انسانی حقوق کمیشن نے 13 سالہ بچی کی ہلاکت پر پولیس سے رپورٹ طلب کی

سرینگر:١١،جولائی : ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے کولگام میں بچی سمیت3افراد کی ہلاکت کے حوالے سے ریاستی پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے ،جبکہ خاص طور پر پولیس سے کہا گیا کہ وہ اپنی رپورٹ میں بتائے کہ کمسن طالبہ عندلیب کی موت کیسے ہوئی؟۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کو معلوم ہوا ہے کہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے ہائوورہ کولگام میں حالیہ دنوں پیش آئے شہری ہلاکت کے واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لیا اورریاستی پولیس سے رپورٹ طلب کی ۔ذرائع نے بتاہا کہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ ریاستی پولیس عام شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے اپنی مفصل رپورٹ پیش کرے ۔ذرائع نے بتایا کہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے پولیس سے ضلع کولگام میں فوج کی فائرنگ میں 13 سالہ کمسن لڑکی اندلیب کی ہلاکت پر رپورٹ طلب کی ہے۔وادی کشمیر میں سرگرم ایک انسانی حقوق کارکن نے ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں اس معاملے میں ایک عرضی دائر کی تھی، جس میں انہوں نے الزام عائد کیاتھا کہ فوج نے عوام پر اندھا دھند فائرنگ کی اور مکینوں کی مارپیٹ کے علاوہ مکانوں کو بھی نقصان پہنچایا۔عرضی میں کہا گیا’یہ قابل اعتراض بات ہے کہ جو خواتین پْرامن احتجاج میں حصہ لیتی ہیں، اب سیکورٹی فورسزان کو بھی نشانہ بناتے ہیں‘۔عرضی میں کمیشن سے اس معاملے کی تحقیقات جلد شروع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔عرضی میں ضلع کولگام میں ہلاک اور زخمی ہونے والے عام شہریوں کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔چنانچہ سماعت کے دوران ایس ایچ آر سی نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اپنی رپورٹ اس ضمن میں کمیشن کے سامنے جمع کرائے ۔واضح رہے کہ7جولائی کو فوج کی فائرنگ سے کمسن طالبہ سمیت 3نوجوان جاں بحق ہوئے تھے ۔جاں بحق نوجوانوں میں شاکر احمد کھانڈے ولد محمد حسین،ارشاد احمد ولد عبدالمجید اور عندلیب دختر علی محمد کو مردہ قرار دیا گیا۔تینوں کی عمر،باالترتیب،22،20اور16معلوم ہوئی ہے۔

Comments are closed.