سری نگر:۷۲،اگست:کے این این /دفعہ35Aکے معاملے پرمرکزمیں برسراقتدارجماعت بی جے پی بالآخرکھل کرسامنے آہی گئی کیونکہ پارٹی کے ایک لیڈرایڈوکیٹ اشونی کماراوپادھیائے نے جموں وکشمیرکے پشتنی باشندوں کی منفردشہریت وحیثیت کوسپریم کورٹ آف انڈیامیں ایک عرضی دائرکرکے چیلنج کردیا۔کے این این کے مطابق سال2014سے19جون2018تک ریاست میں قائم مخلوط سرکارمیں رہنے تک دفعہ370اوردفعہ35Aجیسے حساس معاملات پرخاموشی اختیارکرنے کے بعداب بھارتیہ جنتاپارٹی ان دونوں آئینی معاملات پرکھل کرسامنے آگئی ہے ۔پارٹی کے دہلی یونٹ کے سینئرلیڈراشونی کماراوپادھیائے نے عدالت عظمیٰ میں دفعہ35Aکیخلاف ایک عرضی دائرکی تھی جس میں انہوں نے اس دفعہ کے دیگرمخالف عرضدہندگان کی طرح یہ موقف اختیارکیاکہ دفعہ35Aبنیادی وشہری حقوق کے منافی ایک قانون ہے جسکومنسوخ کیاجاناچاہئے ۔سال2014میں عام آدمی پارٹی چھوڑکربی جے پی میں شامل ہوئے سینئروکیل اورحق اطلاع قانون کے حامی ایڈووکیٹ اشونی اوپادھیائے کی جانب سے دائرکردہ عرضی کاجائزہ لینے کیلئے سپریم کورٹ نے 27اگست کی تاریخ مقررکی تھی ،اورسوموارکوچیف جسٹس آف انڈیاجسٹس دیپک مشراکی سربراہی والاسہ رکنی بینچ اس عرضی کی سماعت کرنے والاتھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اشونی اوپادھیائے کی دائرعرضی کوسماعت کیلئے12نمبرررکھاگیاتھا۔تاہم سماعت شروع ہونے سے کچھ وقت پہلے ہی ایڈووکیٹ اشونی اوپادھیائے نے عدالت عظمیٰ میں ایک درخواست پیش کردی جس میں انہوں نے عدالت عظمیٰ سے استدعاکی کہ دفعہ35Aکیخلاف اُنکی دائرکردہ عرضی کوزیرسماعت نہ لایاجائے ۔عدالت عظمیٰ نے عرضی پرسماعت کوالتواءمیں ڈالنے یارکھے جانے سے متعلق عرضدہندہ کی ڈرخواست کومنظورکرنے کیساتھ ہی اُنکی دائرکردہ35Aمخالف عرضی بھی خارج کردی۔خیال رہے دہلی نشین ایک این جی اﺅWe the Citizensکے علاوہ مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کی ایکشن کمیٹی ،ڈاکٹرچھروولی کھنہ اورکالی داس نامی شخص نے بھی عدالت عظمیٰ میں دفعہ35Aکیخلاف عرضیاں دائرکرتے ہوئے سال1954سے لاگواس قانون کومنسوخ کرنے کی مانگ کی ہے جبکہ ان عرضیوں کیخلاف جموں وکشمیرکی سرکارکے علاوہ کئی سیاسی جماعتوں ،سیول سوسائٹی انجمنوں اورکشمیربارایسوسی ایشن کی جانب سے کل 11درخواستیں یاعرضیاں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ہیں ،اوردفعہ35Aکے خلاف اوراس کے حق میں دائرسبھی عرضیوں کوعدالت عظمیٰ نے جوڑکرایک مشترکہ کیس کی شکل دی ہے جسکی آخری سماعت 6اگست کوہونی تھی تاہم سپریم کورٹ نے سہ رکنی بینچ میں شامل ایک جج کی غیرحاضری کی بناءپراس معاملے کی سماعت اُس روزملتوی کرتے ہوئے اگلی سماعت کیلئے27اگست کی تاریخ مقررکردی تھی لیکن پھریہ بات سامنے آگئی کہ دراصل 27اگست کوعدالت عظمیٰ میں دفعہ35Aکامعاملہ زیرسماعت نہیں آنے والاہے ،اوراس معاملے کی سماعت کی تاریخ جلدسامنے آجائیگی ۔امکان ظاہرکیاجاتاہے کہ اب دفعہ35Aکامعاملہ31اگست کوسپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ زیرسماعت لایاجائیگاتاکہ اس نازک معاملے کے بارے میں آئندہ کی آئینی اورعدالتی حکمت عملی کاتعین کیاجاسکے۔غورطلب ہے کہ آرٹیکل35 اے کے تحت جموں و کشمیر میں رہنے والے شہریوں کو خصوصی حقوق دیئے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ آزادی کے وقت وہ کسی پناہ گزین کو سہولت دے یا نہیں۔ وہ کسے اپنا مستقل رہائشی مانے اور کسے نہیں۔خیال رہے جموں و کشمیر کی حکومت ان لوگوں کو مستقل رہائشی مانتی ہے جو 14 مئی1954 سے پہلے جموں وکشمیر میں آباد تھے۔اس قانون کے تحت جموں اور کشمیر کے باہر کا کوئی بھی شخص ریاست میں نہ تو جائیداد (زمین) خرید سکتا ہے اور نہ ہی وہ یہاں آباد ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کسی بھی بیرونی شخص کے یہاں سرکاری ملازمت کرنے پر پابندی ہے نہ ہی کوئی بیرون ریاستی باشندہ یاشہری جموں وکشمیرکی حدودمیں حکومت کی طرف سے جاری منصوبوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اسکے ساتھ ساتھ جموں وکشمیرکی کوئی لڑکی اگر کسی باہری شخص سے شادی کرتی ہے تو اس سے ریاست کی طرف سے ملے خصوصی اختیارات چھین لئے جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، اس کے بچے بھی حق کی لڑائی نہیں لڑ سکتے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.