60دنوں پرمحیط سالانہ امرناتھ یاتراکے پیش نظر ’کثیرالجہتی‘ سیکورٹی انتظامات ایک لاکھ سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی

یاتری گاڑیوں کی نگرانی کیلئے سی آرپی ایف کا’خصوصی موٹرسائیکل اسکارڈ‘تشکیل

سری نگر:۲۶،جون:کے ا 60 دنوں تک جاری رہنے والی سالانہ امرناتھ یاترا28جون بروزجمعرات سے باضابطہ طورپرشروع ہوجائیگی۔26اگست تک جاری رہنے والی اس یاتراکیلئے امسال سخت ترین سیکورٹی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں کیونکہ مختلف سیکورٹی وخفیہ ایجنسیوں نے یاترامیں خلل ڈالنے کیلئے جنگجوئیانہ حملوں کااندیشہ ظاہرکیاہے۔کے این این کے مطابق گورنرراج میں منعقدہونے والی امرناتھ یاترامیں شامل ہونے والے لاکھوں یاتریوں کی حفاظت کویقینی بنانے کیلئے مختلف سطحوں پرغیرمعمولی سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں ۔جموں سے پہلگام اوربالہ تل تک شاہراہوں ،سڑکوں ،حساس مقامات اوربیس کیمپوں کے گردونواح میں فوج ،نیم فوجی دستوں اورریاستی پولیس کے لگ بھگ پچاس ہزاراہلکارپورے دومہینوں تک سریع الحرکت رہیں گے جبکہ ریاست میں پہلے ہی تعینات لگ بھگ 25ہزاروں فورسزاہلکاروں کے علاوہ 22ہزار500اضافی پیراملٹری فورسزاہلکاربھی ہنگامی بنیادوں پرتعینات رہیں گے ۔سیول اورسیکورٹی ذرائع نے بتایاکہ مختلف سلامتی اورسراغ رساں ایجنسیوں نے یاتراکے دوران جنگجوئیانہ حملوں کااندیشہ ظاہرکیاہے ،اسلئے امسال یاتریوں کی حفاظت کیلئے ملٹی ٹائریعنی کثیردرجے والے فول پروف سیکورٹی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ یاتری گاڑیوں کی ہمہ وقت نگرانی کیلئے جموں یاتری نواس،سری نگرجموں شاہراہ،پہلگام روڑ،بالہ تل روڑاوردوسرے تمام اہم وحساس مقامات پرسیٹلائٹ سسٹم اورسی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نظررکھی جائیگی جبکہ حساس مقامات اورشاہراہوں پرہمہ وقت موبائل بُلٹ پرؤف بینکر،سونگنے والے ماہرکتے اورسریع الحرکت یعنیQuick-Reactionٹیمیں تعینات رہیں گی تاکہ کسی مشکل کے وقت یاتریوں کوفوری مددفراہم کی جاسکے ۔ذرائع کامزیدکہناتھاکہ یاترااوریاتریوں کی حفاظت پرمامورفوج ،فورسز،ریاستی پولیس ،این ڈی آرایف اورمختلف سراغ رساں ایجنسیوں کے مابین تال میل اورقریبی روابط کیلئے ایک مشترکہ کنٹرول روم رات دن کام کرتارہے گا۔انہوں نے کہاکہ ملٹی ٹائرسیکورٹی انتظامات کے تحت لگ بھگ ایک لاکھ سیکورٹی اہلکار28جون سے26اگست تک سالانہ امرناتھ یاتراکی خصوصی ڈیوٹی پرتعینات رہیں گے جن میں فوج ،فورسز،پیراملٹری فورسز،جموں وکشمیرپولیس اورنیشنل ڈیزاسٹرریسپانس فورس یعنی این ڈی آرایف کے اہلکاربھی شامل ہیں ۔ذرائع نے مزیدبتایاکہ یاتری نواس جموں سے پہلگام اوربالہ تل میں قائم یاترابیس کیمپوں تک سفرکرنے والے یاتریوں کی گاڑیوں کیساتھ سی آرپی ایف کے’خصوصی موٹرسائیکل اسکارڈ‘دستے رہاکریں گے ۔سی آرپی ایف حکام نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ یاتری گاڑیوں کی نگرانی اورحفاظت کیلئے خصوصی موٹرسائیکل واردستے تشکیل دئیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یاتریوں کی گاڑیوں کیساتھ پورے سفرمیں چھوٹی ایمولنس گاڑیاں بھی ہونگی تاکہ یاتریوں کوبوقت ضرورت فوری طبی امدادبہم رکھی جاسکے۔اسکے ساتھ ساتھ سبھی یاتری گاڑیوں اورانکی حفاظت پرمعمورسیکورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں نیزمشترکہ کنٹرول روم ے درمیان ’ریڈیوفریکوینسی‘یعنی واکی ٹاکی سیٹوں کے ذریعے ہمہ وقت رابطہ رہے گاتاکہ کوئی مشکل یاخطرہ پیش آنے کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔اس دوران معلوم ہواکہ سری نگرجموں قومی شاہراہ پرخصوصی چیک پوائنٹ قائم کئے جارہے ہیں ،جہاں فوج ،فورسزاورپولیس کے مشترکہ دستے تعینات رہاکریں گے تاکہ یہاں سے گزرنے والی یاتریوں سے بھری گاڑیوں کی حفاظت کویقینی بنایاجاسکے۔اس دوران سیکورٹی ذرائع نے بتایاکہ کشمیرواد ی میں لگ بھگ دوسوجنگجوسرگرم ہیں ،اوراُنکی جانب سے یاتریوں کونشانہ بنایاجاسکتاہے ،اسلئے یاتریوں کی حفاظت ے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لیاجائیگابلکہ یاتریوں کی حفاظت کیلئے تمام ممکنہ اقدامات روبہ عمل لائے جائیں گے۔دریں اثناء معلوم ہواکہ ساٹھ یوم تک جاری رہنے والی سالانہ امرناتھ یاترامیں شامل ہونے کیلئے ابھی تک لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ یاتریوں نے رجسٹریشن کروائی ہے ،اورآنے والے دنوں میں اس سے زیادہ یاتری رجسٹریشن کرواسکتے ہیں ۔اُدھرخبررساں ایجنسی یواین آئی کے مطابق وادی کشمیر میں سطح سمندر سے13 ہزار500 فٹ بلندی پر واقع امرناتھ گھپا کی سالانہ یاترا کے رسمی آغاز سے دو روز قبل ہی سینکڑوں کی تعداد میں یاتری اور سادھو ملک کی مختلف ریاستوں سے جموں پہنچ چکے ہیں۔ یاتریوں کا پہلا قافلہ آج یعنی27 جون کو جموں کے یاتری نواس (بیس کیمپ)سے وادی کشمیر کی طرف روانہ ہوگاجبکہ یاتراکاباضابطہ آغاز28جون کوہوگا۔ سالانہ امرناتھ یاترا لگ بھگ دوماہ ت جاری رہنے کے بعد26اگست کو رکھشا بندھن کے تہوار کے موقع پر خصوصی پوجا کے ساتھ اختتام پزیر ہوگی۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق پر مباحثہ، ہند پاک مندوب میں ٹکراؤ
پاکستان بیان بازی سے حقیقت تبدیل نہیں کرسکتا :سندیپ کمار
بھارت عالمی عالمی اصولوں کے تئیں سرد مہری اختیار نہیں کرسکتا :ملیحہ لودھی
سری نگر:۲۶،جون:کے این این/ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق پر ایک مباحثے کے دوران ہند پاک مندوب میں روایتی ٹکراؤ ہوا جس دوران بھارت نے کہا کہ پاکستان گمراہ کن بیان بازی سے اِ س حقیقت کو تبدیلی نہیں کرسکتا ہے کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ۔ ۔اقوام متحدہ میں بھارت کے فسٹ سیکریٹری سندیپ کمار بے یاپو نے کہا کہ اس طرح کے حربے ماضی میں بھی ناکام ہوئے اور مستقبل میں بھی پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔اس سے قبل اقوام متحدہ پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر مندوب لودھی نے کہا کہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں جبکہ بھارت عالمی اصولوں کے تئیں سرد مہری اختیار نہیں کرسکتا ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق پر ایک مباحثے کے دوران ہند پاک مندوب میں ایک مرتبہ پھر ٹکراؤ ہوا ۔اہم مسئلے پر بحث ومباحثے کے دوران بھارت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی طرف سے کشمیر پر دیے گیے بیانات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ میں بھارت کے فسٹ سیکریٹری سندیپ کمار بے یاپو نے کہا ہے کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے حالات کے متعلق اقوام متحدہ میں جو بیان دیا ہے وہ بے بنیاد اور حقیقت سے بعیدہے۔اقوام متحدہ میں بھارت کے فسٹ سیکریٹری سندیپ کمار بے یاپو نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اس طرح کے بیانات سے حقائق تبدیل نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اس طرح کی کوششیں اس سے قبل بھی ناکام ہوگئی ہیں۔بھارت کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت آیا جب گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے جموں کشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر پر انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ جاری کی تھی، جس کا پاکستان نے خیر مقدم کیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں تحقیقات کرنے کیلئے خیر مقدم کرے گا، بشرطیکہ بھارت جموں و کشمیر میں کشمن کو تحقیقات کرنے کی اجازت دے۔انہوں نے کہا’پاکستان کو چھپانے کے لیے کچھ نہیں، اگر بھارت کو بھی چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو انہیں بین الاقوامی ذمہ داری سے بھاگنا نہیں چاہئے‘۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے فسٹ سیکریٹری سندیپ کمار بے یاپو نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں خالی بیان بازی کے ذریعے ہی اس مسئلے کو اٹھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان اسطرح کی کوششیں کیں ،جو ناکام رہی جبکہ مستقبل میں پاکستان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی جانب سے ’انسانیت کے خلاف جرائم میں لوگوں کی حفاظت کا حق ‘پر بحث میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے پر کیا ۔ سیکریٹری سندیپ کمار بے یاپو نے کہا ’ایک دہائی میں پہلی مرتبہ ہم ایک سنجیدہ بحث کررہے ہیں ،یہ مسئلہ ہم سب کیلئے انتہائی اہم ہے ،ہم نے ایک مرتبہ پھر دیکھا کہ ایک ڈیلی گیشن نے اس پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیا ،اور بھارت کی ریاست جموں وکشمیر کی صورتحال کے حوالے سے غلط بیان بازی کی۔‘انہوں نے کہا ’میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ،پاکستان اِس حقیقت کو بیان بازی کے حربوں سے تبدیل نہیں کر سکتا ‘۔اس سے قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں انفرادی اور اجتماعی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بڑے پیمانے پر آنکھوں اور بینائی محروم کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام غیر قانونی اور جبری قبضے سے دوچار ہیں اور ایسے میں اُن پر نا قابل بیان مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت جموں وکشمیر میں اپنی فوج اور فورسز کے ہاتھوں ہورہی سنگین نوعیت کی پامالیوں اور خلاف ورزیوں کے چلتے عالمی قوانین کی بیخ کنی کا ارتکاب کرتا رہا ہے کیونکہ سنگین نوعیت کی پامالیوں کے مرتکب فورسز اہلکاروں اور عام شہریوں کے تئیں دوہرا معیار اپنا یا گیا ہے اور یہ کہ فورسز اہلکاروں کو کسی بھی سطح جواب دہ نہیں بنایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ عام شہریوں کی حفاظت و سلامتی کی بنیادی ذمہ داری نبھائے اور ذمہ داری سے منہ چرانے کیلئے بھارت کشمیر کے حوالے سے خارجی صورتحال کو بہانا بناتا رہا ہے ۔پاکستان کی خاتون مندوب کا کہناتھا کہ بھارت یا کوئی بھی دوسرا ملک عالمی اصولوں کے تئیں سرد مہری اختیار نہیں کرسکتا ہے اور نہ تاریخی حقائق اور تہذیبی قواعد سے منہ چرا سکتا ہے ۔ملیحہ لودھی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک پر لازم ہے کہ وہ عام شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کو یقینی بناتے ہوئے اس حوالے سے اپنی انسانی ذمہ داریوں کا خاص خیال رکھیں اور ایسا کرتے وقت ماضی کے حالات وواقعات سے سبق لیا جانا چاہئے ۔یاد رہے کہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ دونوں ممالک کے مندوب کشمیر کے معاملے پر ایکدوسرے سے اُلجھ پڑے ۔
مودی حکومت کی کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں
مذکرات آگے بڑھنے کا واحد راستہ ،حریت کے شاملِ مذاکرات کرنا لامی :ارون شوری
سری نگر:۲۶،جون:کے این این/ سابق مرکزی وزیر ارون شوری نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے لہٰذا حریت کو بات چیت میں شامل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ارون شوری نے الزام عائد کیا کہ اس وقت مودی حکومت کے پاس ایک ہی چال ہے کہ اس ملک کے ہندؤں اور مسلمانوں کو کس طرح تقسیم کیا جائے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز کی کتاب کی رسم رونمائی تقریب میں سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ارون شوری نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے پاس ایک ہی چال ہے جبکہ کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے مو جودہ مرکزی سرکار کے پاس کوئی پالیسی یا منصوبہ نہیں ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا’یہاں کوئی حکومت نہیں ،کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے کوئی پالیسی یا منصوبہ بھی زیر غور نہیں ہے ‘۔ان کا کہناتھا ’ہمارے کیا ہے صرف ایک چال ،جو صرف یہ جانتی ہے کہ اس ملک کے ہندؤں اور مسلمانوں کو کس طرح تقسیم کیا جائے ‘۔انہوں نے مودی حکومت کو تقریبی اور انتخابات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے صرف تقریبات کے انعقاد اور انتخابات جیتنے پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے جبکہ پالیسی اور گور ننس کی جانب تھوڑی سے توجہ دی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابقسابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈرنے دعویٰ کیا ہے کہ 2016 میں جو سرجیکل اسٹرائک ہوئی تھی وہ دراصل ’’فرضی کل اسٹرائک‘‘ یعنی فرضی تھی۔ارون شوری نے بی جے پی پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے کی گئی سرجیکل اسٹرائک اصل میں فرضی کل اسٹرائک تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ کام بھارتی افواج کرتی ہے اور حکومت خود اپنی تعریف کرتی ہے، جبکہ کشمیر اور پاکستان کے مسائل کے ساتھ ساتھ چین سے تعلقات پر حکومت کا کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔شوری نے کہا کہ کشمیری عوام کو وکٹم کارڈ کھیلنا بند کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہندو مسلمان کے درمیان دوری پیدا کرنے کیلئے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے بی جے پی کی سیاسی چال کو سمجھنا ہوگا۔انہوں نے کشمیر کے حوالے سے مذاکرات کے بغیر کوئی دوسرا متبادل نہیں لہٰذا حریت سمیت ہر ایک سے بات کرنی ہوگی ۔ان کا کہناتھا ’اگر آپ کہتے ہیں کہ حریت کو پاکستان کنٹرول کرتا ہے ،میرے خیال میں یہ ایک ٹھوس وجہ ہے کہ ہمیں اُنکے ساتھ بات کرنی چاہئے ‘۔سابق مرکزی وزیر ارون شوری نے کہا ’ہمیں حریت کو پاکستان سے دورکرنا ہوگا اور مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے ‘۔انہوں نے کہا’لہٰذا بات چیت کرو اور ہر ایک کے ساتھ بات کرو ‘۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو حریت لیڈر شپ کی نشاندہی کرنی چاہئے اور اُنکے مذاکرات میں شامل کرنا چاہئے ۔ارون شوری نے کہا ’ میں حکومت چلانے کیلئے پیسہ دیتا ہوں ،لیکن یہ پیسہ عام لوگوں تک نہیں پہنچتا ہے ،اُنہیں بنیادی سہولیات ،جیسے سڑک ،پانی ،اسپتال اور اسکول کی سہولیت فراہم نہیں ہوتی ،پیسہ کہاں جاتا ہے ،اس کا یہ مطلب ہوا کہ شورش زدہ ریاستوں نے افسران اور سیاسی یہ پیسہ ہڑپتے ہیں ‘۔ کانگریس سیف الدین سوز کی کتاب کی رسم اجرا سے دور رہی۔ کتاب کی رسم اجرا سے دوری بنانے پر ارون شوری نے کانگریس پر بھی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حزب مخالف نے آخر یہ اقدام کیوں کیے ہیں؟۔
شجاعت بخاری کا قتل ،لال سنگھ کی دھمکی
کشمیری صحافیوں نے نکالا احتجاجی مارچ
آزاد سوچ کے قاتل کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے:احتجاجی صحافی
سری نگر:۲۶،جون:کے این این/ سینئر صحافی کے قتل اور سابق وزیر لال سنگھ کی دھمکی کے خلاف کشمیری صحافیوں نے منگل کو احتجاجی دھر نا ،جس دوران احتجاجی صحافیوں نے کہا کہ آزاد سوچ کے قتل اپنے منصوبوں میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سینئر صحافی ،کالم نویس اور رائزنگ کشمیر کے مدیر اعلیٰ سیدشجاعت بخاری کے قتل اور لال سنگھ کے کشمیری صحافیوں کے تئیں دھمکی آمیز بیان کے خلاف منگل کو کشمیری صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مختلف خبر رساں اداروں سے وابستہ نامہ نگاروں ،ایڈیٹروں ،فوٹو وویڈ یو جرنلسٹوں کی ایک خاصی تعداد منگل کے روز پریس انکلیو سرینگر میں جمع ہوئی ،جہاں انہوں نے سینئر صحافی شجاعت بخاری کے قتل اور سابق وزیر وبی جے پی لیڈر لال سنگھ کے دھمکی آمیز بیان کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا ۔احتجاجی صحافیوں نے خاموش دھر نا اور سینئر صحافی سید شجاعت بخاری کے قتل کی مذمت کی ۔یہاں اپنا احتجاج درج کرنے کے بعد صحافیوں نے تاریخی گھنٹہ گھر لالچوک تک ایک احتجاجی مارچ بھی نکالا ۔احتجاجی صحافیوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ،جن پر ’صحافت کوئی جرم نہیں ہے ،ہم شجاعت کے قتل کے خلاف احتجاج کریں گے اور آزاد سوچ کے قاتل کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے ‘کے جیسے نعرے درج تھے ۔احتجاجی مارچ میں شامل صحافیوں نے اپنے منہ پر سیاہ پٹیاں باندھی تھیں ۔یہ مارچ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا ۔یاد رہے کہ 14جون کو عید سے دو روز قبل نا معلوم بندوق برداروں نے شام کے وقت سینئر صحافی سید شجاعت بخاری کو اپنے دفتر واقع پریس انکلیو سرینگر ،کے باہر گولی مار کر قتل کیا تھا ،اس واقعہ میں سینئر صحافی کے2ذاتی محافظ بھی جاں بحق ہوئے تھے ۔ریاستی پولیس نے سینئر صحافی کے قتل کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے ۔ابھی تک اس معاملے کے حوالے سے ایک مشکوک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ۔گزشتہ دونوں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا تھا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم شجاعت قتل کیس کی تحقیقات کررہی ہے اور عنقریب اس حوالے سے کامیابی حاصل ہوگی ۔ادھر بی جے پی لیڈر چودھری لال سنگھ نے کشمیر ی صحافیوں کو اپنی حد میں رہنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کٹھوعہ آبروریزی اور سینئر صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی رپورٹنگ کرتے وقت صحافیوں کو اپنی حد کا خیال ہونا چاہئے۔ سنگھ نے گزشتہ جمعہ کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھاکہ میں کشمیری صحافیوں سے کہنا چاہوں گا کہ صحافت کرتے وقت اپنی حد میں رہیں۔سنگھ نے کہا تھا ’تو اس لئے اپنی حد طے کریں ، تاکہ بھائی چارہ بنا رہے‘۔غور طلب ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب سنگھ نے تنازع کو ہوا دی ہے۔پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت میں وزیر رہ چکے لال سنگھ اپریل میں کٹھوعہ آبروریزی اور قتل کے ملزموں کی حمایت میں ہوئی ریلی میں بھی شامل ہوئے تھے، جس کے بعد ان سے استعفیٰ لے لیا گیا تھا۔اس دوران کشمیری صحافیوں نے لال سنگھ کے خلاف گورنر سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صحافیوں کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی لیڈر کی کھلے عام دھمکیوں کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے۔ صحافیوں نے کہا کہ اس سے پہلے لال سنگھ صحافیوں پر الزام لگا چکے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہی انہیں وزیر کے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔لال سنگھ کے اس بیان کی سیاسی لیڈروں نے سخت تنقید کی ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیا’ڈیئر جرنلسٹس، کشمیر میں آپ کے ساتھیوں کو ابھی بھی بی جے پی کے ایک ممبر اسمبلی نے دھمکی دی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شجاعت کی ہلاکت اب غنڈوں کے لئے ایک ایسا ہتھیار ہے ، جس کو وہ صحافیوں کو ڈرانے کے لئے استعمال کررہے ہیں‘۔ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے مطالبہ کیا ہے کہ گورنر این این ووہرا لال سنگھ کے خلاف کارروائی کرے ۔تاہم ایک اعلیٰ انتظامی افسر کا کہنا ہے کہ ریاستی اسمبلی اسپیکر کی ہدایت پر ہی لال سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے ۔
گور نر راج کشمیریوں کیلئے نان ایشو
ریاستی حکومتیں ہمیشہ دہلی سرکارکے احکامات کی تا بعدار رہیں:صلاح الدین
سری نگر:۲۶،جون:کے این این/ حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کو نسل کے چیر مین سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ گور نر راج کا نفاز اور نام نہاد منتخب حکومت کا خاتمہ، جموں و کشمیر کے عوام کے لئے غیر اہم اور نان ایشو ہے کیو نکہ ریاستی حکومت ہمیشہ دہلی سرکار کی کٹھ پتلی اور ان کے احکامات کی تا بعدار ہو تی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینئر صحافی مرحوم شجاعت بخاری کے نظریات یا سرگرمیوں کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کو قتل کا ذمہ دار قرار دینا احمقانہ ،غیر حقیت پسندانہ اور مجرمانہ سوچ کی عکاسی کرتاہے۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کو سید صداقت حسین ترجمان متحدہ جہاد کونسل کی جانب سے موصولہ بیان کے مطابق گور نر راج کا نفاز اور نام نہاد منتخب حکومت کا خاتمہ، جموں و کشمیر کے عوام کے لئے غیر اہم اور نان ایشو ہے کیو نکہ ریاستی حکومت ہمیشہ دہلی سرکار کی کٹھ پتلی اور ان کے احکامات کی تا بعدار ہو تی ہے۔ مرحوم شجاعت بخاری کے نظریات یا سرگرمیوں کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کو قتل کا ذمہ دار قرار دینا احمقانہ ،غیر حقیت پسندانہ اور مجرمانہ سوچ کی عکاسی کرتاہے۔ان خیالات کا اظہار حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کو نسل کے چیر مین سید صلاح الدین نے متحدہ جہاد کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت کی طرف سے رمضان جنگ بندی اور مزکرات کی پیشکش میں سنجیدگی و نیک نیتی کار فرما ہوتی تو جہادی قیادت کی طرف سے مثبت رد عمل ضرورسامنے آیا ہوتا۔ مزاکرات محض برائے مزاکرات کا تجربہ ماضی میں بھی بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور مستقبل میں ایسے مزاکرات کا حشر ایسا ہی ہوگا۔ مذاکرات کو با مقصد اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے مسلہ کشمیر کے زمینی اور تاریخی حقائق تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں اور اس حقیقت کا ادراک جتنا جلد ہوگا اتنا ہی عالمی امن کیلئے بہتر ہوگا۔حریت پسند عوام کے تئیں بی جے پی سر کار کا غم وغصہ اورتحریک آزادی کشمیر کو جبرو قہر سے کچلنے کے عزائم و ا قدامات خو د بھارتی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو نگے ۔گزشتہ70 سالوں سے کشمیریوں کے جزبہ آزادی کو بے پناہ طاقت اور زور و زر استعمال کرکے آزمایا گیا نتیجہ سامنے ہے ۔جذبہ آزادی میں کمی کے بجائے شدت آرہی ہے ۔اس خطے کے پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ بھارتی قیادت نوشتہ دیوار پڑھ لے اور کشمیری عوام کے جذبات و احساسات اور زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ،کشمیری عوام سے اپنی قیادت کا کیا ہوا استصواب رائے کا وعدہ پورا کرے۔جہاد کونسل کے سربراہ نے پھر ایک بار واضح کیا کہ ڈاکٹرشجاعت بخاری مرحوم کا قتل بہت ہی مزموم حرکت ہے ملوث عناصر یا ادارے بے نقاب کرنے میں کشمیر بار ایسو ایشن یا ہیومن رایٹس ادارے کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مرحوم کے نظریات یا سرگرمیوں کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کو قتل کا ذمہ دار قرار دینا احمقانہ ،غیر حقیت پسندانہ اور مجرمانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض فورسز کے ہاتھوں ڈھائے جا رہے مظالم اور انسانی حقوق کے پامالی کے نتیجے میں بہت بڑا انسانی المیہ واقعہ ہو سکتا ہے ۔ عالمی اداروں اور طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی قابل تشویش ہے ۔پاکستان بنیادی فریق کی حثیت سے روایتی نیم جان کوششوں سے بڑ کر بھر پور سفارتی مہم جوئی کے ذریعے عالمی برادری کو کشمیر کی المناک صورت حال کی طرف متوجہ کر نے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے۔اجلاس کے آخیر پر ھفتہ رفتہ کے شہداء کی بلندی درجات اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی گئی۔
کاکہ پورہ اورسامبورہ میں شبانہ چھاپے
پوچھ تاچھ کیلئے نصف د رجن نوجوان گرفتار
پلوامہ:۲۶،جون:کے این این/ جنوبی ضلع پلوامہ میں گرفتاریوں کاسلسلہ جاری رکھتے ہوئے پولیس اورفورسزنے دوران شب نصف درجن نوجوانوں کوحراست میں لے لیا۔کے این این کومعلوم ہواکہ احتجاجی مظاہروں ،سنگبار ی کے واقعات اورجنگجوئیانہ سرگرمیوں میں مبینہ طورپرملوث افرادبالخصوص نوجوانوں کی پکڑدھکڑکاسلسلہ تیزکردیاگیاہے ۔اس سلسلے میں پولیس اورفورسزکے مشترکہ دستوں نے سومواراورمنگل وار کی درمیانی شب ضلع پلوامہ کے کاکہ پورہ اورسامبورہ علاقوں میں کئی مکانات میں چھاپے ڈالے ،اوران چھاپوں کے دوران 6نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔ایس ایس پی پلوامہ محمداسلم چودھری نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ نصف درجن نوجوانوں کوپوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیاگیا۔انہوں نے کہاکہ کاکہ پور ہ علاقہ سے تین نوجوان حراست میں لئے گئے اوراُن سے ضروری پوچھ تاچھ کی جائیگی ۔اُدھرگرفتارشدگان کے اہل خانہ نے دعویٰ کیاکہ حراست میں لئے گئے نوجوان ے قصورہیں اوروہ کسی غیرقانونی یاامن مخالف سرگرمی میں شامل نہیں رہے ہیں ۔
بانڈی پورہ،ہندوارہ،سر ی نگراوراکھنورمیں دلخراش حادثات
شیرخواربچے اورجواں سال بھائی بہن سمیت5افرادلقمہ اجل
سری نگر،جموں:۲۶،جون:کے این این/ کلوسہ بانڈی پورہ میں پیش آئے ایک المناک واقعے میں ایک 2سالہ بچہ گھرکے صحن میں موجودپانی کے کھڈے میں ڈوب کرلقمہ اجل بن گیا۔کے این این کے مطابق 2سالہ کامل یوسف گنائی ولدمحمدیوسف ساکنہ کلوسہ بانڈی پورہ گھرکے صحن میں کھیل رہاتھاکہ اس دوران پیرپھسل جانے کے باعث یہ شیرخواربچہ آنگن میں موجودپانی سے بھرے کھڈے میں گرگیا۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ قبل اسکے افرادخانہ اس شیرخوارکوپانی کے کھڈے سے باہرنکال لیتے ،وہ دم گھٹ جانے کے نتیجے میں لقمہ اجل بن چکاتھا۔اس دلخراش واقعے کے باعث پورے علاقہ میں غم واندوہ کی لہردوڑگئی ۔پولیس ذرائع کاکہناتھاکہ کمسن بچے کی نعش کوضروری لوازمات کے بعدغمزدہ لواحقین کے سپردکیاگیا،جسکے بعداسکی آخری رسومات انجام دی گئیں ۔اس دوران شمالی قصبہ ہندوارہ کے ایک مضافاتی گاؤں سوڈل شہلال میں ایک ٹریکٹر اُلٹ جانے کے نتیجے میں ٹریکٹرڈرائیورکی موت واقعہ ہوئی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ جاویداحمدخان ولدمحمدافضل ساکنہ للم تارتھ پورہ اپناٹریکٹرلیکرجارہاتھاکہ سوڈل شہلال میں ٹریکٹراچانک الٹ گیا۔اس حادثے میں ٹریکٹرڈرائیورکی موت واقعہ ہوئی جبکہ عبدالعزیزچوپان نامی شخص شدیدزخمی ہوگیا،جسکواسپتال منتقل کیاگیا۔ہندوارہ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ۔اُدھرسری نگرمیں سوموارکی شام ایک حادثے میں ایک خاتون کی موت واقعہ ہوئی ۔معلوم ہواکہ جواہرہ بیگم ساکنہ خانیارکوایک تیزرفتارٹپرنے شدیدٹکرمارد ی ،جسکے نتیجے میں مذکورہ خاتون کی موت واقعہ ہوئی ۔ڈرائیورموقعہ ملتے ہی جائے واردات سے ٹپرلیکربھاگ گیا۔خانیارپولیس تھانہ نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے ٹپرڈرائیورکی تلاش شروع کردی ۔دریں اثناء صوبہ جموں کے اکھنور قصبے میں جواں سال بھائی بہن سیلفی لینے کے دوران دریائے چناب میں ڈوب گئے۔معلوم ہواکہ 25سالہ سنجے اوراُسکی 18سالہ بہن سنجناساکنان گنگاگاؤں ریاسی سیروتفریح کیلئے اکھنورآئے تھے اورسوموارکے روزجب یہ دونوں بھائی بہن یہاں دریائے چناب کے کنارے سیلفی لے رہے تھے تودونوں پھسل جانے کے باعث چناب میں ڈوب گئے ۔معلوم ہواکہ 18سالہ سنجنا کی لاش سوموارکو رات دیرئے دریا سے بر آمد کی گئی جبکہ سنجے کی لاش اب تک نہیں مل سکی تھی ۔
حاجن بازارمیں صبح صبح افراتفری
فوج کی گشتی پارٹی پرنوجوانوں کی سنگباری
حاجن:۲۶،جون:کے این این/ ضلع بانڈی پورہ کے حساس قصبہ حاجن میں منگل کی صبح اُسوقت خوف وہراس کی لہردوڑگئی اورتاجراپنے دکانات کھلے چھوڑکربھاگ گئے جب یہاں فوج کی ایک گشتی پارٹی پرنوجوانوں کے ایک گروپ نے اچانک پتھر بازی شروع کردی۔کے این این کومعلوم ہواکہ حاجن قصبہ میں منگل کی صبح اسوقت افراتفری پھیل گئی جب یہاں کچھ نوجوانوں نے فوج کی ایک گشتی پارٹی پرسنگ برسانے شروع کئے ۔پولیس ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ 13آرآرسے وابستہ فوجی اہلکاروں کی ایک پارٹی معمول کے گشت سے واپس اپنے کیمپ کی جاب جارہی تھی توحاجن بازارکے نزدیک کچھ شرپسندوں نے سنگباری شروع کردی ۔ذرائع نے بتایاکہ طرفین کے درمیان کچھ وقت تک ٹکراؤجاری رہا۔اُدھرمقامی لوگوں نے الزام لگایاکہ سنگباری کامعمولی واقعہ پیش آنے کے بعدفوجی اہلکاروں نے دکانات کاسامان تہس نہس کرکے خوف ودہشت مچادی تاہم پولیس نے لوگوں کے اس الزام کونکاردیا۔
پٹن پولیس کی منشیات فروشوں کیخلاف مہم
اسمگلرنشہ آورادویات کی بھاری کھیپ سمیت گرفتار
پٹن:۲۶،جون:کے این این/ پٹن پولیس نے ایک اچانک کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ایک عادی منشیات فروش کونشہ آورادویات سے بھری درجنوں بوتلوں سمیت دبوچ لیا۔کے این این کوپولیس ذرائع نے بتایاکہ تھانہ پولیس پٹن کی ایک ٹیم نے منگل کے روزسری نگربارہمولہ شاہراہ پرزنگم پٹن کے نزدیک اچانک گاڑیوں کی چیکنگ شروع کردی ،اوراس دوران یہاں سے گزرنے والے ایک موٹرسائیکل زیرنمبرJK05E-5986کوروک کر اسکی تلاشی لی گئی ۔ذرائع نے بتایاکہ تلاشی کے دوران موٹرسائیکل پرسوارشخص سے بڑی مقدارمیں نشہ آورادویات سے بھری بوتلیں برآمدکی گئیں ۔ذرائع نے بتایاکہ موٹرسائیکل سوار فرو ش محمداقبال بٹ ولدمحمدمقبول ساکن رمبل ہارترٹھ سنگھ پورہ پٹن کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جوکہ ایک عادی اوربدنام منشیات فروش ہے۔پولیس ذرائع کاکہناتھاکہ موٹرسائیکل کوضبط کرنے کیساتھ ساتھ منشیات فروش کوسلاخوں کے پیچھے ڈالدیاگیا،اوراُس کیخلاف پولیس تھانہ پٹن میں ایف آئی آرزیرنمبر130/2018زیردفعہ8/22این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کیس درج کیاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ گرفتارمنشیات اسمگلرسے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے تاکہ اُسکے مزیدساتھیوں کاسراغ لگایاجاسکے ۔انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل کی زندگیو ں اورمستقبل کوتباہ کرنے والے منشیات فروشوں کیخلاف مہم جاری رہے گی ۔
مناظرہ بازی وحدت اُمت کیلئے سم قاتل
کم فہم مولوی صاحبان اغیار کی سازش کا شکار نہ ہوں : ڈاکٹر عبداللطیف الکندی
سری نگر:۲۶،جون:کے این این/ ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث جموں وکشمیر ڈاکٹر عبداللطیف الکندی نے کہا ہے کہ مناظرہ بازی وحدت اُمت کیلئے سم قاتل کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ کم فہم مولوی صاحبان اغیار کی سازش کا شکار نہ ہوں۔اس سلسلے میں کے این این کو موصولہ ایک تحریری بیان کیمطابق ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث جموں وکشمیر ڈاکٹر عبداللطیف الکندی نے کہا کہ اس وقت اُمت مسلمہ عالمی سطح پر اغیار کی ریشہ دوانیوں ، سازشوں اور تفرقہ بازیوں کی شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ عرب وعجم آپسی سر پھٹول سے دوسروں کے ایجنڈوں کو زیادہ تقویت دے کر اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے عمل سے دوچار ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ایسے میں علماء ربانین ، دینی تنظیموں ، دعاۃ وخطباء اور دانشوارن ملت اور میڈیا سے وابستہ ہر فرد پر وحدت اُمت کے تحفظ کے لئے انتہائی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیچ کالی بھیڑوں سے اپنی صفوں کو پاک وصاف کریں اور نادان دوستوں کی نازیبا حرکات، مناظرہ بازیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ سے تکفیر وتبدیع اور چیلنج دینے کے رجحان کو ختم کرکے اُمت مسلمہ کی زبوں حالی پر ترس کھائیں اور اسی طرح کے افراد کو ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرکے استحکام اُمت میں اپنا تعمیری ، کلیدی رول نبھائیں۔۔انہوں نے کہا ایک طرف قوم کا ایک طبقہ آپسی سرپھٹول میں ملوث ہے تو دوسری طرف سے دلی کی فضائی چینلیں ہمارے قائدین ، خطباء ،دانشوروں اور دینی تنظیموں کے خلاف اُدھار کھائے بیٹھی رات دن بحثکے نا پر تعصب اور نفرت کی ایسی فضاء تیارکرتی ہیں کہ جس سے شرافت اور تہذیب دم توڑتی نظر آتی ہے۔ اور اُمت مسلمہ کے خلاف ان کے اندرونی بغض ونفرت کو اُجاگر کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جہاں اس طرح کے نفرت انگیز پروپیگنڈے کا توڑ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وہیں اُمت سے جڑے تمام طبقہ جات کو اس کی مذمت کیلئے آگے آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف قوم مسلم کے اندر مناظرہ کے پنپتے رجحان کا قلع قمع کرنے کیلئے علماء ،دانشوروں ،خطیبوں اور دینی تنظیموں کو اپنا کلیدی رول ادا کرنا چاہیے۔بیان کے مطابق ناظم اعلیٰ نے جمعیت سے جڑے ائمہ ودعاۃ اور خطباء سے بھی مرکزی نظم کی پاسداری کرتے ہوئے اس طرح کی سرگرمیوں سے اجتناب اور غیروں کی چیلنج بازیوں پر صبر وتحمل سے کام لینے کی تاکید کی ہے۔
امیت شاہ کا بیان کشمیر دشمنی ، بغض اور حسد کا مظہر
بی جے پی سیاسی مفادات کی خاطر جموں وکشمیر کو تقسیم کرنے کی درپے :بیگم خالدہ شاہ
سری نگر:۲۶،جون:کے این این/ جموں میں بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے خطاب کو کشمیر دشمنی ، بغض اور حسد کا مظہر قرار دیتے ہوئے عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سیاسی مفادات کی خاطر جموں وکشمیر کو تقسیم کرنے کی درپے ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں امیت شاہ جیسے کچھ نادان دشمنانِ حق اس ریاست سے صوبہ کشمیر کو مٹانے کی ناکام کوشش بھی کرسکتے ہیں۔پارٹی کی جانب سے کے این این کوبھیجے گئے ایک تحریری بیان میں عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے کہا کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ یہ حقیقت اپنے ذہن و قلب میں پوری طرح پیوست کرلیں کہ کشمیرمیں شیخ محمد عبداللہ خاندان کی موروثی حیثیت اْس وقت سے عیاں اور زبان زد خلائق تھی جب امیت شاہ شاید پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔بیان کے مطابق انہوں نے بی جے پی کے صدر امت شاہ کے جموں کے اپنے حالیہ دورے کے دوران ایک عوامی جلسہ میں اْن کی اِس کذب بیانی اور دورغ گوئی کے ردعمل میں کیا جس میں امیت شاہ نے بی جے پی کی کشمیر دشمنی کا بغض اور حسد کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیخ خاندان کی جائیداد کو اچھالنے کی ناکام کوشش کی اور ساتھ ہی صوبہ جموں کو صوبہ کشمیر سے لڑانے کی سامراجی ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے فرقہ پرستی اور صو بائی پرستی کا زہر یلی بیج بونے کا شرمناک مظاہرہ کیا ۔بیگم خالدہ شاہ نے کہا کہ بی جے پی میں امیت شاہ جیسے کچھ نادان دشمنانِ حق اس ریاست سے صوبہ کشمیر کو مٹانے کی ناکام کوشش بھی کرسکتے ہیں اپنے دلوں میں کشمیریوں کی نفرت ظاہر کرنے کے لئے اس وہم و خیال کا پر و پگنڈہ بھی کر سکتے ہیں اور قتل و غارت گری کا کھیل بھی کھیل سکتے ہیں ۔ حکمرانی طاقت کے بل بوتے پر کشمیر کو معاشی طور پر تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن امیت شاہ اگر اقتدار اور اختیار کے نشے میں یہ سوچتے ہیں کہ وہ کشمیر کا وجود ختم کرسکتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کے ذہن و فکر مفلوج ہو چکے ہیں اور اْن کے نا پاک عزائم کے اس خواب کی تعبیر کبھی نہیں نکل سکتی ہے۔بلکہ اس ریاست کے تینوں خطوں کی سا لمیت، یکسانیت اور یکسان ترقی کے مواقع جاری و ساری رہیں گے آپ نے کہا کہ امیت شاہ کو معلوم نہیں کہ مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے جیل کی قربانیوں سے اس ریاست کو بہت کچھ دیا ہے سنوار اور سدھارا ہے اور شخصی آمریت کی آگ بجھاکر جمہوریت کی شمعیں روشن کی ہیں۔آپ نے کہا کہ خدائے واحد کی مرضی اور منشاء سے کشمیر کے وجود کو امیت شاہ کی یلغار سے انشاء اللہ کوئی گزند نہیں پہنچے گی۔ عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے ایک اور بیان میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی سابقہ وزارت سے بر طرف کے گئے بی جے پی کے سابق وزیر چوہدری لال سنگھ کی جانب سے کشمیر کے صحافیوں کے خلاف ڈراونا اور دھمکی آمیز بیان قابل مذمت ہے ۔ آپ نے کہا کہ پریس کے خلاف اس بیان سے جہاں لال سنگھ کی وزارت کی کرسی سے محروم ہو جانے کی بوکھلاہٹ کا ثبوٹ ملتا ہے وہیں صحافیوں کے خلاف اْن کا بیان حفاظتی سر براہوں کو فوری طور توجہ دینے کی دعوت دیتا ہے تاکہ کشمیر میں پریس سے وابستہ صحافیوں کے خلاف مستقبل میں لال سنگھ کے عزایم کی پیش بندی ہو سکے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ چوہدری لال سنگھ نے 23 جون 2018کو اپنے ایک بیان میں کشمیری صحافیوں کو وارننگ دی ہے کہ وہ صحافی شجاعت بخاری کے قتل سے سبق سیکھ لیں اور فیصلہ کریں کہ انہیں کیسے رہنا ہے ایسے رہنا ہے جیسے شجاعت بخاری کا حشر ہو ا ہے۔چوہدری لال سنگھ کٹھوعہ جموں میں آٹھ سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل کی واردات کی خبر کشمیر کے اخبارات میں شائع ہونے پر شدید غصہ میں ہے اسی لئے کشمیر کے صحافیوں کو چوہدری لال سنگھ صحافی بشارت بخاری جیسے قتل کی خوف دہی سے مرعوب کرنا چاہتے ہیں جو 14 جون2018 کی شام نا معلوم بندوق بر داروں نے پریس کا لونی سرینگر میں اپنے دفترکے باہر نزدیک سے گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کر دیا- ین این/

Comments are closed.