دفعہ 35 اے سے متعلق افواہ سے شدید افراتفری، مختلف مقامات پر پُرتشدد جھڑپیں

سری نگر:۷۲،اگستسوموارکی صبح دفعہ35Aکولیکرپھیلی افواہوں کیساتھ ہی شہرسری نگرسمیت وادی کے سبھی اضلاع میں غیریقینی کی صورتحال پیداہوگئی ۔سری نگرمیں سیول لائنزاورشہرخاص کے علاوہ اسلام آباد،پلوامہ ،شوپیان ،کولگام ،سوپوراورہندوارہ میں نوجوان بشمول کالجو ں اوراسکولوں کے طلباءسڑکوں پرنکل آئے اورانہوں نے سنگباری شروع کردی ۔دکانات ودیگرکاروباری مراکز کیلئے گھروں سے نکلے تاجروسیلزمین ،چھاپڑی فروش ،اسکول وکالج روانہ ہوئے ہزاروں چھوٹے بڑے طلاب کوواپس گھرلوٹناپڑا۔یکایک بازاربندہوگئے اورشہرسری نگراورکئی قصبہ جات میں مکمل ہڑتال ہوگئی ۔مزاحمتی لیڈروں اورپولیس محکمہ کی جانب سے وضاحت کئے جانے کے باوجودصورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ،اوریوں پورے دن بیشترعلاقوں میں بغیرکال ہڑتال کی وجہ سے معمول کی عوامی ،تعلیمی اورکاروباری سرگرمیاں مسدودہوکررہ گئیں ۔کشمیر نیوزنیٹ ورک کے مطابق سوموارکی صبح ایک خبررساں ادارے کی جانب سے انٹرنیٹ پرڈالی گئی خبرکہ آج عدالت عظمیٰ میں دفعہ35Aکامعاملہ زیرسماعت لایاجائیگا،افواہوں کاایسابازارگرم ہوگیاکہ آناًفاناًوادی بھرمیں غیریقینی صورتحال پیداہوگئی ۔کچھ وقت بعدANIنامی خبررساں ادارے کی جانب سے تصحیح کیساتھ یہ خبردی گئی کہ دراصل آج سپریم کورٹ میں بھاجپالیڈراشونی کماراوپادھیائے کی جانب سے دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضی کوزیرسماعت لایاجاناہے اوریہ کہ اصل کیس کی سماعت31،اگست کوہی ہوگی ۔اس دوران سینئرمزاحمتی قائدمیرواعظ عمرفاروق نے بھی سماجی رابطہ گاہ ٹویٹرپرلکھے اپنے ایک ٹویٹ میں اس سارے معاملے کی وضاحت کی ۔ریاستی پولیس نے ایک بیان جاری کرکے بتایاکہ آج سپریم کورٹ میں دفعہ35Aکامعاملہ زیرسماعت نہیں آنے والاہے ،اوراس حوالے سے پھیلائی جارہی افواہیں بے بنیادہیں ۔پولیس بیان میں واضح کیاگیاکہ اس کیس کی سماعت سے متعلق خبربے بنیادہے ،اسلئے لوگ بلاوجہ تشویش میں مبتلاءنہ ہوں اوروہ امن وقانون بنائے رکھیں ،اوریہ کہ لوگ غلط اوربے بنیادافواہوں پرکان نہ دھریں ۔اس دوران اے ڈی جی پی سیکورٹی ولاءاینڈآرڈرمنیراحمدخان نے میڈیاکیساتھ بات کرتے ہوئے خبردارکیاکہ افواہیں پھیلاکرامن وقانون میں خلل ڈالنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائیگی ۔تاہم ان ساری وضاحتوں کے باوجودوادی بھرمیں غیریقینی صورتحال برقراررہی ۔شہرسری نگرمیں سیول لائنزاورڈاﺅن ٹاﺅن کے کئی علاقوں بشمو ل گاﺅکدل ،آبی گزر،صفاکدل میں کچھ لوگوں نے مقامی مساجدکے لاﺅڈاسپیکروں سے یہ اعلانات کردئیے کہ آج دن کے 2بجے سپریم کورٹ میں دفعہ35Aکیس کی سماعت ہونے والی ہے ،اسلئے ہمہ گیرہڑتال کی جائے۔اس دوران نوجوانوں کی ٹولیاں شہرمیں مختلف مقامات پرنمودارہوگئیں اورانہوں نے خشت باری شروع کردی جسکے نتیجے میں صبح صبح کھولے گئے دکانات بھی بندہوگئے اورجودکاندارگھروں سے نکل کربازارپہنچے تھے ،وہ بھی واپس چلے گئے ۔سری نگرکے ساتھ ساتھ شمالی اور جنوبی کشمیر کے کئی قصبوں بشمول اسلام آباد، پلوامہ ، شوپیان ، کولگام ، سوپوراورہندوارہ کے علاوہ دیگر کئی مقامات پر بھی اسی نوعیت کی افواہ بازیوں کے نتیجے میں صورتحال بگڑ گئی اور تمام بازار بند ہوگئے۔ غلط فہمی یا غلط خبر منظر عام پر آنے کے نتیجے میں پیدا ہوئی اس غیریقینی صورتحال کے نتیجے میں پلوامہ ، شوپیان ، کولگام ، اسلام آباد، سوپور اور ہندوارہ کے علاوہ دیگر کچھ مقامات پرکالج واسکول طالبعلموں اور پولیس وفورسز کے درمیان جھڑپوںکا سلسلہ شروع ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ پلوامہ قصبہ میں کالج اور اسکول آئے طلاب نے دفعہ35Aکے معاملے کولیکر ایک احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جس دوران انہوںنے نعرے بازی بھی کی۔ مقامی لوگوں کے مطابق احتجاجی طلاب کو منتشرکرنے کے لئے پولیس وفورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ، جس کے بعد یہاں پتھر بازی شروع ہوئی اور قصبہ میں مکمل ہڑتال ہوگئی۔ شوپیان قصبہ میں واقع گورنمنٹ ڈگری کالج میں زیر تعلیم طلباءنے ایک احتجاجی جلوس نکال کر اپنی ناراضگی ظاہر کرنےکی کوشش کی جس دوران جلوس میں شامل کچھ طلاب نے قصبہ میں تعینات سیکورٹی اہلکاروں پر خشت باری کی جس کے جواب میں پولیس وفورسز اہلکاروں نے گول چوک کے نزدیک ٹیر گیس شلنگ اورپیلٹ فائرنگ کی ۔ طرفین کے درمیان جامع مسجد شوپیان کے نزدیک بھی سخت ٹکراﺅ ہوا اور اس دوران ٹیر گیس شلنگ ، پیلٹ فائرنگ اور سنگباری کے نتیجے میں دو درجن کے لگ بھگ افراد زخمی ہوگئے۔ ادھر کولگام ڈگری کالج سے وابستہ طالبعلموں اور پولیس وفورسز کے درمیان بھی ٹکراﺅ کی صورتحال پیدا ہوئی۔ یہاں طلاب نے جلوس نکالنے کی کوشش کی اوراس جلوس میں طالبات کے علاوہ کالج کے ملازم بھی شامل تھے ۔ احتجاجی طلاب اور ملازمین نے بتایاکہ پرامن احتجاج کے باوجود پولیس وفورسز اہلکاروںنے ان کی مارپیٹ کی ۔ اس دوران اسلام آباد قصبہ میں سوموار کی صبح صورتحال بگڑ گئی کیونکہ یہاں بھی مشتعل نوجوانوں نے دفعہ35Aکے معاملے پر ہڑتال کرانے کی کوشش کی ۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ نوجوان احتجاج کررہے تھے اوران کومنتشر کرنے کے لئے ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کئی نوجوان زخمی ہوگئے جبکہ لوگوںنے الزام لگایا کہ فورسز اہلکاروں نے جامع مسجد ریشی بازار کے نزدیک مکانات کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ ڈالیں اور لوگوں کو ہراساں کیاگیا۔ شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں بھی طالبعلموں نے سڑکوں پر نکل کراحتجاجی مظاہرے کئے اوریہاں بھی ٹکراﺅ کی صورتحال پیدا ہوئی جبکہ ڈگری کالج ہندوارہ کے طلاب نے الزام لگایا کہ وہ پرامن احتجاج کررہے تھے کہ پولیس وفورسز اہلکاروںنے بغیر کسی اشتعال کے ان پر اشک آور گولے پھینکے۔ بانڈی پورہ میں بھی کئی مقامات پر طالبعلموں نے احتجاجی جلوس نکالے۔ ہائرسیکنڈری اسکول کلوسہ کے طالب علم سڑکوں پر نکل آئے اور انہوںنے دفعہ35Aکے حق میں نعرے بلند کئے ۔ تاہم کلوسہ پل کے نزدیک پولیس وفورسز نے طالبعلموں کا راستہ روکا اورانہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اس دوران قصبہ بانڈی پورہ میں جزوی ہڑتال رہی۔ پٹن اورکپوارہ کے علاوہ شمالی کشمیر کے دیگر کئی علاقوں میں بھی دفعہ35Aکولیکر پھیلی افواہوں کے نتیجے میں غیریقینی صورتحال پیدا ہوئی ۔ اس دوران سوموار کے روز وادی کے کئی علاقوں میں غیریقینی صورتحال کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ سروس بھی متاثر رہی ۔

Comments are closed.