متحدہ عرب امارات: واٹس ایپ پر کسی کو گالی دینے کی سزا ملک سے بے دخلی
متحدہ عرب امارات کی وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ واٹس ایپ پر کسی کو گالی دینے یا برا بھلا کہنے کی سزا ملک سے بے دخلی ہے۔
بین الاقومی خبر رساں ادارے کے مطابق فیڈرل عدالت نے واٹس ایپ کے ذریعہ پیش کی جانے والے دلائل کوصحیح مان کر ایک خاتون کو ملک سے بیدخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس نے کسی دوسری خاتون کو واٹس ایپ کے ذریعہ گالی دی تھی۔
عدالت نے کہا ہے کہ واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع سے کیے جانے والے جرائم سائبر کرائم میں شامل ہوتے ہیں۔
ادھر، بھارت میں واٹس ایپ نے ایک نئے فیچر ‘فارورڈ میسج انڈیکیٹر’ سروس کی شروعات کی ہے۔ یہ نئی سروس سے اب یہ پتہ لگانے میں مدد ملے گی کہ حاصل شدہ پیغام صحیح ہے یا کسی اور کے پیغام کو فارورڈ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ واٹس ایپ کمپنی نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ جھوٹی خبریں، افواہ پھیلانے اور غلط معلومات سے صارفین کو بچایا جاسکے۔
یاد رہے کہ کمپنی افواہ اور غلط پیغامات کے پیش نظر تنازع کا شکار ہے، اسی لیے کمپنی نے آج ملک گیر پیمانے پر عوام کو باخبر کرنے کے لیے بھارت میں شائع ہونے والے اخبارات میں پورے صفحات پر مشتمل اشتہارات بھی شائع کروائے ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ ہم واٹس ایپ کی سکیورٹی کے تعلق سے بہت زیادہ متفکر تھے۔
Comments are closed.