غیر ازدواجی تعلقات کو جرم بنائے رکھیں، اس میں نرمی کا اثر شادیوں پر پڑے گا: سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت

غیر ازدواجی تعلقات کو جرم بنائے رکھیں، اس میں نرمی کا اثر شادیوں پر پڑے گا: سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت

مرکزی حکومت نے بدھ کو سپریم کورٹ میں کہا کہ ایڈلٹری یعنی غیر ازدواجی تعلقات کو جرم کے زمرہ میں برقرار رکھا جانا چاہئے ۔ حکومت نے کہا کہ اگر اس قانون میں نرمی برتی گئی تو اس کا ہندستانی ثقافت اور شادی کے پاکیزہ رشتہ پر برا اثر پڑے گا۔ مرکزی حکومت کا یہ جواب ایڈلٹری کے معاملوں میں خواتین اور مردو ں کو ایک جیسی سزا دینے کے مطالبے سے متعلق عرضی پر آیا ہے ۔ گزشتہ سال سی جے آئی دیپک مشرانے اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا کہ ایڈلٹری سے ڈیل کرنے والی آئی پی سی کی دفعہ 497 کا جواز کیا ہے ؟ بینچ نے کہا تھا کہ یہ قانون کافی قدیم لگتا ہے اور اس میں خواتین کو مردوں کے برارنہیں مانا گیا ہے۔

اس عرضی کو رد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے کہا کہ آئی پی سی کی دفعہ ۔497 اور سی پی سی کی دفعہ۔198 (2) کو ختم کرنے کا سیدھا اثر ہندستان کی ثقافت پر پڑے گا جو کہ شادی کی روایت اور اس کی پاکیزگی پر زور دیتا ہے۔

سپریم کورٹ میں بدھ کو داخل کئے گئے سرکاری حلف نامے کے مطابق دفعہ ۔ 497 ایک ضروری التزام ہے اور اسے ہٹایا نہیں جا سکتاہے۔حکومت نے لکھا، ” آئی پی سی کی دفعہ۔ 497 اورسی پی سی کی دفعہ۔198 (2) کو ختم کرنے سے ایڈلٹری جرم کے زمرے سے باہر آجائیں گے۔جس سے سماج کے تانے بانے کو بڑا نقصان ہوگا۔

Comments are closed.