کپواڑہ میں معصوم طالب علم کی پر اسرار ہلاکت کے خلاف ہڑتال سے معمول کی زندگی مفلوج
ملوثین کو سزا دینے کا مطالبہ ، مشتعل ہجوم کے ہاتھوں پولیس کانسٹبل کا زد کوب ،خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل
گزشتہ دنوں کپواڑہ کے گولگام علاقے سے پر اسرار طور لاپتہ ہوئے معصوم طالب علم کی جمعرات کی شام نعش بر آمد ہونے کے خلاف ضلع کپواڑہ میں جمعہ کو مکمل ہڑتال کے بیچ احتجاجی مظاہرئے ہوئے جس دورا ن معلوم ہوا ہے احتجاجی مظاہرین نے پولیس کانسٹبل کازد کوب کیا ۔ احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ معصوم طالب علم کے قتل میں ملوث افراد کی جلد از جلد نشاندہی کرکے ان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے ۔اسی دوران پولیس نے معصوم لڑکے کی موت کی وجوہات جاننے کیلئے فوری طور پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ سی این آئی کے مطابق جمعرات کی شام کپواڑہ کے کولگام علاقے میں اس وقت قیامت صغر ی بپا ہوئی جب حالیہ دنوں سرحدی ضلع کپوارہ میں پْراسرار طور پر لاپتہ ہوئے کمسن لڑکے کی جھلسی ہوئی نعش نالے سے برآمد کی گئی۔نمائندے نے اس ضن میں مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ نو سالہ عمر فاروق ملک ولد فاروق احمد ملک ساکنہ غلام جوکہ تیسری جماعت کا طالب علم تھا ،سوموار کی سہ پہر 4بجے گھر سے نکالا اور بعد ازاں پْراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا تھا۔جس کے بعد جمعرات کی شام گشی کے مقام پر نالہ میں مقامی لوگوں نے ایک نعش دیکھی ،جس کے بعد علاقے میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔اس لاپتہ طالب علم کے رشتہ دار بھی وہاں پہنچے ،جنہوں نے نعش کو اپنی تحویل میں لیکر گاؤں پہنچا دی۔کمسن لڑکے کی موت پر علاقے میں ہزاروں لوگ ایک ہی جگہ پر جمع ہوئے ،اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کمسن لڑکے کی موت میں جو بھی ملوث ہے ،اْنہیں سزا دی جائے۔معلوم ہو اہے کہ نعش بر آمد ہونے کے بعد معصوم طالب علم کے والدین پر قیامت صغری بپا ہوئی ۔ اسی دوران معصوم طالب علم کی ہلاکت کے خلاف ضلع کپواڑ ہ میں جمعہ کو مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں تمام تجارتی و کارو باری سرگرمیاں متاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی معطل رہی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ ہڑتال کے نتیجے میں گورئمنٹ ڈگری کالج کپواڑہ اور سوگام میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر رہی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ باترگام علاقے میں گزشتہ شب احتجاجی مظاہروں کے دوران مشتعل ہجوم نے پولیس اہلکار کا زد کوب کیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ غلام محی الدین کانسٹبل جو کہ ڈی ایس بی میں تعینات ہے کو گزشتہ شام مشتعل ہجوم نے پکڑ کر اس کا زد کوب کیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا ۔ ادھر ایس ایس پی کپوارہ نے معصوم طالب علم کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ معاملے کی نسبت اے ایس پی کپوارہ کی قیادت میں اس معاملے کی نسبت خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) تشکیل دی گئی۔انہوں نے کہا کہ نعش کا پوسٹ مارٹم کی عکس بندی ہوگی۔اس ضمن میں پولیس نے ایف آئی آر زیر نمبر192/2018زیر دفعہ302،363آر پی سی کے تحت پولیس اسٹیشن کپوارہ میں کیس بھی درج کیا گیا اور مزید تحقیقات شروع کردی گئی۔
Comments are closed.