یوم عید :کشمیر وادی کے کئی علاقوں میں تشدد،متعدد زخمی

سرینگر : یوم عید کے موقعے پر وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں نماز عید کے بعد تشدد بھڑک اٹھنے کی اطلاعات ہیں .پرتشدد مظاہروں کے دوران فورسز کی کارروائی سے متعدد افراد زخمی ہوئے .

رپورٹس کے مطابق عید گاہ سرینگر کے علاوہ اننت ناگ ،سوپور ،کپوارہ کے کئی مقامات پر نماز عید کے بعد مشتعل مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے .

معلوم ہوا ہے کہ اشاجی پورہ اور جنلات منڈی اننت ناگ میں عید نماز ادا کرنے کے بعد تشدد بھڑک اٹھا .پتھرائو ،جوابی پتھرائو اور ٹیس گیس شلنگ وپیلٹ فائرنگ سے متعدد مظاہرین یہاں زخمی ہوئے.زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا.

معلوم ہوا ہے کہ جنگلات منڈی اننت ناگ میں ایک سی آر پی ایف اہلکار بھی تشدد کے دوران زخمی ہوا.ادھر شما لی ضلع بارہمولہ کے قصبہ سوپور میں نماز عید ادا کرنے کے بعد تشدد بھڑک اٹھا.یہاں نوجوانوں نے مین چوک میں احتجاج کرنے کی کوشش کی جسکی پولیس نے اجازت نہیں دی.

عید گاہ سرینگر میں نماز عید کے بعد تشدد بھڑک اٹھا .عید گاہ سرینگر اور نور باغ علاقوں میں نوجوانوں‌نے احتجاج کے دوران پولیس وفورسز اہلکاروں پر پتھرائو کیا ،جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی .

اطلاعات کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ کے مرکزی قصبہ میں احتجاج کے دوران تشدد بھڑک اٹھا ،جس دوران مظاہرین نے فورسز پر پتھرائو جبکہ جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی.

معلوم ہوا ہے کہ رگی پورہ پل کے مقام پر ایک احتجاجی جلوس پر فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی جس پر یہاں تشدد بھڑک اٹھا .

میر واعظ عمر فاروق نے سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریرکرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے عید اجتماعات کے تقدس کو پامال کیا.

Comments are closed.