نیشنل کانفرنس آئندہ بلدیاتی ،پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی
ریاست میں پنچایتی وبلدیاتی انتخابات کے انعقاد پربڑاسوالیہ نشان
سری نگر:۵،ستمبر:کے این این/یاست میں برسوں بعدہونے والے پنچایتی اورمیونسپل انتخابات کے انعقادپراُسوقت ایک بڑاسوالیہ نشان لگ گیاجب بڑی اپوزیشن مین اسٹریم جماعت نیشنل کانفرنس نے مجوزہ انتخابات کے بائیکاٹ کایہ کہتے ہوئے اعلان کردیاکہ جب تک مرکزی حکومت دفعہ 35Aکے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے عدالتوں کے اندراورباہرموثراقدامات نہیں اُٹھائے گی تب تک نیشنل کانفرنس الیکشن عمل کاحصہ نہیں بنے گی ۔
نیشنل کانفرنس کی کورگروپ کاایک اہم جلاس پارٹی صدروسابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی زیرصدارت بدھ کی صبح پارٹی ہیڈکوارٹرنوائے صبح کمپلیکس متصل نیوزیرﺅبرج راجباغ سری نگرمیں منعقدہوا،جس میں علی محمدساگر،عبدالرحیم راتھر،چودھری محمدرمضان اورکورگروپ کے دوسرے سبھی ممبران موجودتھے ۔معلوم ہواکہ اجلاس کے دوران ریاست بالخصوص کشمیروادی کی تازہ سیکورٹی صورتحال اوردفعہ35Aکے بارے میں مرکزی سرکارکاموقف زیرغورلایاگیاجبکہ اس دوران ریاستی عوام کی جانب سے دفعہ35Aکے حق میں اُٹھائی گئی آوازاورسازشوں کیخلاف سخت مزاحمت کامعاملہ بھی زیرغورلایاگیا۔میٹنگ میں موجوداین سی لیڈران کی غالب اکثریت کی رائے یہ تھی کہ ریاست کی موجودہ صورتحال کسی بھی طورپنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کیلئے موزون نہیں ہے ۔پارٹی لیڈروں کاکہناتھاکہ ایک توکشمیروادی میں سلامتی صورتحال مزیدابتربن چکی ہے ،اوریہ کہ ریاستی عوام میں دفعہ35Aکیخلاف عدالت عظمیٰ میں دائرکردہ عرضیوں نیزمرکزی سرکارکے ڈانوڈﺅل موقف کیخلاف سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ دفعہ35Aجیسے حساس معاملے کوالتواءمیں ڈلواکرمرکزی سرکارکی نیت پرریاستی عوام میں شک پایاجاتاہے ،اورلوگوں کواندیشہ ہے کہ پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کراکے مرکزی سرکارریاستی عوام ،یہاں کے سیاسی ،سماجی اورقانونی حلقوں میں پائے جانے والے اتحاداوریکجہتی کوپارہ پارہ کرناچاہتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کورگروپ کی میٹنگ میں شامل رہے پارٹی کے ایک سینئرلیڈرنے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ میٹنگ میں موجودسبھی لیڈران کی یہ متفقہ رائے تھی کہ جب تک دفعہ35Aکامعاملہ سلجھایانہیں جاتاہے تب تک کسی بھی طرح کے الیکشن عمل میں حصہ لینابے سوداوربے مقصدہوگا۔انہوں نے کہاکہ پارٹی صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ نے سبھی ارکان کورگروپ سے اپنی رائے کھل کرظاہرکرنے کوکہتے ہوئے کہاکہ کسی بھی غلط فیصلے کے دوررس نتائج برآمدہونگے۔معلوم ہواکہ پارٹی کورگروپ کے اجلاس میں بااتفاق رائے ایک قراردادمنظورکی گئی ،جس میں یہ واضح کیاگیاہے کہ جب تک مرکزی سرکاراورریاست کی گورنرانتظامیہ دفعہ35Aکے بارے میں اپنے مواقف کوواضح نہیں کرتی ہے اوریہ کہ دفعہ35Aکی عدالتوں کے اندراورباہرتحفظ کویقینی نہیں بنایاجاتاہے ،تب تک نیشنل کانفرنس مجوزہ انتخابی عمل میں شامل نہیں ہوگی۔کورگروپ اجلاس کے فوراًبعدنیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق نے پارٹی کے سینئرلیڈروں علی محمدساگر،عبدالرحیم راتھراورچودھری محمدرمضان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں پنچایتی اورمیونسپل انتخابات کرانے کافیصلہ عجلت اورجلدبازی میں لیاگیا۔انہوں نے کہاکہ ریاست کے اندربالخصوص کشمیروادی میں امن وقانون کی صورتحال کسی بھی لحاظ سے کسی انتخابی عمل کے موافق نہیں جبکہ بیرون سطح پردفعہ35Aکامعاملہ زیرالتواءپڑاے توایسے میں پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کافیصلہ لیناکسی بھی طورصحیح نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی کورگروپ اجلاس میں مجموعی صورتحال کامکمل جائزہ لیاگیا،اوریہ محسوس کیاگیاکہ ریاست کے موجودہ حالات کسی بھی طورمجوزہ انتخابی عمل کیلئے سازگارنہیں ۔ڈاکٹرفاروق نے کورگروپ کی میٹنگ میں منظورکی گئی قراردادکاخلاصہ کرتے ہوئے نامہ نگاروں کوبتایاکہ کورگروپ کے اجلاس میں ریاست کی ممموعی صورتحال بالخصوص دفعہ35Aکیخلاف کی جارہی سازشوںکوزیرغورلایاگیا۔انہوں نے کہاکہ اجلاس کے دوران یہ محسوس کیاگیاکہ دفعہ 35Aکیساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑچھاڑ کے نہ صرف ریاست جموں وکشمیربلکہ پورے ملک کیلئے تباہ کن نتائج برآمدہونگے ۔ ڈاکٹرفاروق نے قراردادکاذکرکرتے ہوئے بتایاکہ مرکزی سرکاراورریاستی حکومت نے دفعہ35Aکے معاملے پرعدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ میں جوموقف اختیارکیاہے یاکہ جورول اداکیاہے ،وہ ریاستی عوام خواہشات اوراُمنگوں کے بالکل منافی ہے۔سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ دفعہ35Aایک تاریخی حقیقت ہی نہیں بلکہ یہ ریاستی باشندوں کی منفردشہریت اورحیثیت کامعاملہ ہے،اسی لئے1952کے دہلی ایگریمنٹ کی روشنی میں اس آئینی شق کوآئین ہندمیں ایک صدارتی ریفرنس یاآرڈرکے ذریعے شامل کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ 1954میں صدارتی ریفرنس جاری ہونے کے بعدریاست کی آئین سازاسمبلی نے ریاست میں دفعہ35Aلاگوکرنے کومنظوری دی ،اوریہ فیصلہ دفعہ370کی روشنی میں لیاگیا۔ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے سخت لہجے میں کہاکہ اُنکی جماعت نیشنل کانفرنس ریاست کوحاصل خصوصی آئینی پوزیشن اورریاستی عوام یعنی پشتنی باشندوں کودی گئی منفردشہریت وحیثیت کیخلاف کی جانے والی کسی بھی سازش کاڈٹ کرمقابلہ کرے گی اوریہ کہ ایسی کسی بھی سازش یاکوشش کوناکام بنایاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ کورگروپ کے اجلاس میں مجوزہ پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کے انعقادکامعاملہ بھی زیربحث لایاگیا،اوربااتفاق رائے یہ فیصلہ لیاگیاکہ جب تک مرکزی سرکاردفعہ35Aکوعدالتوں کے اندراورباہرمکمل تحفظ فراہم نہیں کرے گی ،تب تک نیشنل کانفرنس ایسے کسی الیکشن عمل میں شامل نہیں ہوگی ،اورنہ ایسے کسی عمل کاحصہ بنے گی ۔ اس موقعے پر اس سوال کہ ،جس میں قومی سلامتی مشیر ڈوول نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے کیلئے الگ آئین ایک بھول اور غیر ضروری اقدام تھا، کا جواب دیتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ اگر ریاست کا الگ آئین بھول اور غیر ضروری اقدام تھا تو پھر ریاست اور مرکز کے درمیان طے پایا گیا دستاویزی الحاق بھی غیر ضروری اقدام اور ایک بھول تھی۔
Comments are closed.