خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی، میجر گوگوئی کے معاملہ پر بولے فاروق احمد ڈار

سری نگر کے ہوٹل میں ایک لڑکی کو لے کر پہنچے میجر گوگوئی کے خلاف فوج کی جانچ کمیٹی نے تادیبی کاروائی کی سفارش کی ہے۔ انہیں ڈیوٹی کے دوران آپریشنل علاقہ سے دور ہونے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں میجر گوگوئی پر فیصلہ آ نے کے بعد فاروق احمد ڈار نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کے ساتھ انصاف ہوا۔

قابل غور ہے کہ گزشتہ سال میجر لیتل گوگوئی نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں سری نگر کی پارلیمانی نشست پر پولنگ کے دوران کشمیری نوجوان فاروق احمد ڈار کو اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر کم از کم دس گاؤں میں گھمایا تھا اور اس کے لئے انہیں انعام و اکرام سے بھی نوازا گیا تھا۔

خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی، میجر گوگوئی کے معاملہ پر بولے فاروق احمد ڈار
فاروق احمد ڈار کی تصویر

ڈار نے کہا، ’’ میں اللہ کا شکرگزار ہوں۔ جس شخص نے میری زندگی برباد کر دی، اسے آخرکار اللہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اللہ کا انصاف کرنے کا اپنا طریقہ ہے‘‘۔

ڈار(28) نے کہا کہ’’ میں یہاں تک ابھی بھی اس بات پر قائل نہیں ہوں کہ میں دوبارہ عام زندگی شروع کرنے میں کامیاب ہوں۔ لیکن میں خوش ہوں کہ اللہ نے آخرکار مجھے انصاف دیا۔ میری بربادی کے لئے ذمہ دار شخص بھی آخر کار شرمسار ہوا‘‘۔ News18 Urdu

Comments are closed.