معاشرے کے غریب، محتاج اور ضرورت مندوں کو اپنے خوشیوں میں یاد رکھیں
سری نگر:سید علی گیلانی نے عید لاضحی کے مقدس موقعے پر لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری قوم جب ہی صحیح معنوں میں عید کی خوشیوں اور مسرتوں سے سرفراز ہوگی، جب ہم جبری قبضے سے آزاد ہوجائیں گے اور ان مظالم کا سلسلہ بند ہوجائے گا، جو پچھلی 7دہائیوں سے ہم پر ڈھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے عید سادگی اور اسلامی اصولوں کے مطابق منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پوری قوم سوگوار ہے اور ہمیں اس موقعے پر ان یتیموں، بیواو¿ں اور عمر رسیدہ لوگوں کی ہر ممکن طریقے سے مدد اور دلجوئی کرنی چاہیے، جن کے عزیز واقارب اور لختِ جگر شہید ہوئے یا اسیران زندان بنادئے گئے ہیں۔ حریت راہنما نے ایک حدیث کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ غربت انسان کو کفر تک لے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر دشمن قوتیں بھی غرباءکا آسانی سے استحصال کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے، لہٰذا اپنے معاشرے کے غریب، محتاج اور ضرورت مندوں کو اپنے خوشیوں میں شامل کرنے اور ان کی تنگ دستی کو دور کرنا ہم سب کا فرض ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم عید سادگی سے منانے اور فضول اخراجات سے اجتناب کریں۔ سید علی گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ عید عام معنوں میں کوئی روائتی تہوار نہیں ہے، بلکہ یہ عبادت کا دن ہے اور اس کو قربانی کے لیے انعام حاصل کرنے کا دن قرار دیا گیا ہے۔ حریت راہنما نے کہا کہ عید کے موقعے پر حلال جانوروں کی قربانیاں پیش کرنے کا مقصد محض خون بہانا اور گوشت کھانا نہیں، بلکہ تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ تقویٰ قرب اِلٰہی کا نام ہے، معاصی اور لغویات، بے حیائی وبے شرمی کے امور سے پرہیز کرنے کا نام ہے۔ ایک تقویٰ گزار شخص غلامانہ زندگی اختیار نہیں کرسکتا وہ اپنے ربّ کریم کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے علاوہ کسی بھی طاغوت کے سامنے اپنی گردن جُھکا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن ہر طرح کی فضولیات اور لغویات سے ہمیں پرہیز کرنا چاہیے اور کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے، جو عید کے تقدس اور اسلامی شعائیر کے ساتھ مطابقت نہ رکھتا ہو۔ اُمِّتِ مسلمہ کی موجودہ صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے اسلام پسند راہنما نے کہا کہ مسلمان دنیا کے شاید ہی کسی حصے میں آج سکون اور چین کی زندگی گزاررہے ہیں، کہیں غیر اقوام ان کے ساتھ جبروزیادتیاں کررہے ہیں اور کہیں وہ خود خانہ جنگی میں مصروف ہوکر ایک دوسرے کے خلاف صف آراءہیں۔ عید لاضحی کا یہ مقدس دن ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم آپس کے تمام اختلافات اور رنجشیں بھُلا کر ایک دوسرے کو گلے لگائیں اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ آئیے مسلکی، فروعی اور دوسرے بے معنیٰ تفرقوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک ساتھ عید منائیں اور عہد کریں کہ ان ساری قوتوں کا مل کر مقابلہ کریں جو مسلمانوں کو مٹانے کے درپے ہیں اور جو ان کے حقوق پر شب وخون مارتے ہیں۔ادھرمیرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے عیدالاضحی کی آمد پر عالم اسلام سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو دل کی عمیق گہرائیوں کے ساتھ عید کی مبارکباد اور تہنیت پیش کی ہے۔ عید سعید کی آمد پر اپنے خصوصی پیغام میں میرواعظ نے کہا کہ دراصل عید قربان اپنے اندر ایک ایسا حیات آفریں پیغام رکھتی ہے جس سے عالم انسانیت کی بہار وابستہ ہے اور یہ تقریب سعید امتحان کی ہر گھڑی میں ایثار و قربانی ، ایمان و یقین، اطاعت و فرماں برداری، تسلیم و رضا، صدق و صفا کے شیوہ براہیمی کی طرف ہمارے لئے ایک دعوت عام ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک جموںوکشمیرمیں عید الاضحی کی تقریب منانے کا تعلق ہے تویہ عید ایک ایسے وقت میںمنائی جارہی ہے جب ریاست جموںوکشمیر کے سیاسی تشخص اس کی شناخت اور اس کی متنازعہ ہئیت اور حیثیت کو بگاڑنے کیلئے کشمیر دشمن اور فرقہ پرست قوتیںاپنے مکروہ عزائم کے تکمیل کیلئے ایک مذموم مہم جوئی میں مصروف ہےں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری قوم ان عناصر کی ریشہ دوانیوں کے سدباب اور اپنی بے شمار جانی و مالی قربانیوں کے تحفظ کیلئے برسر جدوجہد ہے اور عید کے اس موقعہ پر ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ ہم اپنی ریاست کی انفرادیت اور جغرافیائی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کے آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے کسی بھی مذموم منصوبے کو ناکام بنانے اور رواں جدوجہد آزادی کو پایہ تکمیل تک لیجانے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ میرواعظ نے کہا کہ عید کے اس موقعہ پر تمام صاحب ثروت اور اصحاب خیر سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اسراف اور فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہوئے سادگی اور اسلامی تعلیمات کے دائرے میں عید کی خوشیاں منائیں اور سماج کے غریب ، نادار، محتاج اور رواں تحریک آزاد ی کے دوران متاثرہ خاندانوںکو کسی بھی قیمت پر فراموش نہ کریں اور انہیں عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کیلئے اپنی سعی بروئے کار لائیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے مرحلے پر کشمیر اور کشمیر سے باہر مختلف جیلوںاور عقوبت خانوں میں برسہا برس سے کشمیری حریت پسند نظر بندوں کے عزم و استقلال کو سلام پیش کرتا ہوں اور انکی صحت و سلامتی کیلئے دعا گو ہوں۔ میرواعظ نے کہاکہ ہمیں آج کے دن وطن عزیز کے انتہائی سنگین اور پر آشوب حالات کا احساس کرنا چاہئے اور ان عظیم اور تاریخی جانی و مالی قربانیوں کو ہرگز نظروں سے اوجھل نہیںہونے دیناچاہئے جو ہمارے ہزاروں بزرگوں،عزیزوں اور پردہ نشین ماﺅں اور بہنوں نے پیش کی ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔
Comments are closed.