جموں میں دفعہ35-Aکو ہٹانے کے حق میں سیمینار

جموں وکشمیر کو اسلامی ریاست بنانے کا الزام ،’ دفعہ35-A ایڈز جیسی مہلک بیماری کی علامت :مدھو کیشور

جموں،25اگست (یو این آئی) جموں میںمتعدد ہندو تنظیموں کے اشتراک سے بنائی گئی نئی تنظیم ’ایک جُٹ جموں‘کے بینر تلے ہفتہ کے روز یہاں جموں میں’دفعہ35-A:جموں محاصرے میں‘موضوع پر سیمینار کا اہتمام کیاگیا جس میں جموں صوبہ کے سبھی ضلعوں سے ہندو طبقہ سے وابستہ متعدد سیاسی و سماجی شخصیات، وکلاءاور تاجر برادری اور ہندو ایکتا منچ کے بیشترلیڈران نے شرکت کی۔سیمینارکی صدارت ایک جٹ جموں کے چیئرمین انکور شرما نے کی۔ مقررین میں انکور کے علاوہ تاریخ کے پروفیسر ہری اوم، سماجی وسیاسی کارکن سونم مہاجن، آزاد ایم ایل اے اودھم پور پون کمار گپتا، کشمیری پنڈتوں کی تنظم پنن کشمیر کے چیئرمین اجے چرنگو، دہلی سے آئیںپروفیسر سی ایس ڈی ایس اور مصنف وماہرتعلیم مدھو کیشورشامل تھے۔ مقررین نے دفعہ35-Aاوردفعہ370کو جموں وکشمیر کو ہندوستانی حدود کے اندر ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کی منصوبہ بند سازش قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ مسلم لیڈران جنہیں پاکستان کی حمایت حاصل ہے، وہ ہندوستانی آئین کے سیکولر ازم کا ڈھنڈورا پیٹ کر یہاں پر پاکستان کے نامکمل ایجنڈہ کی آبیاری کر رہے ہیں۔مقررین نے صدرجمہوریہ ہند کی اتھارٹی کوچیلنج کرتے ہوئے کہاکہ ان کی طرف سے پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے آرڈننس کے ذریعہ لائے گئے قوانین کو وہ نہیں مانتے۔پروفیسر مدھو کیشور نے کہاکہ دفعہ35-Aایک ایڈز جیسی مہلک بیماری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہاکہ رسانہ معاملہ میں محبوبہ مفتی نے جموں کے ہندو ¿ں کو’پرو ریپسٹ‘قرار دیکر ایسا پاپ کیا ہے جس کی سزا محبوبہ کی ساتھ پشتوں کو بھگتنی پڑے گی۔ انتہائی جارحانہ انداز میں مدھوکیشور نے کہاکہ مندروں کے شہر کو منی پاکستان بنانے کی سازشیں کی جارہی ہیں، چاروں اطراف سے اس کو مسلمانوں نے گھیر لیا ہے۔ روشنی ایکٹ کے تحت مسلمانوں کو سرکاری اراضی کے مالکانہ حقوق دیکر یہاں پر ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔موصوفہ نے الزام عائد کیاکہ ہندوستان کی نیشنل میڈیا کوآئی ایس آئی نے خرید رکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئین ہند کو نہ ماننے والے اعلیحدگی پسندوں، حریت لیڈران اور ان کے حمایتوں کی جائیدادیں ضبط کی جائیں، ان کے بچوں کو ہندوستان کے کسی بھی تعلیمی ادارہ یونیورسٹی میں تعلیم نہ دی جائے، اردو زبان کو ختم کیاجائے۔ جموں کشمیر ریاست کے تین حصے کئے جائیں، تمام علیحدگی پسند لیڈران کو انڈو مان نیکو بار جزائر کی جیلوں میں قید کیاجائے۔جموں کے ہندو ¿ں کی آواز بلند کرنے کے لئے ورلڈ کلاس ٹیلی ویژن چینل اور اخبار شروع کیاجائے۔سونم مہاجن نے کشمیر مرکوز سیاسی لیڈران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انہیں جموں کے ڈوگروں کے حق کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں، ان کی بات کرنے کے لئے ہم ہیں، لہٰذا یہاں غلط پروپگنڈنہ کیاجائے۔اجے چرنگو نے کہاکہ جموں وکشمیر اسلامک ریاست ہے، یہاں پر ہر ادارے پر مسلمانوں نے قبضہ کر رکھا ہے، جس کے خلاف ذہنی اور جسمانی طور اب کھل کر ایجی ٹیشن شروع کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلمان نظریاتی طور متحداور ذہنی طور ہم سے قابل ہیں، لہٰذا اہمیں بھی نظریاتی اور ذہنی طور ان کیخلاف جنگ چھیڑنی کی ضرورت ہے۔انکور شرما نے کہاکہ جموں کے لوگوں کو کشمیری حکمرانوں نے دوسرے درجے کا شہری بناکر رکھاہے، ہم پر کالونیکل راج کیاجارہاہے۔دفعہ35-Aکی وجہ سے لاکھوں مغربی پاکستانی رفیوجیوں، گورکھا اور والمیکی سماج کے صفائی کرمچاریوں کو بنیادنی حقوق حاصل نہیں، یہ جہادی آئین ہے، انہوں نے انکشاف کیاکہ روشنی ایکٹ جس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیاہے، کے تحت جموں صوبہ میں19لاکھ کنال جنگلات اور سرکاری زمین کے مسلمانوں کو مالکانہ حقو ق دیئے گئے ہیں۔جموں کو بھی مکمل طور مسلمانوں کا گڑھ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کو کبھی پورا نہیں ہونے دیاجائے گا۔ جموں کے ہندو ¿ اب متحد ہیں اور خطرناک لڑائی لڑی جائے گی.پروفیسر ہری اوم نے کہاکہ دفعہ35-Aایک فراڈ ہے جس کو14مئی1954کو لایاگیا لیکن لاگو14مئی1944سے کیاگیا تاکہ اس کا فائیدہ غیر مسلمان نہ اٹھاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ عمر عبداللہ جس کی ماں انگلستان کی ، جس کی پیدائش انگلستان میں ہوئی، وہ جموں وکشمیر کا وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے توپھرجموں سے بیرون ریاست شادی کرنے والی لڑکیوں کو یہاں مالکانہ حقوق کیوں نہیں۔ایم ایل اے اودھم پور پون کمار گپتانے کہاکہ بی جے پی پی نے پی ڈی پی کے پاس خود کو گروہی رکھا۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ مغربی پاکستانی رفیوجیوں، بالمیکی سماج، یہاں پر ملازمت کرنے والے بیروکریٹس، پولیس افسران، دیگر ملازمین اور یہاں سرمایہ کاری کرنے والے تاجروں کو بھی شہریت دی جائے۔

Comments are closed.