہ روی کے شکار کشمیری سماج کو اپنی اصل ڈگر پر لانے کےلئے کمر بستہ ہوجائےں۔

میرواعظ نے کہا کہ ایک طرف اس قوم کو سیاسی اور تحریکی سطح پر شدید آزمائشوں ، مصائب اور آلام کا سامنا ہے روز ہمارے نوجوان کٹ مررہے ہیں ، نہتے عوام کو شدید زیادتیوں اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور من حیث القوم ہم تاریخ کے ایک نازک مرحلے میں کھڑے ہےںاور دوسری طرف سماجی اور معاشراتی سطح پر اس قوم کے سامنے جو نئے چیلنج کھڑے ہوئے ہیں ان کے سدباب کےلئے اجتماعی کوششیں وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا ہےں۔

اس دوران میرواعظ نے 2016 کی عوامی تحریک کے دوران گرفتار کئے گئے حریت پسند سرجان برکاتی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کو قید خانے میں ضروری سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے اور ان کی مسلسل نظر بندی ان کے اہل خانہ کےلئے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موصوف پر بار بار پی ایس اے کا اطلاق اور اس طرح ان کی مدت قید کو بلا وجہ طول دینے کا عمل حد درجہ مذموم ہے جبکہ عدالت عالیہ نے ان کی رہائی کے کئی بار احکامات صادر بھی کئی ہےں تاہم ریاستی حکمران عدالتی احکامات کو پس پشت ڈال کر موصوف کی رہائی میں ایک نہ دوسرے بہانے روڈے اٹکا رہے ہیں۔

میرواعظ نے جنوبی کشمیر کی موجودہ صورتحال کو حد درجہ تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پورے علاقے کے عوام کو آئے روز فوج اور فورسز کی زیادتیوں اور پُر تشدد کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اورجس طرح وہاں کے عوام کو فوج اور فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے وہ حد درجہ مذموم اور سرکاری دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر میں CASO کی آڑ میں لوگوں کی پکڑ دھکڑ ، نہتے عوام کےخلاف طاقت اور تشدد کا استعمال اور قتل و غارت گری کے واقعات اور محض فوجی قوت کے بل پر ہزاروں لوگوں کو گھنٹوں یرغمال بنائے رکھنا حقوق انسانی کی بدترین پامالی ہے۔

Comments are closed.