بی سی سی آئی کو آرٹی آئی ایکٹ کے تحت لانے کا مطالبہ
ایک بھارتی شہری نے حق اطلاعات ایکٹ( آر ٹی آئی) کے تحت بی سی سی آئی سے پوچھا تھا کہ جن کھلاڑیوں کو منتخب کیا جاتا ہے تو وہ ملک کے لیے کھیلتے ہیں، یا وہ بی سی سی آئی کی نمائندگی کرتے ہیں؟ بورڈ نے اس کا جواب دینے سے لاچاری ظاہر کی ہے۔
مرکزی اطلاعات کمیشن (سی آئی سی) نے بورڈ آف کنٹرول کرکٹ فار انڈیا (بی سی سی آئی) اور وزرات کھیل کو وجہ بتاؤ نوٹس جارے کرتے ہو ئے لکھا ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلوں اور لا کمیشن کی رپورٹ کے مدّنظر کیوں نا بی سی سی آئی کو بھی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (آر ٹی آئی) کے تحت لایا جائے۔
اطلاعاتی کمیشن کے سربراہ سری دھر اچاریولو کا کہنا ہے کہ’ سی آئی سی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ لمبے عرصے سے بنی اس غیر یقینی صورتحال پر قابو پایا جائے۔ جو بی سی سی آئی کے کاموں میں شفافیت پیدا کرے اور اسے قانونی الجھنوں سے آزاد رکھے۔’
اطلاعات کے مطابق ایک عرضی گذار، گیتا رانی نے آر ٹی آئی یا حق اطلاع کے تحت وزرات کھیل سےجواب مانگا تھا کہ آخر کن شرطوں اور ہدایات کی بناء پر بی سی سی آئی ملک کی نمائندگی کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب کرتی ہے اور ٹیم کو تشکیل دیا جاتا ہے۔
عرضی گذار گیتا رانی نے پوچھا تھا کہ جن کھلاڑیوں کو منتخب کیا جاتا ہے تو وہ ملک کے لیے کھیلتے ہیں، یا وہ بی سی سی آئی کی نمائندگی کرتے ہیں؟
ایک نجی تنظیم (بی سی سی آئی) کیسے عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کر سکتی ہے؟ اسطرح کے کل 12 نکات پر مبنی سوالات پوچھے گئے تھے۔
حالاںکہ جواب میں وزرات کھیل نےلاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں، کیوںکہ بی سی سی آئی کو ایک نجی ادارہ مانا گیا ہے جو آر ٹی آئی ایکٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔
سری دھر اچاریولو نی کہا کہ سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں نے متعد موقعوں پر کہا ہیکہ بی سی سی آئی سیدھے طور پر عوام سے جڑا ایک ادارہ ہے، اس لیے بی سی سی آئی عوام کو جواب دہ ہے۔
Comments are closed.