محبوبہ مفتی بنام امیت شاہ:جموں یالداخ سے کوئی امیتازنہیں کیا،الزامات غلط، ایجنڈآف الائنس: بی جے پی نے کیا انحراف

لال سنگھ کی کشمیری صحافیوں کو دھمکی باعث تشویش،بھاجپاکیاکوئی ایکشن لے گی

سری نگر:۲۴،جون: سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے یہ واضح کردیاکہ اُن کے دورمیں جموں اورلداخ کیساتھ کوئی نابرابر ی
یاامتیازنہیں برتاگیاجبکہ کشمیروادی کی طرح ریاست کے ان دونوں خطوں میں بھی ترقیاتی عمل کوآگے بڑھایاگیا۔کے این این کے مطابق محبوبہ مفتی نے بھاجپاصدرامیت شاہ کے الزامات کویکسرمستردکرتے ہوئے سماجی رابہ گاہ ٹویٹرپرلکھے ایک ٹویٹ میں کہا’’جموں اورلداخ سے امتیازبرتنے کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘۔محبوبہ مفتی نے مزیدتحریرکیا’’ہاں ۔کشمیروادی میں نامساعدحالات کے طویل دوراورسال2014کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے کوکافی نقصان پہنچااورتعمیراتی وترقیاتی عمل بھی رُک گیا،اسلئے وادی پرتوجہ مرکوزکی گئی لیکن اسکاقطعی یہ مطلب نہیں کہ جموں یالداخ میں کم ترقی ہوئی اوران دونوں خطوں کی جانب توجہ نہیں دی گئی‘‘۔سابق وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے ایک اورٹویٹ میں لکھا’’سابق اتحادی جماعت(بی جے پی)کی جانب سے کئی غلط الزامات عائدکئے جارہے ہیں ،میں یہ واضح کردیناچاہتی ہوں کہ پی ڈی پی ،بی جے پی متفقہ ایجنڈاآف الائنس جسکومرتب کرنے اورلکھنے میں رام مادھواورہماری جماعت کے کچھ لیڈروں کارول تھا،کی مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ جی سمیت بھاجپاکے کئی لیڈروں نے توثیق کی ‘‘انہوں نے کہاکہ ایجنڈآف الائنس سے پی ڈی پی نے نہیں بی جے پی نے انحراف کیا۔محبوبہ مفتی نے امیت شاہ اوردوسرے بھاجپالیڈران کے اس الزام کہ مخلوط سرکارنے علیحدگی پسندوں ،جنگجوؤں اورسنگبازوں کے تئیں نرم رویہ اختیارکیاتھا،کوخارج کرتے ہوئے واضح کیاکہ پاکستان اورحریت لیڈروں کیساتھ مذاکراتی عمل کی حوصلہ افزائی کرنے ،دفعہ 370کیساتھ نہ چھیڑنے ،سنگبازنوجوانوں کیخلاف کیس واپس لئے جانے اوررمضان سیزفائرجیسے اقدامات پردونوں جماعتیں متفق تھیں تاکہ جموں وکشمیرمیں زمینی سطح پراعتمادکی فضاء کوبحال کیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ آج سابق اتحادی جماعت کے لیڈرجوکچھ بھی کہہ رہے ہیں ،اُس میں کوئی صداقت نہیں کیونکہ میری سربراہی والی سرکارکے ہرفیصلے میں بھاجپاکی مرضی شامل رہی ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ سیاسی عمل ہویاکہ مذاکراتی پیشکش،بحالی امن واعتمادسے جڑے اقدامات ہوں یاکہ ریاست میں تعمیراتی وترقیاتی عمل ،ہرمعاملے میں پی ڈی پی اوربی جے پی ملکرفیصلہ لیاکرتی تھیں ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ آج اگربھاجپالیڈرجموں کیساتھ امتیازبرتنے کی باتیں کرتے ہیں توانھیں اس خطے میں بنیادی سطح پرہوئی ترقی کودیکھناچاہئے۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا’’بھاجپالیڈروں جموں سے تعلق رکھنے والے اپنے وزیروں کی کارکردگی کاخودجائزہ لیناچاہئے ،اوراگران وزیروں کوکوئی خدشات ہوتے تووہ اسکااظہارکرتے لیکن گزشتہ تین برسوں میں مخلوط سرکارکی کابینہ میں شامل بھاجپاسے تعلق رکھنے والے وزیروں نے کبھی ریاستی یامرکزی سطح پرکوئی بات کی اورنہ کوئی شکایت‘‘۔انہوں نے کہاکہ زمینی صورتحال اورحقائق اسبات کاثبوت ہیں کہ جموں یالداخ کیساتھ پچھلے تین برسوں میں کوئی امتیازنہیں برتاگیابلکہ ترقیاتی اورتعمیراتی عمل میں ان دونوں خطوں کی جانب بھی بھرپورتوجہ دی گئی ۔محبوبہ مفتی نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے یہ اُنکی ذمہ داری تھی کہ کٹھوعہ آبروریزی اورقتل کیس کوسی بی آئی کے سپردنہ کیاجائے ،ملزمان کے حمایتی وزیروں کونکال باہرکرؤں ،گوجراوربکروال طبقہ کی حفاظت کویقینی بناؤں ۔ سابق وزیراوربھاجپالیڈرچودھری لعل سنگھ کی جانب سے کشمیری صحافیوں کودی گئی دھمکی پرسخت ردعمل ظاہرکرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے تحریرکردہ ایک ٹویٹ میں کہا’’یہ بات واقعی تشویشناک ہے کہ بھاجپاکے ایک بدنام ممبراسمبلی جسکوسانحہ کٹھوعہ کے بدسزابھی دی گئی ،کشمیری صحافیوں کودھمکی دی ہے،اورمیں پوچھناچاہتی ہوں کہ بھاجپالال سنگھ کیخلاف کیاایکشن لیتی ہے؟‘‘۔محبوبہ مفتی نے ریاستی گورنراین این ووہراکیساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے حوالے سے ایک ٹویٹ میں لکھا’’میں نے رہنمائی اورتعاون کیلئے گورنرکاشکریہ کیااوراُن کے تئیں نیک خواہشات کااظہاربھی کیا‘‘۔محبوبہ مفتی کے بقول انہوں نے گورنرپرزوریاکہ دفعہ370اورآرٹیکل 35-Aکی حفاظت کویقینی بنایاجائے ،جن کے بارے میں کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہیں ۔ کے این این/

Comments are closed.