سرینگر:(پی آر ) سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے عوام کی جانب سے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے دفاع اور تحفظ کے حوالے سے پُر امن اور مثالی احتجاج نے بھارت کی سپریم کورٹ کو اس معاملے پر شنوائی کو موخر کرنے پر مجبور کیا ہے۔
انہوں نے کہامختلف شعبہ فکر ہائی بشمول ٹریڈرس، طلبا، ٹرانسپوٹرس، سیول سوسائٹی، ملازمین، وکلاء، صحافیوں کی جانب سے معاملے پر ا تحاد و یکجہتی نے یہ ثابت کردیا کہ کشمیری عوام کسی بھی ایسی ہتھکنڈے کے خلاف بھرپور مزاحمت کے لئے تیار ہے جس سے کشمیرمسئلہ کے حل تک اس کی متنازعی حیثیت کو زک پہنچانے کا اندیشہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام بشمول پیر پنچال، ڈودہ، کشٹوار، پونچھ، سرحدی علاقے ٹنگڈار، گریزاور وادی کشمیر نے ہمت اور یکجہتی کا مظاہرہ کرکے نئی دلی کو یہ واضح کردیا کہ طاقت اور تشدد کے بل پر کشمیری عوام کو ان کی پشتینی شناخت کو مسخ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کشمیری عوام اپنے مستقبل کا خود تعین کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا گذشتہ دو دنوں سے جاری پُر امن مزاحمت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قیادت اور کشمیری عوام اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ وہ حق خود ارادیت کے لئے دی گئی اپنی لاتعداد اور بے مثال قربانیوں کے محافظ ہیں لہذا ان قربانیوںکی حفاظت کسی بھی قیمت پر کی جائیگی۔انہوں نے کہاعوام اور قیادت پشتینی اسٹیٹ سبجیکٹ قانون پر آگاہی حاصل کرتی رہے گی تاکہ ہماری حق خود ارادیت کے مقصد میں کوئی بھی دشواری کو عزم و استقلال کےساتھ مقابلہ کیا جائے۔قائدین نے کہا کہ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کی حفاظت کے ضمن میںمشاورت کے بعد آئندہ لائحہ عمل عنقریب ترتیب دیا جائگا۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے دفاع اور تحفظ کے حوالے سے عوام نے جس طرح پُر امن احتجاجی پروگرام کی پیروی میں بلا امتیاز بھر پور نظم و ضبط اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ قابل داد ہے اورمستقبل میں بھی اسی قسم کا مظاہرہ کیا جائےگا۔
Comments are closed.