متواترشہر ی ہلاکتیں: وادی سوگوار ،فضاء غمناک

دکانات ،کاروباری اداے، تجارتی مراکز مقفل،ٹریفک سڑکوں سے غائب

موبائیل انٹر نیٹ خد مات وریل سروس منقطع ،مزاحمتی لیڈران خانہ وتھانہ نظر بند

سرینگر:١١،جولائی :کے این این/ 4روز میں 5شہری ہلاکتوں پر جنت بے نظیر وادی سوگوار اور فضاء غمناک رہنے کے بیچ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی کی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر بدھ کو خانیار سے خادنیار تک پہیہ جام وشٹر ڈائون ہڑتال سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر جنوبی کشمیر میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع اور بارہمولہ ۔بانہال ریل سروس معطل رہی جبکہ شہر خاص کے 5پالیس تھانوں سمیت حساس قصبوں میں بند شیں عائد رہیں ،تاہم یہ اتوار کے مقابلے میں نرم تھیں ۔مزاحمتی لیڈران سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک سمیت کم وبیش تمام لیڈران کو تھانہ وخانہ نظر بند رکھا گیا ۔دریں اثناء پولیس ترجمان نے کہا کہ مجموعی طور پر وادی بھر میں صورتحال پرامن رہی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق فورسز کے ہاتھوں متواتر شہری ہلاکتوں کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اپیل پر وادی بھر میں بدھ کو ہمہ گیر ہڑتال رہی ،جسکے نتیجے میں شہر ودیہات میں معمولات زندگی متاثر رہے ۔منگل کے روز کندلان شوپیان میں ایک خونین معرکہ آرائی کے دوران جائے جھڑ پ کے نزدیک فورسز کی فائرنگ سے 16طالب علم جاں بحق ہوا تھا اور پُرتشدد جھڑپوں کے دوران100سے زیادہ افراد مضروب ہوئے جبکہ جنگجو بیٹے کی محاصرے میں پھنسے افواہ سننے سے والد کی حر کت ِ قلب بند ہوئی ۔100سے زیادہ زخمیوں میں6کوگولیاں لگیں تھیں ،25کو سرینگر منتقل کیا گیا جنہیں گولیاں اور پیلٹ لگے تھے۔تاہم 16سالہ تمثیل احمد خان ولد خورشید احمدساکن وہیل شوپیان اسپتال لیجانے کے دوران راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا۔لہو رنگ وادیٔ کشمیر کا ایک درد ناک پہلو یہ بھی ہے کہ کندلان میں جھڑپ شروع ہونے کیساتھ ہی میمندر شوپیان میں ایک جنگجو کا والد دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوا۔جونہی ک کندلان میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی تو میمندر شوپیان کے ایک شخص45سالہ محمد اسحاق نائیکو کو کسی نے یہ اطلاع دی کہ اسکا بیٹا جو محض ڈیڑھ ماہ پہلے جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا ہے، فوج کے نرغے میں آگیا ہے۔محمد اسحاق کو یہ سن کر سینے میں شدید درد محسوس ہوا اور وہ غش کھا کر گر پڑا، اسے بیہوشی کی حالت میں ضلع اسپتال شوپیان پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔وہ بیٹے کی خبر سن کر حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہوا۔لیکن بعد میں محض افواہ ثابت ہوئی کیونکہ اسکا بیٹا نرغے میں نہیں آیا تھا۔اسکا بیٹا زینت الا سلام نے19جون2018 کو ہتھیار اٹھائے۔جھڑپ میں دو جنگجو سمیر احمد شیخ ساکنہ شوپیان اور بابر ساکنہ پاکستان جاں بحق ہوئے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے موقع پر 7جولائی بروز سنیچر کولگام میں فورسز کی فائرنگ سے16سالہ طالب سمیت3افراد جاں بحق ہوئے تھے۔جاں بحق افراد میں شاکر احمد کھانڈے ولد محمد حسین،ارشاد احمد ولد عبدالمجید اور عندلیب دختر علی محمد کی عمر،باالترتیب،22،20اور16تھی۔متو اتر شہری ہلاکتوں کے خلاف تمام10اضلاع سرینگر ،گاندر بل ،بڈگام ،پلوامہ ،شوپیان ،کولگام ،اننت ناگ ،کپوارہ ،بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں ہر طرح کے دکانات ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز ،پیٹرول پمپ ،بینک بند رہے جبکہ سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے بھی مقفل رہے ۔ہڑتال کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے مکمل طور پر غائب رہا ،تاہم اہم شاہراہوں پر اکا دکا نجی گاڑیاں وچھوٹی مسافر ٹیکسیاں چلتی ہوئی نظر آئیں ،تاہم مجموعی طور پر پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی ،جسکی وجہ سے بازار اور سڑکیں ویران وسنسان نظر آرہی تھیں ۔تاہم ہڑتال کے باعث سالانہ امرناتھ یاترا میں کوئی خلل نہیں پڑا ،جہاں ہزاروں کی تعداد میں یاتری جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے گپھا کی طرف روانہ ہوئے ،وہیں روایتی راستوں بالہ تل اور ننون پہلگام سے یاترا بغیر کسی خلل کے جاری رہی ۔اس دوران شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ حساس قصبہ جات میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر کرے سیکیورٹی بندوبست کئے گئے تھے جبکہ کچھ حساس علاقوں میں بندشیں بھی عائد رہیں ۔شہر خاص کے نوہٹہ ،گوجوارہ ،راجوری کدل ،نالہ مار روڑ کے ساتھ ساتھ سیول لائنز کے حساس علاہ مائسمہ میں اضافی سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی جبکہ یہاں بندشیں بھی عائد رھیں ،تاہم یہ حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی پر اتوار کے مقابلے میں کافی نرم تھی ۔شہرخاص کے پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ ،خانیار ،مہاراج گنج ،صفاکدل ،رعناواری کے تحت آنے والے حساس علاقوں میں لوگوں کی نقل وحرکت روکنے کیلئے تار بندی بھی کی گئی تھی ۔اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر وادی کشمیر میں چلنے والی ریل خدمات بدھ کو ایک بار پھر معطل کردی گئیں۔ یہ خدمات مزاحتمی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے متواتر شہری ہلاکتوں کے خلاف دی گئی ہڑتال کی کال کے پیش نظر معطل کی گئیں۔ یہ وادی میں جولائی کے مہینے میں تیسری مرتبہ ہے کہ جب ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات احتیاطی طور پر اٹھائے گئے ،جنوبی کشمیر میں مسلسل پانچویں روز بھی موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع رہے ۔اس دوران مہلوک افراد کے اہلخانہ کیساتھ تعزیت پرسی کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ۔یاد رہے کہ 25جون کوبی ایس ایف کے اہلکاروں نے بارہمولہ ،ہندوارہ شاہراہ پرنادی ہل کے نزدیک سنگباری کررہے نوجوانوں کے گروپ پرگولی چلائی تھی ،اورگولی لگنے سے 11ویں جماعت میں زیرتعلیم عبیدمنظورزخمی ہواتھا،17روزبعدیہ معصوم طالب علم منگل کو ہی زندگی کی جنگ ہارگیا تھا۔دریں اثناء پولیس ترجمان نے کہا کہ مجموعی طور پر وادی میں صورتحال پرامن رہی ۔

Comments are closed.