جوانوں سے اب نوکروں جیسا کام نہیں لیا جاسکے گا: جنرل بپن راوت
بھارت کے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے بشمول 12 لاکھ فوجیوں کے ریٹائر عہدیداروں کے لیے سخت ہدایات جاری کیں ہیں۔
فوجی سربراہ نے سی ایس ڈی شراب، آرمی کینٹین کے ہو رہے غلط استعمال کو روکنے کے ساتھ ساتھ اعلی حکام پر بھی لگام کسنے کی کوشش کی ہے۔
سینیئر افسران کے ذریعے فوجی جوان سےنوکروں جیسے کام لیے جانے اور فوج میں کیے جا رہے غلط کاموں کو روکنے کے لیے نئی ہدایات جاری کیں ہیں۔ جس میں فوجیوں کے کھان۔پان سے لیکر صاف صفائی اور بدعنوانی کا معاملہ شامل ہے۔
فوجی سربراہ نے اپنی نئی ہدایات میں کہا کہ وہ افسران کو کسی نا کسی شکل میں بدعنوانی میں ملوث ہیں وہ کسی بھی صورت میں بخشے نہیں جائیں گے، چاہے وہ کسی بھی رینک یا ود کے ہوں۔
انہوں نے فوجیوں کے کھانے میں پروسے جا رہے پوری، پکوڑے اور میٹھے پر پابندی عائد کر نے کا اشارہ دیتے ہوئے اس صحت مند غذا دیئے جانے کی بات کہی۔
فوجی سربراہ کے مطابق فوجیوں کے صحت میں بہتری لانے کے لیے کئی چیزوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ فوجی سربراہ کی جانب سے نئی ہدایات ایسے وقت میں جاری ہوئی ہیں جب عام خیال یہ ہے کہ فوج میں عام شہریوں کے مقابلے میں اعلی درجے کا نظم و ضبط ہے،وہاں بدعنوانی بالکل نہیں ہے اور اشیا کی برباد ی کم ہوتی ہے۔
ان نئے اصول و ضوابط پر جب فوج کے اعلی حکام سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی تو وہ یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ جنرل راوت فوج میں کئی طرح کے تبدیلی لانے کی جانب مائل ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ جنرل صاحب یہ تمام کام حکومت کے دباؤ میں کر رہے ہیں۔
فوج صرف ملک کے تحفظ ہی کے لیے نہیں بلکہ کسی بھی سانحہ کے وقت ملک اور قوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، چاہے وہ زائرین کے ذریعہ پہاڑوں پر پر پھیلائی گئی گندگی کی صفائی ہو یا پھر کسی مصیبت میں پھنسے شہریوں کو بحفاظت نکالنا ہو۔
جنرل راوت کے ذریعہ جاری کیے گئے نئے ہدایات نامے کے بارے میں ایک اعلی فوجی آفیسر نے بتایا کہ فوج کے جوانوں کی فٹنیس اسٹینڈرڈ گر رہا ہے۔ فوج میں تیزی سےمعذوری اور دوسری بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ یہی نہیں نوجوان فوجی بی پی آئی ٹسٹ کے دوران مہلک صورتحال میں مل رہے ہیں۔
اور اسی کا اثر ہے کہ فوجیوں کے تغذیہ میں راوت نے بڑے پیمانے پر تبدیلی کی بات کی ہے اور اس میں صحت بخش اشیا غذا کو شامل کر نے کا اشارہ دیا ہے۔
Comments are closed.