امریکہ کاطالبان سے متوقع مذاکرات کے منصوبہ کو ناٹو نے مسترد کردیا
امریکہ کاطالبان سے متوقع مذاکرات کے منصوبہ کو ناٹو نے مسترد کردیا
کابل، 17 جولائی : شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (ناٹو) کی قیادت والے ’ریزیوليوٹ سپورٹ مشن‘ نے منگل کو اس رپورٹ کو سرے سے مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ شدت پسند تنظیم طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنا چاہتا ہے۔
ناٹو کی جانب سے جاری ایک بیان میں پیر کو ان رپورٹوں کا ذکر کیا گیاجن میں ٹاپ کمانڈر جنرل جان نكولسن نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپيو کے اس بیان کو دہرایا ہے جس میں امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکہ کو لے کر طالبان کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے۔
مسٹر نكولسن نے اس بیان میں کہا کہ امریکہ افغانیوں یا افغانستان حکومت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا "میں مسٹر پومپيو کے اس بیان کو مسترد کرتاکرتا ہوں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امن بات چیت میں بین الاقوامی افواج کے کردار پر غور کیا جائے گا اور امریکہ طالبان، افغانستان حکومت اور افغانی عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے‘‘۔
اس دوران طالبان نے صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ بات چیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غیر قانونی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ سے بات چیت ہونی چاہئے۔
مسٹر نكولسن نے کہا’’ہمارے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ امریکہ طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے اور اس میں بین الاقوامی افواج کے کردار پر بھی غور کیا جائے گا‘‘۔
رائٹر،
Comments are closed.