سرکار عدالتی نظام کی مزید توہین کئے بغیر سرجان برکاتی کو فوری طور رہا کرے:انجینئر رشید

سرینگر(پی آر):عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے دو سال سے نظربند سرجان برکاتی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ سے برکاتی کے بچوں کی اپیل پر کان دھرنے کی اپیل کی ہے۔ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا ”سرجان برکاتی ہوں یا دیگر کشمیری نظربند وہ کوئی مجرم نہیں بلکہ سیاسی قیدی ہیں جنہیں محض اسلئے قید کیا گیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کا مطالبہ کرتے ہیں۔

نئی دلی کو اس بات کا جواب دینا چاہیئے کہ اگر مسئہ کشمیر کواقوام متحدہ سمیت پوری دنیا 70سال سے متنازعہ مانتی چلی آرہی ہے تو پھراسکے حل کا مطالبہ کرنا جرم اور اس طرح کا مطالبہ کرنے والے مجرم کیسے ہوسکتے ہیں“۔انجینئر رشید نے برکاتی اور دیگر نظربندوں کی رہائی کے عدالتی احکامات کے باوجود بھی انہیں رہا نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولس اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے عدلاتی احکامات کو خاطر میں نہ لاکر معصوم کشمیریوں کو ماورائے عدالت قید کرنا اور پھر اس نظربندی کو طول دینا انتہائی قابل مذمت اور افسوس ناک ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے۔

انجینئر رشید نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم مودی کشمیریوں کو گلے لگانے کی باتیں کرتے ہیں تو دوسری جانب سرجان برکاتی جیسے سیاسی قیدیوں کو حبس بے جا میں رکھا جارہا ہے جوکہ ایک دوسرے سے متضاد ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا برکاتی اور دیگر نظربندوں کو غیر قانونی طور نظربند کئے رکھنا اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ ان لوگوں کا مطالبہ اور اسکی دلیل و جواز سرکار ،بالخصوص وزیر اعظم،کی دعویداری اور وعدوقرار سے کہیں زیادہ مظبوط ہے۔انجینئر رشید نے سرجان برکاتی اور دیگر سبھی سیاسی قیدیوں کی فوری اور بلاشرط رہائی کا پر زور مطالبہ کیا اور کہا کہ بلا جواز نظربندیوں اور پابندیوں سے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرجان برکاتی کی رہائی کے عدالتی احکامات کے بے اثر ثابت ہونے سے انکے گھر والے سڑکوں پر آنے کو مجبور ہوگئے ہیں جس سے سکیورٹی ایجنسیوں کا اصل چہرہ بے نقاب ہوئی ہے اورکشمیریوں کو اپنانے کی مرکزی سرکار کی بلند بانگ دعویداری بے وزن ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری انتظامیہ کے حکام کو اپنے ضمیر کو جگاکر سرجان برکاتی کے بے آسرا بچوں کے درد کو محسوس کرتے ہوئے انہیں مزید بہانہ بازی اور عدالتی قتل ہا کے بغٰر رہا کردیا جانا چاہیئے۔

Comments are closed.